نقشِ نعلین، شبیہات اور منسوب تبرکات سے تبرک کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

ایک جھوٹے نقش پا کا قصہ

حال ہی کا واقعہ ہے۔ موضع ”دھرابی“ ضلع چکوال میں ایک شخص نے دعوی کیا کہ میرے گھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک قدم کا نشان باقی ہے۔ لوگ قافلوں کی صورت میں وہاں پہنچے، لیکن بہت جلد اس جھوٹے دعوی کی قلعی کھل گئی۔
ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ تبرکات کا تعلق دین اور عقیدہ سے ہے، انہیں لوگوں کے رحم و کرم پر مت چھوڑا جائے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آثار نبوی کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور ڈر مد نظر رکھنا چاہیے، احتیاط کا دامن نہ چھوڑا جائے۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا مسئلہ بڑا سخت ہے، یہ جھوٹے دعوے روز قیامت وبالِ جان بن جائیں گے۔

تبرکات نبویہ کی تشبیہ :

آثار نبویہ سے تبرک حاصل کرنا حق ہے، مگر تبرک اس طریقہ سے حاصل کیا جائے، جیسے صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین حاصل کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے تبرکات کی شبیہات بنا رکھی ہیں۔ اسی طرح نعلین کریمین کی فرضی اور مصنوعی تصاویر جھنڈیوں کی زینت بنتی ہیں۔
اولاً تو جن نعلین کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی گئی ہے، وہ نسبت ثابت ہی نہیں۔
ثانیاً آثار نبویہ کی فرضی تصاویر اور تشبیہ سے تبرک حاصل کرنا بری بدعت ہے۔ صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین اس سے ناواقف تھے۔ خیر القرون میں اس کا کوئی ثبوت نہیں۔ یہ ایجاد دین اور غلو ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کا ہرگز یہ تقاضا نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار کی شبیہ بنالی جائے ، اس فرضی تصویر اور شبیہ کی وہی تعظیم و تکریم بجا لائی جائے ، جو اصلی تبرکات کی بھی جائز نہیں۔ تبرکات کی تصویر بدعت اور منکر ہے۔ یہ شرک تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرنے کے مترادف ہے۔ اگر کوئی دلیل کا طلب گار ہو، تو اسے گستاخ کہہ دیا جاتا ہے۔ اگر کوئی ان تصاویر اور شبیہات کو مصنوعی اور فرضی کہہ دے، تو اسے طرح طرح کے فتوؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اگر کوئی فرضی تصاویر کو ختم کر دے تو اسے گستاخ رسول قرار دیا جاتا ہے، بلکہ اس کے خلاف شور برپا کیا جاتا ہے۔

آثار نبویہ کی شبیہات اور اسلاف امت :

◈ جناب احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں :
بالجملہ مزار اقدس کا نقشہ تابعین کرام اور فعل مبارک کی تصویر تبع تابعین اعلام سے ثابت اور جب سے آج تک ہر قرن و طبقہ کے علما وصلحا میں معمول و رائج، ہمیشہ اکابر دین ان سے تبرک اور ان کی تکریم تعظیم رکھتے آئے ہیں۔
(شفاء الوالة في صور الحبيب و مزاره ونعاله، مندرج في فتاوى رضوية : 456/2)
تابعین اور اکابر دین کی طرف اس بات کی نسبت کو اگر نرم سے نرم الفاظ میں بھی بیان کیا جائے ، تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک بے حقیقت بات ہے، جس کا ثبوت قیامت تک ممکن نہیں۔

نعلین کی شبیہ پر ایک دلیل کا جائزہ :

◈ ملاحظہ فرمائیں :
قال عبد العزيز : وأخرج إلى أبو طالب عبد الله بن الحسن تمثالا، فذكر أن أبا بكر محمد بن عدي بن على بن زحر المنقري أخرج إليه تمثالا، فذكر أن أبا عثمان سعيد بن الحسن بن على التستري أخرج إليه تمثالا، فذكر أنه تمثال لنعل رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأن أحمد بن محمد الفزاري أخرج ذلك إليه بأصبهان وحدثه به، قال : ونا أبو طالب، قال : وحدثني محمد بن عدي بن على بن زحر المنقري : حدثني سعيد بن الحسن التستري بتستر : أنا أحمد بن محمد ألفزاري، قال : قال أبو إسحاق إبراهيم بن الحسن، قال : قال أبو عبد الله إسماعيل ابن أبى أويس، واسم أبى أويس؛ عبد الله بن عبد الله بن أويس ابن مالك بن أبى عامر الأصبحي ، قال : كانت نعل رسول الله صلى الله عليه وسلم الذى حذيت هذه النعل على مثالها؛ عند إسماعيل بن عبد الله بن أويس الحذاء، فحذا مثال هذا النعل بحضرته على مثال نعل رسول الله صلى الله عليه وسلمثلها سواء، ولها قبالان .
ابوعبد اللہ اسماعیل اصجی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین مبارک اسی طرح کے تھے ، جس طرح اسماعیل بن عبد اللہ بن اولیس موچی کے پاس ان کی بنی ہوئی شبیہ تھی۔ اس (اسماعیل موچی) نے ان کے سامنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے جیسے جوتے بنائے ، جن کے دو تسمے تھے۔
(تاريخ دمشق لابن عساکر : 362/27-363)
یہ روایت ایک جھوٹا سلسلہ ہے، کیونکہ :
➊ ابو طالب عبد اللہ بن حسن بن احمد بن حسن بصری کی توثیق نہیں مل سکی۔
➋ ابو بکر محمد بن عدی بن علی بن عدی منقری بصری کی توثیق درکار ہے۔
➌ ابو عثمان سعید بن حسن بن علی تستری کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
➍ احمد بن محمد فزاری کا تعین اور توثیق مطلوب ہے۔
سند پر نامعلوم اور مجہول راویوں کا قبضہ ہے اور یہ انہی میں سے کسی کی کارستانی ہے۔ معلوم ہوا کہ آثار نبویہ کی شبیہات کے جواز پر بیان کی گئی روایت ایک من گھڑت روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نعلین کی تصویر بنا کر اور اس کے جھوٹے فوائد بیان کرنا دین میں دخل اندازی ہے۔

قبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی شبیہ :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر یا حجرہ عائشہ کی شبیہ بنا کر اس کی تکریم و تعظیم کرنا قبیح بدعت ہے، اس کا موجد کون تھا ؟ کچھ معلوم نہیں، کسی ثقہ مسلمان سے ایسا کرنا قطعاً ثابت نہیں۔
◈ جناب احمد رضا خان صاحب نے لیکن لکھا ہے :
رہا نقشہ روضہ مبارکہ، اس کے جواز میں اصلاً مجال سخن و جائے دم زدن نہیں، جس طرح ان تصویروں کی حرمت یقینی ہے، یوں ہی اس کا جواز اجماعی ہے۔
(فتاوی رضویہ : 439/21)
یہ کسی اہل سنت مسلمان سے بھی ثابت نہیں، چہ جائیکہ اس پر اجماع ہو۔

قبر نبوی سے تبرک اور سلف صالحین :

یہاں یہ بھی یاد رہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تبرکات میں سے نہیں ہے، مبارک ضرور ہے، کیونکہ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدفون ہیں، متبرک اس لیے نہیں کہ صحابہ کرام اور خیر القرون میں کوئی اس کا قائل نہیں۔
بعض لوگ بلا دلیل قبر مبارک سے تبرک کا جواز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
◈ علامہ سبکی رحمہ اللہ (م : 756ھ) لکھتے ہیں :
ان معلوما من الدين وسير السلف الصالحين التبرك ببعض الموتى من الصالحين، فكيف بالأنبياء والمرسلين، ومن ادعى أن قبور الأنبياء وغيرهم من أموات المسلمين سواء، فقد أتى أمرا عظيما نقطع ببطلانه وخطئه فيه، وفيه حط لمرتبة النبى إلى درجة من سواه من المؤمنين، وذلك كفر بيقين، فإن من حط رتبة النبى عما يجب له، فقد كفر، فإن قال : إن هذا ليس بحط، ولكنه منع من التعظيم خوفا كما يجب له، قلت : هذا جهل وسوء ادب .
”دين اور سلف صالحین کی سیرت سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بعض نیک فوت شدگان سے تبرک حاصل کرنا جائز ہے، تو انبیا اور رسولوں سے کیوں جائز نہیں؟ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انبیائے کرام کی قبریں اور عام مسلمانوں کی قبریں برابر مقام رکھتی ہیں، اس کے دعوے کے غلط اور باطل ہونے پر ہمیں یقین ہے۔ جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو عام مسلمان کے برابر سمجھا، تو یقیناً یہ کفر ہے اور جس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام و مرتبہ کم کیا، یقینا اس نے بھی کفر کیا۔ اور اگر وہ کہے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام کو گھٹانا نہیں ہے، بلکہ تعظیم میں مبالغہ سے روکنے کے لیے ہے، تو میں کہتا ہوں کہ یہ جہالت اور بے ادبی ہے۔“
(شفاء السقام في زيارة خير الأنام ص : 312)
دین اسلام یا خیر القرون کے سلف صالحین میں کسی سے قبروں سے تبرک حاصل کرنا ثابت نہیں۔ رہا انبیا ومرسلین کی قبروں سے تبرک حاصل کرنا، تو یہ بھی دین میں نئی بات ہے۔ صحابہ کرام، تابعین عظام اور تبع تابعین اعلام سے ایسا کرنا ثابت نہیں۔ وہ دین ہی کیا، جو خیر القرون میں موجود نہیں تھا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عام مسلمان آدمی کی قبر کو کوئی مسلمان برابر نہیں سمجھتا۔ یہ محض بد گمانی ہے۔ بھلا کوئی سچا مسلمان کیسے سمجھ سکتا ہے کہ ایک قبر مبارک میں پیغمبر کا جسد اقدس ہو، دوسری میں عام امتی کا ، تو دونوں قبریں برابر مقام رکھتی ہوں؟ ہاں! عدم تبرک میں قبر رسول اور قبر امتی کا مسئلہ ایک جیسا ہے، قبر رسول مبارک ہے، متبرک نہیں۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں نقص کا کوئی پہلو نہیں، تعظیم وہی ہے، جسے قرآن وحدیث میں بیان کیا گیا ہو اور خیر القرون میں جسے اپنایا گیا ہو، اس بات میں جہالت یا سوء ادب کا شائبہ تک نہیں۔
قبر نبوی سے عدم تبرک کے قائلین کو جہالت یا سوء ادب کا طعنہ دینا، دراصل سلف صالحین کو مطعون کرنے کی کوشش ہے۔ سلف صالحین میں سے کسی ایک ایسے شخص کا نام بتایا جائے ، جو قبر نبوی سے تبرک کا قائل و فاعل ہو۔ اگر ایسا ممکن نہیں ، تو انصاف سے بتایا جائے کہ قبروں سے تبرک کا نظریہ سلف صالحین کے اجماعی عقیدہ کی مخالفت نہیں؟

نقش نعلین سے تبرک :

نقش نعلین سے تبرک بھی بدعت ہے، کیونکہ نقش نعلین بذات خود منکر اور بدعت ہے، جیسا کہ آپ نے معلوم کر لیا ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس محفوظ تھے۔
◈ عیسیٰ بن طہمان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أخرج إلينا أنس نعلين جرداوين، لهما قبالان، فحدثني ثابت البناني بعد، عن أنس، أنهما نعلا النبى صلى الله عليه وسلم .
”انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہمارے پاس بغیر بالوں کے چمڑے والے دو جوتے لائے، جن کے دو تسمے تھے۔ اس کے بعد مجھے ثابت بنانی رحمہ اللہ نے انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بتایا کہ وہ نعلین کریمین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے۔“
(صحیح البخاري : 3107)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بعد یہ مبارک جوتے کس کے پاس تھے، اس کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ لہذا آج کل جو لوگ نعلین کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہ نسبت غلط ہے۔ جب یہ نسبت ثابت نہیں، تو نقش نعلین بنا کر اسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک جوتوں کا نقش قرار دینا یقیناً جرم عظیم ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ آثار نبویہ سے جیسے صحابہ کرام نے تبرک حاصل کیا، ویسے ہی تبرک حاصل کرنا جائز ہوگا۔ بعض لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب نعلین کا فرضی و مصنوعی نقشہ بنا رکھا ہے، اس کے جھوٹے فوائد بتائے جاتے ہیں، جھوٹے تجربات بیان کیے جاتے ہیں، مثلاً : جس لشکر میں یہ نقشہ ہو گا، وہ فتح یاب ہوگا، جس قافلے میں ہوگا، یہ حفاظت اپنی منزل پر پہنچے گا، جس کشتی میں ہوگا، وہ ڈوبنے سے محفوظ رہے گی، جس گھر میں ہوگا، وہ جلنے سے محفوظ رہے گا، جس مال ومتاع میں ہوگا، وہ چوری سے محفوظ رہے گا اور کسی بھی حاجت کے لیے صاحب نعلین سے توسل کیا جائے ، تو وہ پوری ہو کر رہے گی۔
نقش نعلین کے فوائد و برکات میں یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ جو شخص اس کو حصول برکت کی نیت سے اپنے پاس محفوظ رکھے گا، تو اس کی برکت سے وہ شخص ظالم کے ظلم، دشمنوں کے غلبہ، شیاطین کے شر اور حاسدین کی نظر بد سے محفوظ رہے گا، اسی طرح اگر کوئی حاملہ عورت درد زہ میں اس کو اپنے دائیں پہلو میں رکھ لے، تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و مشیت سے اس خاتون پر آسانی فرمائے گا۔ اس نقش نعلین کی برکتوں میں سے یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اس کے ذریعہ نظر بد اور جادو ٹونے سے آدمی امان میں رہتا ہے، نیز حادثات سے بچاؤ کے لیے بھی اسے اکسیر بتایا جاتا ہے۔
یہ سب خود ساختہ باتیں ہیں۔ نقش نعلین سے تبرک حاصل کرنے میں ان کا سلف کون ہے؟ ایک مصنوعی نقشہ کے متعلق یہ کہنا کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک جوتیوں کا نقش ہے اور پھر اس کے فوائد و برکات بیان کرنا کون سا دین ہے؟

منسوب تبرکات کی زیارت :

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب تبرکات کی زیارت ہوتی ہے، باقاعدہ مخصوص مہینے، مخصوص تاریخ اور مخصوص موقع کے اعلانات ہوتے ہیں، اشتہار چھپتے ہیں۔ وہاں کیا کچھ ہوتا ہے، کسی پر مخفی نہیں۔ ان تبرکات کو مس کیا جاتا ہے، انہیں بوسہ دیا جاتا ہے، جسموں پر ملا جاتا ہے، ان کی زیارت باعث خیر و برکت اور کار ثواب سمجھی جاتی ہے۔ اخلاقی حوالے سے بھی کئی قباحتیں اور خرابیاں پائی جاتی ہیں، مرد زن کا اختلاط، بے حیائی اور بے پردگی عروج، نوخیز لڑکوں اور لڑکیوں کا اکٹھ ، تصاویر، عورتوں کا بن ٹھن کر گھروں سے نکلنا، اسی کی قباحتوں میں سے ہے۔
◈ علامہ عبد الحی لکھنوی صاحب لکھتے ہیں :
جب یہ تمام امور ظاہر ہو چکے، تو مسائل کو سمجھنا چاہئے کہ جو لوگ مذکورہ سوال کے موافق موئے مبارک کی زیارت کراتے ہیں، وہ بدعات ومخترعات کے پابند ہیں، روایت مذکورہ بالا کے موافق جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے موئے مبارک کا پانی مریض کے لیے مانگا گیا، تو انہوں نے نہ ڈول تاشہ بجوایا، نہ قرآن خوانی کرائی، نہ مجلس مرتب کی ، نہ وقت مقرر کیا، نہ تاریخ معین کی ، غرض کسی قسم کے تعینات خاصہ سے اس کو مقید نہیں کیا، بلکہ اس کی برکت کو ہر وقت میں قابل استفادہ خیال کیا، بخلاف اس صورت کے جس کو سائل نے بیان کیا ہے، جس میں تعین ماہ ویوم و تاریخ کو امر ضروری اور ازدیاد ثواب میں مؤثر خیال کیا ہے، جس کی سنت نبویہ میں کوئی اصل نہیں ہے اور تداعی اور انعقاد محافل خاصہ کو ضروری خیال کیا ہے، اس میں نوبت و نقارہ اور جملہ مزامیر مہیا کیے جاتے ہیں، جو سراسر شیاطین کے افعال ہیں، مالیدہ موئے مبارک بھی بطور نذر لغیر اللہ کیا جاتا ہے اور تبرک کی طرح بانٹا جاتا ہے، حالانکہ اس سے انتفاع حرام قطعی ہے، غزلیں گاتے ہیں، حالانکہ ایسے راگ بالاتفاق حرام ہیں، پس برکت حاصل کرنا جو زائد سے زائد مستحب ثابت ہو گا، ایسے محرمات شرعیہ کے ارتکاب کا باعث ہوا جن سے اجتناب واجب ہے اور ظاہر ہے جس امر مستحب کے ارتکاب سے ترک واجب لازم آئے ، اس کا ترک کرنا واجب ہے، پس اس صورت میں ہر گز شریعت اس بات کی اجازت نہ دے گی کہ ایسی بدعات کے ساتھ اس امر مستحب کا ارتکاب صحیح ہو اور اس کا نفس استحباب بھی اس صورت میں مسلّم ہے، جب ثابت ہو جائے کہ واقعی یہ موئے مبارک حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا ہے اور اگر یہ امر پایہ ثبوت کو نہ پہنچے تو ایسے جلسے میں بقصد تبرک حاضر ہونا بھی جائز نہیں اور موئے مبارک پر نذر ماننا اور چڑھاوا چڑھانا حرام ہے، کیونکہ نذر عبادت ہے اور غیر خدا کی عبادت حرام ہے۔
(مجموع الفتاوی از لکھنوی : 177/3 – 178)
◈ سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے میری والدہ نے خبر دی :
شهدت آمنة لما ولدت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما ضربها المخاص نظرت إلى النجوم تدلى، حتى إني أقول لتقعن علي، فلما ولدت، خرج منها نور أضاء له البيت الذى نحن فيه والدار، فما شيء أنظر إليه، إلا نور .
”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے ، تو میں آمنہ کے پاس گئی، وہ درد زہ میں تھیں، میں نے آسمان کے ستاروں کو زمین کی طرف جھکتے دیکھا، مجھے ڈر تھا کہ وہ مجھ پر گر نہ جائیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں تشریف لائے ، تو ایک نور نکلا ، جس نے سارا گھر روشن کر دیا، میں جس چیز کی طرف دیکھتی نور ہی نور دکھائی دیتا۔“
(المعجم الكبير للطبراني : 147/25 ، تاريخ الطبري : 157/2 ، دلائل النبوة للبيهقي : 111/1 ، دلائل النبوة للأصبهاني : 135/1 ، ح : 75 ، تاریخ ابن عساکر : 79/3)
سند سخت ضعیف ہے :
عبدالعزیز بن عمران متروک ہے۔
(تقريب التهذيب لابن حجر : 4114)
محمد بن ابی سوید ثقفی طائفی ”مجہول الحال“ ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات : 363/5) کے علاوہ کسی نے توثیق نہیں کی ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
لا يعرف .
”غیر معروف ہے۔“
(میزان الاعتدال : 576/3)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے مجہول کہا ہے۔
(تقریب التهذيب : 7656)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ فرماتی ہیں کہ میں نے تین جھنڈے دیکھے، ایک مشرق میں گاڑا گیا، دوسرا مغرب اور تیسرا خانہ کعبہ کی چھت پر لہرا رہا تھا۔
(دلائل النبوة لأبي نعيم الأصبهاني : 610/1-613 ، ح : 555)
سند سخت ضعیف ہے۔
ابو بکر بن ابی مریم جمہور ائمہ حدیث کے نزدیک ضعیف ہے۔
یحیی بن عبد اللہ بابلتی ضعیف ہے۔
(تقريب التهذيب لابن حجر : 7585)
حفص بن عمرو بن صباح ”حسن الحدیث“ ہیں، کتاب میں غلطی سے عمرو بن محمد بن صباح لکھا گیا ہے۔
عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و تعریف میں چند اشعار کہے :
أنت لما ولدت أشرقت الأرض … وضاء ت بنورك الأفق
فنحن فى ذلك الصياء … وفي النور وسبل الرشاد نخترق

جب آپ پیدا ہوئے ، تو زمین روشن ہونے لگی اور آپ کے نور سے آفاق چمک اٹھے۔ ہم اس روشنی اور نور کی گود میں ہیں اور ہدایت کے راستے واضح ہو چکے ہیں۔
(الغيلانيات لأبي بكر الشافعي : 285 ، المعجم الكبير للطبراني : 213/4 ح : 4167، المستدرك للحاكم : 327/3 ح : 5417 ، دلائل النبوة للبيهقي : 268/5 ، دلائل النبوة لأبي نعيم : 2520 ، دلائل النبوة لابن منده : 522/1 ، تاریخ ابن عساکر : 409/3)
سند ضعیف ہے۔
زحر بن حصن طائی ”مجہول الحال“ ہے، امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات : 619/3) کے علاوہ کسی نے توثیق نہیں کی ، حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
لا يعرف .
”غیر معروف ہے۔“
(میزان الاعتدال : 69/2)
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے مجہول کہا ہے۔
(مجمع الزوائد : 265/9)
نیز لکھتے ہیں :
رواه الطبراني وفيه من لم أعرفهم .
”اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے، اس کے بعض راویوں کو میں نہیں پہچانتا۔“
(مجمع الزوائد : 218/8)
ابوحسن محمد بن احمد بن براء بیان کرتے ہیں : جب ایک یہودی کو خبر دی گئی کہ رات عبدالمطلب کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے، تو اس نے کہا :
ذهبت النبوة من بني إسرائيل، هذا الذى سر أحبارهم، أفرحتم يا معشر قريش؟ والله ليسطود بكم سطوة يخرج نبأها من المشرق إلى المغرب .
”بنی اسرائیل سے نبوت چلی گئی ، یہی وہ چیز تھی ، جس پر ان کے احبار کو خوشی تھی ، قریش والو! کیا آپ بھی اس سے خوش ہوئے؟ اللہ کی قسم ! آپ کے ہاں ایک ایسا سورج طلوع ہوا ہے، جس کی روشنی مشرق و مغرب میں پھیلے گی۔“
(الوفاء بأحوال المصطفى لابن الجوزي : 161/1 ، المنتظم لابن الجوزي : 248/2)
مرسل ہونے کی وجہ سے ”ضعیف“ ہے۔ طبقات ابن سعد (101/1-102) والی سند من گھڑت ہے۔ اس کا مدار واقدی ”کذاب“ پر ہے۔
سیدنا عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ابو لہب کی وفات کے ایک سال بعد اسے خواب میں دیکھا ، وہ بری حالت میں تھا، کہنے لگا کہ کوئی راحت نہیں، البتہ ہر سوموار کو عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے۔
ذلك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ولد يوم الاثنين، وكانت تويبة قد بشرته بمولده، فقالت له : أشعرت أن آمنة ولدت غلاما لأخيك عبد الله؟ فقال لها : اذهبي، فأنت حرة .
”عذاب میں تخفیف کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت باسعادت سوموار کو ہوئی، تو ثویبہ نے ابولہب سے کہا، کیا تو جانتا ہے کہ آمنہ نے تیرے بھائی عبد اللہ کا بیٹا جنم دیا ہے، تو ابولہب نے ثویبہ سے کہا : جا آج کے بعد تو آزاد ہے۔
(الروض الأنف للسهيلي : 192/5)
یہ بے سرو پا روایت ہے، سند دین ہے، بے سند روایتوں کا کوئی اعتبار نہیں۔