آثارِ نبویہ کے ثبوت کے لیے سند ضروری ہے یا شہرت کافی؟ ایک تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔

آثارِ نبویہ کے ثبوت کے لیے سند ضروری ہے یا شہرت کافی؟ ایک تحقیقی جائزہ

◈ علامہ البانی رحمہ اللہ (م : 1420ھ) لکھتے ہیں :
هذا ولا بد من الإشارة إلى أننا نؤمن بجواز التبرك بآثاره صلى الله عليه وسلم، ولا تنكره خلافا لما يوهمه صنيع خصومنا، ولكن لهذا التبرك شروطا؛ منها الإيمان الشرعي المقبول عند الله، فمن لم يكن مسلما صادق الإسلام؛ فلن يحقق الله له أى خير بتبركه هذا، كما يشترط للراغب فى التبرك أن يكون حاصلا على أثر من آثاره صلى الله عليه وسلم ويستعمله، ونحن نعلم أن آثاره صلى الله عليه وسلم من ثياب أو شعر أو فضلات قد فقدت، وليس بإمكان أحد إثبات وجود شيء منها على وجه القطع واليقين، وإذا كان الأمر كذلك، فإن التبرك بهذه الآثار يصبح أمرا غير ذي موضوع فى زماننا هذا، ويكون أمرا نظريا محضا، فلا ينبغي إطالة القوليه .
”مخالفین ہمارے بارے میں غلط پروپیگنڈہ کرتے ہیں، ہمارا آثار نبویہ سے تبرک کے جواز پر ایمان ہے، ہمیں اس سے بالکل انکار نہیں۔ لیکن اس تبرک کی چند شرائط ہیں تبرک لینے والا خود مسلمان اور ایمان والا ہو، جو سچا مسلمان نہیں ہوتا، اللہ اسے آثار نبویہ سے تبرک میں کوئی خیر نہیں دیتا۔ جس چیز سے تبرک لے رہا ہے، اس چیز کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت ثابت ہو، مگر ہمیں معلوم ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بال، لباس اور دیگر آثار مفقود ہو چکے ہیں۔ اب کسی کے بس کی بات نہیں کہ وہ انہیں یقینی اور قطعی طور پر ثابت کر سکے۔سو، ہمارے اس زمانے میں آثار نبویہ سے تبرک لینا بے جا ہے، یہ محض ایک خیالی معاملہ ہے، جس پر لمبی گفتگو کرنا نا مناسب ہے۔“
(التوسل وأنواعه و أحكامه ص : 144 ، وفي نسخة : 161-162)

سبیل مومنین اور ایک شاذ موقف

◈ جناب احمد رضا خان صاحب لکھتے ہیں :
ایسی جگہ ثبوت یقینی باسند محدثانہ کی اصلاً حاجت نہیں ، اس کی تحقیق و تنقیح کے پیچھے پڑنا اور بغیر اس کے تعظیم و تبرک سے باز رہنا سخت محرومی کم نصیبی ہے۔ ائمہ دین نے صرف حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے اُس شے کا معروف ہونا کافی سمجھا ہے۔
(فتاوی رضویہ : 412/21)
نہ معلوم وہ کون سے ائمہ دین ہیں، جو آثار نبویہ کے لیے سند کو بنیاد نہیں بناتے؟ بلکہ بے سرو پا دعوؤں پر اکتفا کر لیتے ہیں۔ یقیناً ائمہ میں سے کسی ایک امام کا نام نہیں بتایا جا سکتا، کہ جس نے آثار نبویہ میں سند کو بنیاد نہ بنایا ہو۔
ہم کہتے ہیں کہ تحقیق کے پیچھے نہ پڑنا اور بغیر تحقیق کے تعظیم و تبرک میں پڑنا کم نصیبی اور محرومی ہے۔
◈ مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب لکھتے ہیں :
”تبرکات کے ثبوت کے لیے مسلمانوں میں یہ مشہور ہونا کہ یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات ہیں ، کافی ہے۔“
(جاء الحق : 376/1)

نکاح و ولدیت کا ثبوت اور تبرکات

◈ نعیمی صاحب مزید لکھتے ہیں :
ہم کہتے ہیں کہ ہم فلاں کے بیٹے فلاں کے پوتے ہیں، اس کا ثبوت نہ قرآن میں ہے، نہ حدیث سے، نہ ہماری والدہ کے نکاح کے گواہ موجود، مگر مسلمانوں میں اس کی شہرت ہے، اتنا ہی کافی ہے، اسی طرح یادگاروں کے ثبوت کے لیے صرف شہرت معتبر ہے۔
(جاء الحق : 376/1)
عرض ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نسبت کا معاملہ عام دعوؤں سے مختلف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی چیز کو منسوب کرنا دلیل وثبوت کا متقاضی اور احتیاط طلب معاملہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آثار کے انتساب کا مطلب ہے کہ ایک وصف کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کی جارہی ہے۔ اس کی مثال یوں لیں کہ کسی جوتے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا قرار دینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہی جوتا پہنا کرتے تھے۔ یوں یہ ایک حدیث ہے اور کسی جھوٹی حدیث کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرنے کا انجام یہ ہے :
من كذب على متعمدا، فليتبوأ مقعده من النار .
”جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سمجھے۔“
(صحيح البخاري : 1291 ، صحیح مسلم : 3)
موجودہ دور کے تبرکات ثابت نہیں ، لہذا ان کی نسبت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کرنا جسارت ہے۔
نکاح کی مثال تو بے محل ہے، کیوں کہ نکاح علی الاعلان کیا جاتا ہے۔ دو خاص گواہوں کے علاوہ باقی لوگ بھی اس کے گواہ ہوتے ہیں۔ گواہ اس لیے ہوتے ہیں کہ اگر اس بارے میں کوئی قانونی پیچیدگی ہوئی ، تو یہ لوگ عدالت کو اس حوالے سے مطمئن کرسکیں۔ جب پورے علاقے والے لوگ نکاح کے گواہ ہوتے ہیں، تو موجودہ اور آنے والی تمام نسلوں کو بھی یہ گواہی پہنچ جاتی ہے۔ اگر کسی شخص کے نکاح کے دونوں گواہ فوت ہو چکے ہوں، تو کیا عدالت میں اس کے نکاح کا ثبوت پیش نہیں کیا جا سکے گا؟
جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب تبرکات کو ثابت کرنا ممکن ہی نہیں۔ محدثین اور اہل علم نے ان کے لیے صحیح سند کی شرط لگائی ہے اور موجودہ تبرکات کو خود حنفی اہل علم نے بھی مسترد کر دیا ہے، جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں۔
◈ نعیمی صاحب ایک واقعہ ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
ان سے پوچھا گیا کہ جناب کا اسم شریف کیا ہے؟ فرمانے لگے : عبدالرحمن، والد مہربان کا اسم گرامی کیا ہے؟ فرمایا کہ عبد الرحیم، ہم نے پوچھا کہ اس کا ثبوت کیا ہے؟ کہ آپ عبدالرحیم صاحب کے فرزند ہیں؟ اولاً تو اس نکاح کے گواہ نہیں ، اگر کوئی ہو بھی تو وہ صرف عقد نکاح کی گواہی دے گا، یہ کیسے معلوم ہوا کہ جناب کی ولادت شریف ان کے ہی قطرے سے ہے، رُک کر بولے کہ جناب مسلمان کہتے ہیں کہ میں ان کا بیٹا ہوں اور مسلمانوں کی گواہی معتبر ہے، ہم نے کہا : جب مسلمان کہتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بال شریف ہے اور مسلمانوں کی گواہی معتبر ہے، شرمندہ ہو گئے۔
(جاء الحق : 378/1)
یہ خلط مبحث ہے۔ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کسی چیز کی نسبت کی ہو رہی ہے، جس کے بارے میں بڑی وضاحت سے یہ بات بیان ہو چکی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی نسبت جہنم میں جانے کا باعث ہے۔ اس کے برعکس شریعت ہی نے یہ بتایا ہے کہ اگر کسی کے گھر کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے، تو وہ اسی کی طرف منسوب ہو گا۔ اگر کوئی شخص یہ بھی دعوی کر دے کہ میں نے اس کی ماں کے ساتھ زنا کیا تھا اور یہ میرا بچہ ہے، تو بھی اس کا دعویٰ مسترد کر دیا جائے گا۔ یہ بچہ تو اسی کا ہو گا، جس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، جبکہ زنا کا دعویٰ کرنے والے کو زنا کی سزادی جائے گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
الولد للفراش، وللعاهر الحجر .
”بچہ بستر والے کا ہی ہو گا، البتہ شادی شدہ زانی کے لیے زنا کی سزا کے طور پر پتھر ہیں۔“
(صحیح البخاري : 6749 ، صحيح مسلم : 1457)
اگر کوئی کہے کہ فلاں شخص فلاں کا بیٹا نہیں تو اس نے اس پر ناجائز ہونے کا دعویٰ کیا ہے، اس دعویٰ پر اسے چار گواہ پیش کرنا ہوں گے، ورنہ اسے کوڑے لگائے جائیں گے، مگر تبرکات کے متعلق کوئی دعویٰ کر دے کہ یہ تبرکات اصلی نہیں، تو اس کو گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ تبرکات کے اصلی ہونے کے دعویدار پر ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔
لہذا تبرکات کو نکاح یا کسی کے حلالی و حرامی ہونے کے دعوے پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق کی قبیل سے ہے۔