مضمون کے اہم نکات
سید الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ
خالق کائنات، اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس سے محبت کرنے والے، اس کے محبوب، جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اداؤں پر عمل کریں، اور ان کے ذریعہ اس کا قرب حاصل کریں، اور اپنی زندگی کی خطاؤں اور غلطیوں پر معافی کا قلم پھرا کر جنت الفردوس کے وارث بن جائیں۔ آیت کریمہ:
﴿قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ﴾
(3-آل عمران:31)
میں یہی رمز محبت بتایا گیا ہے۔
◈ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری:
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کو (اتنا لمبا) قیام فرماتے کہ آپ کے پاؤں (مبارک بوجہ ورم) پھٹنے لگے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں (میں نے عرض کیا): اے اللہ کے رسول! آپ ایسا کیوں کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ (غفور و رحیم) نے تو آپ کی اگلی پچھلی خطائیں معاف کر دی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أفلا أكون عبدا شكورا
”تو کیا میں (اللہ تعالیٰ کا) شکر گزار بندہ نہ بنوں۔“
صحیح بخاری، کتاب التفسیر، رقم: 4837،4836۔
◈ خشیت الہی سے گریہ زاری:
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ (میں نے دیکھا کہ) آپ کے سینے سے رونے کی وجہ سے اس طرح آواز نکل رہی تھی، جیسے چولہے پر رکھی ہوئی ہنڈیا سے نکلتی ہے۔
صحیح سنن ابوداود، كتاب الصلاة، رقم: 904 – صحيح سنن ترمذی، رقم: 321۔
◈ عبودیت کا اعلیٰ مقام اور تعلق باللہ:
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے دن مقداد بن عمرو کے علاوہ ہمارے ساتھ کوئی بھی گھڑ سوار نہیں تھا۔ ہم سے ہر شخص گہری نیند سویا۔ سوائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے، جو ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر ساری رات اللہ کی عبادت کرتے اور روتے رہے۔
مسند احمد: 1/125 – السنن الكبرى للنسائی، رقم: 823 صحیح ابن خزیمه، رقم: 899 ابن خزیمہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
◈ اللہ تعالیٰ کی معیت کا یقین کامل:
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا (سفر ہجرت میں) ہم روانہ ہوئے تو لوگ ہمارے تعاقب میں تھے۔ ان میں سے صرف سراقہ بن مالک اپنے گھوڑے پر سوار ہمارے قریب پہنچ گیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ہمارا تعاقب کرتے ہوئے ہمارے قریب آ پہنچا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا﴾ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ وہ ہمارے اس قدر نزدیک پہنچ گیا کہ ہمارے اور اس کے درمیان ایک، دو نیزوں کے برابر فاصلہ رہ گیا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ ہم تک آپہنچا ہے، اور (ساتھ ہی) میں رونے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں روتے ہو؟ میں نے عرض کیا، اللہ کی قسم! میں اپنی جان کو خطرے میں دیکھ کر نہیں رو رہا، بلکہ آپ کی سلامتی کو خطرے میں دیکھ کر رو رہا ہوں۔ (ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کرتے ہوئے کہا: اے اللہ! جس طرح آپ پسند کریں ہمارے لیے اس کے مقابلے میں کافی ہو جا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا کے نتیجے میں اس کے گھوڑے کی ٹانگیں سخت زمین میں پیٹ تک دھنس گئیں۔
مسند احمد: 2/1 رقم: 3۔ احمد شاکر فرماتے ہیں: اس کی سند صحیح ہے۔
◈ مصائب و مشکلات میں صبر کا اظہار:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اللہ کی راہ میں اس قدر اذیت دی گئی ہے کہ کسی اور کو اتنی اذیت نہیں دی گئی، اور مجھے اللہ کے راستہ میں اتنا ڈرایا گیا کہ اتنا کسی اور کو خوف زدہ نہیں کیا گیا۔ مجھ پر تین دن اور راتیں ایسی گذریں کہ میرے اور بلال کے پاس اتنا کھانا بھی نہ تھا کہ جسے کوئی جگر والا کھائے۔ (وہ اتنا کم ہوتا تھا) کہ جسے بلال اپنی بغل میں چھپا لیتے تھے۔“
سنن ابن ماجه، رقم: 151 – علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
◈ رضائے الہی کی تلاش:
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز تہجد میں یہ دُعا پڑھا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ برضاك من سخطك وبمعافاتك من عقوبتك وأعوذ بك منك لا أحصي ثناء عليك أنت كما أثنيت على نفسك
”اے اللہ! میں تیری رضا کے ذریعے تیرے غصہ سے پناہ مانگتا ہوں، اور تیری معافات کے ذریعہ تیرے عقاب سے، اور اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں، میں تیری ثنا اس طرح بیان نہیں کر سکتا جیسا کہ تو نے خود اپنی ثنا بیان کی ہے۔“
سنن ابوداؤد، باب تفریع ابواب الوتر، رقم: 1427۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
◈ قرآن کریم کی خوش ادائی سے تلاوت:
معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ فرماتے تھے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن اپنی سواری پر بیٹھے ہوئے یہ پڑھتے ہوئے سنا:
﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا . لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ﴾ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ آیات دھرا دھرا کر پڑھ رہے تھے۔ معاویہ بن قرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں، اگر مجھے ڈر نہ ہوتا کہ لوگ میرے ارد گرد جمع ہو جائیں گے، تو میں اسی طرح تم کو قراءت اور تجوید وتحسین سے پڑھ کر سناتا۔“
صحیح بخاری، کتاب المغازي، رقم: 5047 – صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، رقم:547
تواضع:
مریضوں کی عیادت کرنا بھی تواضع کا نمونہ ہے۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ نہ خچر پر سوار تھے، نہ ترکی گھوڑے پر (بلکہ آپ پیدل تشریف لائے)۔
صحیح بخاری، کتاب المرضى، رقم: 5664۔
◈ بچوں سے شفقت و رحم دلی:
سیدنا یوسف بن عبد اللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا نام یوسف رکھا اور مجھے اپنی گود میں بٹھایا اور میرے سر پر ہاتھ پھیرا۔“
مسند حمیدی، رقم: 869 – المعجم الكبير للطبراني: 22/285 ـ مسند أحمد: 4/35، 6/6- شیخ شعیب نے اسے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔
◈ حیات طیبہ کے آخری لمحات میں اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا شوق:
حیات طیبہ کے آخری لمحات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو شرک سے بچنے کی تاکید فرمائی نیز مسلمانوں کو نماز کی پابندی کرنے اور غلاموں سے حسن سلوک کی تاکید فرمائی۔
صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب مرض النبي صلى الله عليه وسلم و وفاته سنن ابن ماجة، كتاب الجنائز: 1/1317۔
حیات طیبہ کے آخری الفاظ یہ تھے:
اللهم اغفر لي وارحمني وألحقني بالرفيق الأعلى
”اے اللہ! میرے گناہ معاف فرما، مجھ پر رحم فرما اور مجھے بلند پایہ رفقاء سے ملا دے۔“
صحیح بخاری، کتاب المغازي، رقم: 4440۔