آرزو کم کرنے کے احکامات
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خط کھینچا اور فرمایا:
هذا الإنسان
”یہ انسان ہے“۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جانب ایک خط کھینچا اور فرمایا:
هذا أجله
”یہ اس کی عمر ہے“۔
اور ایک خط دور کھینچا اور فرمایا:
هذا الأمل وهذا أجله ، فبينما هو كذلك إذ جاءه الأقرب
”یہ آرزو ہے، وہ انسان اسی آرزو کے چکر میں رہتا ہے کہ قریب والا خط اس کو آ پہنچتا ہے یعنی اس کی موت آ جاتی ہے“۔
بخاری، کتاب الرقاق 6418، ترمذی، کتاب الزهد 2334۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا کندھا پکڑ کر فرمایا:
كن فى الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل
”دنیا میں کسی پردیسی یا راہ گزر کی طرح رہو“۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے: ”جب شام ہو تو صبح کا انتظار مت کرو اور جب صبح ہو تو شام کا انتظار مت کرو۔ اپنی تندرستی کے ایام میں اپنی بیماری کا توشہ اور اپنی زندگی میں اپنی موت کا سامان تیار کر لو“۔
بخاری، کتاب الرقاق 6416، ترمذی، کتاب الزهد 2333۔
تقویٰ و پرہیز گاری کے متعلق احکامات
① عبدالرحمن بن عثمان بن عبداللہ یمنی صحابی بیان کرتے ہیں، ہم سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ حالتِ احرام میں تھے۔ ہمیں ایک پرندہ تحفہ میں دیا گیا جبکہ طلحہ رضی اللہ عنہ سو رہے تھے۔ پس ہم میں سے بعض نے اسے کھا لیا اور بعض نے ورع و پرہیز گاری کی خاطر نہ کھایا۔ پس جب سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے تو انہوں نے کھانے والوں سے موافقت کی اور کہا: ”ہم نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا تھا“۔
مسلم، کتاب الحج 1197/65، نسائی، مناسک الحج 143/5۔
مفہوم و اشارہ کے لحاظ سے ورع و پرہیز گاری کے متعلق بہت سی احادیث ہیں، مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
دع ما يريبك
”جو چیز تمہیں شک میں مبتلا کر دے اسے ترک کر دو“۔
اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الحلال بين والحرام بين وبينهما أمور مشتبهات
”حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان متشابہ امور ہیں“۔
اللہ کی نعمت کو کم سمجھنے کی ممانعت
① سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
انظروا إلى من هو أسفل منكم ، ولا تنظروا إلى من هو فوقكم ، فإنه أجدر أن لا تزدروا نعمة الله عليكم
”جو تم میں سے دنیا داری میں کم ہے اسے دیکھو اور جو تم میں سے بڑا ہے اس کی طرف نہ دیکھو، اس لیے کہ یہ چیز زیادہ لائق ہے کہ تم اپنے اوپر اللہ کی نعمت کو کم نہ سمجھو“۔
بخاری، کتاب الرقاق 6490، مسلم، کتاب الزهد والرقائق 2963/9، عن ابی ہریرہ رحمہ اللہ ۔