حج میں قربانی کرنا
حج کے موقع پر قربانی کرنا سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے اور حجاج کرام کا اس سنت پر عمل کرنا مستحب فعل ہے۔
① ابوطفیل رحمہ اللہ نے سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا:
يزعم قومك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم سعى بين الصفا والمروة وأن ذلك سنة
”آپ کی قوم سمجھتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ہے اور یہ سنت ہے، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ انھوں نے سچ کہا ہے۔ بے شک جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو مناسکِ حج کا حکم دیا گیا تو مقامِ سعی پر شیطان ان کے سامنے آیا، اس نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام سے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو سیدنا ابراہیم علیہ السلام اس سے آگے نکل گئے، پھر جبرئیل علیہ السلام سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو جمرہ عقبہ کی طرف لے گئے اور شیطان ان کے سامنے آیا تو اسے سات کنکریاں ماریں حتیٰ کہ شیطان بھاگ گیا، بعد ازاں شیطان جمرہ وسطیٰ کے قریب سامنے آیا تو انھوں نے پھر اسے سات کنکریاں ماریں، پھر انھوں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کو چہرے کی ایک جانب لٹایا اور اسماعیل علیہ السلام پر سفید قمیص تھی، انھوں نے عرض کی: ”ابا جان! میرے پاس اس کے علاوہ کوئی اور کپڑا نہیں، جس میں آپ مجھے کفن دے سکیں گے۔“ (لہٰذا یہ قمیص اتار لیجیے) سیدنا ابراہیم علیہ السلام وہ قمیص اتارنے لگے تو پیچھے سے آواز آئی، اے ابراہیم! تو نے واقعی خواب سچ کر دکھایا ہے۔ انھوں نے مڑ کر دیکھا تو ناگاہ وہاں سفید مینڈھا تھا۔
صحيح: مسند أحمد: 1 / 297۔ سنن بیهقی: 5 / 154۔ تاریخ دمشق: 6 / 210
② سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر قربانی ذبح کی اور مجھے ارشاد فرمایا:
أصلح هذا اللحم، قال : فأصلحته، فلم يزل يأكل منه حتى بلغ المدينة
”اس گوشت کو محفوظ کرو۔ ثوبان کہتے ہیں: چنانچہ میں نے اسے محفوظ کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے مسلسل کھاتے رہے، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے۔“
صحيح مسلم، کتاب الأضاحي: 1975۔ سنن أبو داود، کتاب الأضاحي، باب فی المسافر یضحی: 2814
فوائد:
① حج کے موقع پر قربانی کرنا درست ہے اور حجاج کرام دوران حج عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کر سکتے ہیں۔
② قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ ذخیرہ کرنا جائز ہے۔ اگر کسی شخص نے کئی قربانیاں کی ہوں تو کسی ایک قربانی کا مکمل گوشت ذخیرہ کرنا جائز و مباح ہے۔
③ امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ”قربانی تمام لوگوں کے لیے اور منیٰ میں موجود حاجی کے لیے بھی مسنون ہے، ابو ثور کا بھی یہی موقف ہے۔“
شرح ابن بطال: 11 / 4