لا إله إلا الله وحی کا سب سے بڑا مقصد اور اللہ کی عظیم ترین نعمت

فونٹ سائز:

«لا إله إلا الله» اللہ تعالیٰ کی سب سے عظیم نعمت

مضمون کے اہم نکات

الفرع الأول: من فضائل شهادة لا إله إلا الله: أنها أعظم نعمة أنعم الله عز وجل بها على عباده

[پہلی فصل: کلمۂ شہادت «لا إلٰه إلا الله» کے فضائل میں سے ایک فضیلت یہ ہے کہ یہ اللہ عزوجل کی اپنے بندوں پر عطا کردہ سب سے عظیم نعمت ہے]

قال اللهُ تعالى:

[يُنَزِّلُ الْمَلائِكَةَ بِالرُّوحِ مِنْ أَمْرِهِ عَلى مَنْ يَشاءُ مِنْ عِبادِهِ أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَاّ أَنَا فَاتَّقُونِ] وہ فرشتوں کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے نازل کرتا ہے کہ خبردار کر دو کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو مجھ سے ڈرو۔ [سورۃ النحل:2]

[فقدمها الله في سورة النحل -التي تسمى سورة النعم- على كل نعمة أخرى]

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ النحل میں- جسے "سورۃ النعم” یعنی نعمتوں والی سورت کہا جاتا ہے۔ اس نعمت کو تمام دوسری نعمتوں سے پہلے ذکر فرمایا ہے۔ [تفسير ابن عطية: ج3 ص377]،[جمال القراء وكمال الإقراء:1/199]

قال السمرقندي:

[قال تعالى: أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ أي: خوفوا بالقرآن الكفار، وأعلموهم أنه لا إِلهَ إِلَّا أَنَا فَاتَّقُونِ يعني: أن الله واحد لا شريك له فوحّدوه وأطيعوه]

امام سمرقندی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ کے فرمان: [أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ] کا مطلب یہ ہے کہ کفار کو قرآن کے ذریعے ڈراؤ اور انہیں آگاہ کر دو کہ میرے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں؛ لہٰذا مجھ ہی سے ڈرو۔ یعنی اللہ ایک ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، پس اسی کو یکتا مانو اور اسی کی اطاعت کرو۔ [تفسير السمرقندي:2/266]

وقال الرازي:

[ينزل الملائكة على من يشاء من عبيده، ويأمر ذلك العبد بأن يبلغ إلى سائر الخلق أن إله العالم واحد، كلفهم بمعرفة التوحيد والعبادة، وبين أنهم إن فعلوا ذلك فازوا بخيري الدنيا والآخرة، وإن تمردوا وقعوا في شر الدنيا والآخرة]

اور امام رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے، اس پر فرشتے نازل فرماتا ہے، پھر اس بندے کو حکم دیتا ہے کہ وہ تمام مخلوق تک یہ پیغام پہنچا دے کہ تمام جہانوں کا معبود ایک ہی ہے۔ اللہ نے لوگوں کو توحید کی معرفت اور اپنی عبادت کا مکلف بنایا ہے، اور واضح فرما دیا ہے کہ اگر وہ اس پر عمل کریں گے تو دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائیاں پالیں گے، اور اگر سرکشی کریں گے تو دنیا و آخرت دونوں کی برائیوں میں مبتلا ہوں گے۔ [تفسير الرازي:19/168]

وقال ابن تيمية:

[التوحيد الذي هو إخلاص الدين لله: أصل كل خير من علم نافع وعمل صالح]

اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

وہ توحید جس سے مراد دین کو خالص اللہ ہی کے لیے کرنا ہے، ہر بھلائی کی بنیاد ہے، خواہ وہ نفع بخش علم ہو یا نیک عمل۔ [جامع المسائل-ابن تيمية: مقدمہ6 ص8]

وقال الطيبي:

[قُلۡ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثۡلُکُمۡ یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ] [الكهف: 110] أي: الوحي مقصور على استئثار الله تعالى بالوحدانية؛ لأن المقصود الأعظم من الوحي هو التوحيد، وسائر التكاليف متفرع عليه، [وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ] [البينة: 5]

اور امام طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

[کہہ دے میں تو تم جیسا ایک بشر ہی ہوں، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک ہی معبود ہے] یعنی وحی کا اصل اور بنیادی مقصود اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو خاص طور پر ثابت کرنا ہے؛ کیونکہ وحی کا سب سے بڑا مقصد توحید ہے، اور باقی تمام شرعی احکام اسی پر متفرع اور قائم ہیں۔ [اور انھیں اس کے سوا حکم نہیں دیا گیا کہ وہ اللہ کی عبادت کریں، اس حال میں کہ اس کے لیے دین کو خالص کرنے والے] [شرح المشكاة للطيبي الكاشف عن حقائق السنن (الطيبي): ج6 ص1733 الرقم2270]

وقال ابن القيم:

[صَلاحُ العالَمِ في أن يكونَ اللهُ وَحْدَه هو المعبودَ، وفَسادُه وهَلاكُه في أن يُعبَدَ معه غَيرُه]

اور امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

دنیا کی اصلاح اسی میں ہے کہ صرف اللہ وحدہٗ ہی کی عبادت کی جائے، اور اس کا فساد و ہلاکت اس میں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی اور کی بھی عبادت کی جائے۔

[مفتاح دار السعادة ومنشور ولاية العلم والإرادة-ط العلمية (ابن القيم) ج2 ص11]

وقال السعدي:

[زبدة دعوة الرسل كلهم ومدارها على قوله: [أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَاّ أَنَا فَاتَّقُونِ] أي: على معرفة الله تعالى، وتوحده في صفات العظمة التي هي صفات الألوهية، وعبادته وحده لا شريك له؛ فهي التي أنزل الله بها كتبه، وأرسل رسله، وجعل الشرائع كلها تدعو إليها، وتحث وتجاهد من حاربها وقام بضدها]

اور شیخ سعدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

تمام رسولوں کی دعوت کا خلاصہ اور اس کا مرکزی مدار اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر ہے: [أَنْ أَنْذِرُوا أَنَّهُ لا إِلهَ إِلَاّ أَنَا فَاتَّقُونِ]، یعنی اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنا، اور ان صفاتِ عظمت میں اسے یکتا ماننا جو الوہیت کی صفات ہیں، نیز صرف اسی کی عبادت کرنا جس کا کوئی شریک نہیں۔ یہی وہ توحید ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابیں نازل فرمائیں، اپنے رسول بھیجے، اور تمام شریعتوں کو اسی کی دعوت دینے، اس کی ترغیب دلانے اور اس کے مخالف و معارض لوگوں کے خلاف جدوجہد کرنے والا بنایا۔

[تفسير السعدي-تيسير الكريم الرحمن: ص435]