قیامت کی نشانی : لونڈی اپنے مالک کو جنم دے گی
وعن أبى هريرة رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بارزا للناس فأتاه رجل فقال : يا رسول الله متى الساعة ؟ قال : ما المسؤول عنها بأعلم من السائل ولكن سأحدثك عن أشراطها ، إذا ولدت الأمة ربتها
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن لوگوں کے سامنے تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس سے سوال کیا گیا ہے وہ بھی سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا البتہ میں تمہیں وقوع قیامت کی کچھ نشانیاں بتا تا ہوں : جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنے گی۔“ (تو قیامت قریب ہو گی)
بخاری: کتاب الايمان : باب سؤال جبريل النبي عن الإيمان والاسلام والاحسان (50) مسلم (93) احمد (520/2 – 56) ابو داؤد (4696) ترمذی (2610) نسائی (5001) ابن ماجہ (51) ابن حبان (173) طیالسی (21) شعب الایمان (3973)
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما بارزا للناس فأتاه رجل فقال … إذا ولدت الأمة ربها
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آکر کہنے لگا … (تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جب لونڈی اپنے مالک کو جنم دے گی تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ہے۔“
احمد (178/4)
فوائد :
➊ لونڈی کا اپنے مالک کو جنم دینا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ بعض روایات میں مالک اور بعض میں مالکہ کو جنم دینے کا ذکر ہے البتہ مفہوم دونوں کا ایک ہے۔
➌ لونڈی اپنے مالک کو جنم دے گی ، اس کے کئی مفہوم شارحین سے منقول ہیں۔ مثلا :
◈ اسلام پھیل جائے گا اور مشرکین پر غلبہ پا لیا جائے گا اور ان کی عورتوں کو لونڈی غلام بنا لیا جائے گا جن سے پیدا ہونے والے بچے لونڈی کے مالک ہوں گے کیونکہ وہ بچے لونڈی کے مالک کے نطفے سے ہیں۔
معالم السنن (677) فتح الباری (122/1) شرح نووی (158/1)
◈ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اسے بعید از قیاس قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس قول میں نظر ہے کیونکہ جب یہ پیش گوئی کی گئی تو اس وقت مذکورہ صورت موجود تھی جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد کوئی ایسی صورت ہے جو اس وقت موجود نہیں تھی بلکہ قیامت کے قریب رونما ہوگی۔
◈ جنگیں بکثرت ہوں گی اور لونڈی غلام بھی بکثرت ہوں گے۔ لونڈیوں کی بکثرت خرید و فروخت ہوگی جبکہ بچے مالکوں کے ہوں گے پھر وہی اولاد اپنی ہی ماؤں کو لونڈیوں کی حیثیت سے خرید لائیں گے لیکن اولاد اور ماں کو حقیقت حال کا علم نہیں ہوگا۔
◈ لونڈی مالک بنے گی کا مفہوم یہ ہے کہ اولاد ماں کا حکم نہیں مانے گی بلکہ نافرمان اولاد ماں کے ساتھ لونڈیوں کا سا سلوک کرے گی۔ حالانکہ ماؤں کی نافرمانی بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں موجود تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔
راجح مفہوم :
اس جملے کو حقیقت پر محمول کیا جائے کہ فی الواقع لونڈی اپنے مالک کو جنم دے گی اور آج کے سائنسی دور میں یہ سب کچھ ثابت ہو چکا ہے۔ لوگ کرائے پر عورت حاصل کر کے اپنے نطفے اس کے رحم میں رکھوا دیتے ہیں پھر وہ اس عورت کے رحم میں پرورش پا کر جنم لیتا ہے حالانکہ عورت کی حیثیت ملازمہ (نوکرانی) کی سی ہوتی ہے جبکہ جنم پانے والا اس کے مالک کا بچہ ہونے کی وجہ سے عورت کا بھی مالک ہوتا ہے۔