قربانی کے گوشت کو ذخیرہ کرنے کا حکم صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

قربانی کے گوشت کا ذخیرہ کرنا

توفیق الہی سے اس موضوع کے متعلق تین باتیں ذیل میں پیش کی جارہی ہیں:
➊ جیسا کہ پہلے بیان کیا جاچکا ہے، کہ قربانی کے گوشت کا کھانا، صدقہ کرنا اور اس کا ذخیرہ کرنا سب جائز اور درست ہے، البتہ ایک موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مفلوک الحال بدوی لوگوں کے مدینہ طیبہ آنے پر تین دن سے زیادہ کے لیے قربانی کے گوشت کے ذخیرہ کرنے سے منع فرما دیا، لیکن پھر اس کے دوسرے سال ذخیرہ کرنے کی اجازت دے دی۔
امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”من ضحى منكم فلا يصبحن بعد ثالثة، وبقي فى بيته منه شيء.“
”تم میں سے جو قربانی کرے، تو تیسرے دن کے بعد اس کے گھر میں گوشت سے کچھ باقی نہ رہے۔“
اگلے سال لوگوں نے عرض کیا:
”يا رسول الله نفعل كما فعلنا فى العام الماضي.“
یا رسول اللہ! کیا امسال گزشتہ سال کی طرح کریں؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”كلوا، وأطعموا، وادخروا، فإن ذلك العام كان بالناس جهد، فأردت أن تعينوا فيها.“
کھاؤ، کھلاؤ اور ذخیرہ کرو، گزشتہ سال لوگ تنگی میں تھے، تو میں نے چاہا، کہ تم ان کی اعانت کرو۔
صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي، وما يتزود منها، رقم الحديث 24/10،5569؛ وصحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب ما كان من النهي عن أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث في أول الإسلام وبيان نسخه وإباحته إلى ما شاء، رقم الحديث 34 – (1974)، 1563/3. الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔
ایک دوسری حدیث میں ہے، جس کو امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے، کہ انہوں نے کہا کہ:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کچھ بدوی کنبے عید الاضحیٰ کے موقع پر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ادخروا ثلاثا، ثم تصدقوا بما بقي.
تین دن کے لیے جمع کرو اور باقی خیرات کرو۔“
اس کے بعد لوگوں نے کہا:
”يا رسول الله إن الناس يتخذون الأسقية من ضحاياهم، ويحملون منها الودك.“
یا رسول اللہ! لوگ اپنی قربانیوں سے مشکیں بناتے ہیں اور ان کی چربی کوپگھلا لیتے ہیں۔
اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وما ذاك؟“ تمہارا مقصود کیا ہے؟
انہوں نے عرض کی: ”نهيت أن تؤكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث.“
آپ نے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرما دیا ہوا ہے۔
آپ نے فرمایا:
”إنما نهيتكم من أجل الدافة التى دفت. فكلوا وادخروا وتصدقوا.“
میں نے تو غریبوں کے آنے کی وجہ سے تمہیں منع کیا تھا۔ (اب) تم کھاؤ، ذخیرہ کرو اور صدقہ کرو۔
صحيح مسلم، كتاب الأضاحي، باب بيان ما كان من النهي من أكل لحوم الأضاحي بعد ثلاث في أول الإسلام وبيان نسخه، وإباحته إلى متى شاء جزء من رقم الحديث 28 ۔(1971) 1561/3
➋ مسند احمد کی ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کہ نبی کریم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا:
إني كنت أمرتكم أن لا تأكلوا الأضاحي فوق ثلاثة أيام يتسعكم، وإني أحله لكم، فكلوا منه ما شئتم.
میں نے تمہیں حکم دیا تھا، کہ تین دن سے زیادہ قربانیوں کا گوشت نہ کھاؤ، تا کہ وہ (ان کا گوشت) سب لوگوں تک پہنچ جائے اور میں اب تمہارے لیے یہ جائز قرار دیتا ہوں، کہ جب تک چاہو، ان کا گوشت کھاؤ۔
منقول از فتح الباري 25/10
علاوہ ازیں حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سال تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا اور اس کے دوسرے سال اس کی اجازت دے دی۔ اس طرح یہ ممانعت نو ہجری میں دی گئی اور اجازت دس ہجری میں دی گئی، کیونکہ حجۃ الوداع دس ہجری میں ادا کیا گیا۔
ملاحظہ ہو: المرجع السابق 25/10 – 26
➌ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اب بھی تنگی اور قحط سالی کے حالات پیدا ہوں، تو کیا لوگوں کو تین دن سے زیادہ اپنی قربانیوں کا گوشت کھانے سے منع کرنا جائز ہوگا؟
امام شافعی نے اس بارے میں تحریر کیا ہے: اگر غریب اور محتاج لوگ آجائیں، تو تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہوگی اور اگر ایسی صورت حال نہ ہو، تو قربانیوں کا گوشت کھانے، ذخیرہ کرنے اور صدقہ کرنے کی اجازت ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی تحریر فرمایا ہے: اس بات کا بھی احتمال ہے، کہ تین دن کے بعد قربانیوں کے گوشت کو ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہر حالت میں منسوخ ہو۔
منقول از : المرجع السابق 28/10
امام ابن حزم کی رائے میں تنگی یا مفلوک الحال لوگوں کی آمد کے موقع پر تین دن کے بعد قربانیوں کا گوشت ذخیرہ کرنے کی ممانعت ہوگی۔ انہوں نے اپنی رائے کی تائید میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خطبہ کو پیش کیا ہے، جس میں انہوں نے مدینہ طیبہ میں تنگی کے موقع پر آنحضرت کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع فرمایا تھا۔ امام بخاری نے ابوعبید سے روایت کی ہے، کہ میں حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ [عید الاضحی کے موقع پر] حاضر ہوا۔ انہوں نے خطبہ سے پہلے نماز پڑھائی۔ پھر لوگوں کو خطبہ ارشاد فرمایا اور فرمایا:
”إن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نهاكم أن تأكلوا لحوم نسككم فوق ثلاث.“
یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانیوں کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے سے منع فرمایا۔
صحيح البخاري، كتاب الأضاحي، باب ما يؤكل من لحوم الأضاحي، وما يتزود منها، رقم الحدیث 24/10،5573.
امام ابن حزم تحریر کرتے ہیں، کہ: جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے محاصرہ کے موقع پر بہت سے بدوی لوگ فتنہ کے پیش نظر مدینہ آ گئے اور وہاں تنگی کے حالات پیدا ہو گئے، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مذکورہ بالا خطبہ میں لوگوں کو اسی بات کا حکم دیا، جس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنگی کے زمانہ اور مفلوک الحال لوگوں کے مدینہ طیبہ آنے کے موقع پر دیا۔
ملاحظہ ہو: المحلّی، مسألة 58/8،984
اور شاید یہ کہ ۔۔۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب ۔۔۔ یہی رائے درست ہو، کہ عام حالات میں مسلمان قربانی کا گوشت جب تک چاہیں کھاتے رہیں، لیکن تنگی اور عسرت کے زمانے میں تین دن سے زیادہ نہ کھائیں، تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک یہ گوشت پہنچ سکے۔