مضمون کے اہم نکات
سوال:
کیا صرف ایک نفلی روزہ رکھنا جائز ہے یا اس کے ساتھ دوسرا تیسرا بھی ملایا جائے گا؟
جواب:
صرف ایک نفلی روزہ بھی رکھا جا سکتا ہے، البتہ صرف جمعہ والے دن کو روزے کے ساتھ خاص نہیں کرنا چاہیے، اس سے منع کیا گیا ہے، جمعہ کے ساتھ جمعرات یا ہفتہ کا روزہ ملا لینا چاہیے۔
سوال:
نابالغ لڑکا جو پڑھائی کرتا ہے، کیا اس کے لیے روزہ رکھنا بہتر ہے یا وہ پڑھائی میں وقت لگائے؟
جواب:
روزہ رکھ کر بھی پڑھائی کی جا سکتی ہے۔ نابالغ کو بھی عادت ڈالنے کے لیے روزے رکھوانے چاہیے، یہ اس کی تربیت ہے۔ صحابیات چھوٹے بچوں کو بھی روزے رکھواتی تھیں اور جب وہ روزے کی شدت سے رونے لگتے تو انہیں کھلونوں کے ساتھ بہلاتی تھیں، یہاں تک کہ مغرب کا وقت ہو جاتا۔
(بخاری: 1960، مسلم: 1136)
سوال:
درج ذیل روایت کی سند کیسی ہے؟
❀ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
أوصاني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أصبح يوم صومي دهينا مترجلا ولا تصبح يوم صومك عبوسا وأجب دعوة من دعاك من المسلمين ما لم يظهروا المعازف فإذا أظهروا المعازف فلا تجبهم وصل على من مات من قبلتنا وإن قتل مصلوبا أو مرجوما فلأن تلقى الله بمثل قراب الأرض ذنوبا خير لك من أن تبت الشهادة على أحد من أهل القبلة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے وصیت کی کہ میں روزہ رکھوں تو صبح کے وقت تیل لگایا ہوا ہو اور کنگھی کی ہوئی ہو۔ (مجھے مزید نصیحتیں یہ کیں کہ) اداسی کی حالت میں صبح مت کریں، جو بھی مسلمان آپ کو دعوت دے تو اس کی دعوت کو قبول کریں جب تک کہ وہ (دعوت میں) آلات موسیقی کا استعمال نہ کریں۔ اگر وہ (دعوت میں) آلات موسیقی کا استعمال کریں تو ان کی دعوت قبول مت کریں۔ اہل قبلہ پر نماز جنازہ پڑھیں، اگرچہ اسے سولی دی گئی ہو یا رجم کیا گیا ہو، کیونکہ اگر آپ اللہ کے پاس زمین بھرنے کے برابر گناہ لے کر آئیں تو یہ آپ کے لیے اس سے بہتر ہے کہ آپ اہل قبلہ میں سے کسی کے حق میں گواہی دینے سے منع کر دیں۔“
(المعجم الكبير للطبراني: 10/84)
جواب:
سند باطل ہے۔
➊ یمان بن سعید مصیصی ضعیف ہے۔(لسان الميزان: 7/412)
➋ میسرہ بن عبد ربہ متروک و کذاب ہے۔
➌ ولید بن عبد الواحد تمیمی مجہول الحال ہے، اسے صرف امام ابن حبان رحمہ اللہ نے( الثقات: 9/224 )میں ذکر کیا ہے۔
➍ ابراہیم نخعی کا عنعنہ ہے۔
➎ مغیرہ بن مقسم کا عنعنہ ہے۔
سوال:
کیا شطرنج کھیلنے سے روزے پر کچھ اثر ہوتا ہے؟
جواب:
شطرنج کھیلنا درست نہیں ہے، اس پر وعید آئی ہے۔
❀ علامہ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
”اہل علم کا اجماع ہے کہ شطرنج کھیلنا جوا ہے، جو کہ جائز نہیں۔“
(التمهيد: 13/182، الاستذكار: 8/462)
اس سے روزہ تو نہیں ٹوٹتا، البتہ اجر و ثواب میں کمی آ جاتی ہے۔
سوال:
کیا نفل اور رمضان کے قضا روزوں کی اکھٹی نیت کرنے سے دونوں کا ثواب ملے گا؟
جواب:
دونوں کی اکھٹی نیت کرنا درست نہیں۔
سوال:
عید کے دن روزہ رکھنا کیسا ہے؟
جواب:
ناجائز اور ممنوع ہے۔
سوال:
اگر کسی نے عید الفطر یا عید الاضحی کے دن روزہ کی نذر مانی ہو تو کیا حکم ہے؟
جواب:
عید الفطر اور عید الاضحی کے دن روزہ رکھنا ممنوع ہے، اس دن نذر، فرض یا نفل روزہ رکھنا جائز نہیں۔ اگر کوئی روزہ رکھے تو وہ گناہ گار ہوگا، کیونکہ یہ معصیت کی نذر ہے، اسے پورا کرنا جائز نہیں۔
❀ ابو عمیر بن انس رحمہ اللہ کے چچا جو صحابی رسول ہیں، بیان کرتے ہیں:
غم علينا هلال شوال فأصبحنا صياما فجاء ركب من آخر النهار فشهدوا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم أنهم رأوا الهلال بالأمس فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يفطروا من يومهم وأن يخرجوا لعيدهم من الغد
”ہمیں شوال کا چاند نظر نہ آیا تو ہم نے صبح کو روزہ رکھ لیا، پھر پچھلے پہر ایک قافلہ آیا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر گواہی دی کہ انہوں نے کل چاند دیکھا ہے، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس دن روزہ افطار کرنے اور اگلے دن عید گاہ جانے کا حکم دیا۔“
(مسند الإمام أحمد: 5/86، سنن أبي داود: 1157، سنن النسائي: 1558، سنن ابن ماجه: 1653، وسنده صحيح)
امام دارقطنی رحمہ اللہ (2/170) نے اس کی سند کو حسن، امام ابن الجارود (266) اور امام بیہقی رحمہ اللہ (السنن الكبرى: 3/316) نے صحیح قرار دیا ہے۔
اس حدیث کو علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (المحلى: 3/307، مسئلہ: 552)، حافظ خطابی رحمہ اللہ (معالم السنن: 1/218)، حافظ نووی رحمہ اللہ (خلاصة الأحكام: 2/838) اور حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (البدر المنير: 2/95) نے صحیح اور حافظ ابن منذر رحمہ اللہ (الأوسط: 4/294) نے ”ثابت“ کہا ہے۔
❀ زیاد بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كنت مع ابن عمر فسأله رجل فقال نذرت أن أصوم كل يوم ثلاثاء أو أربعاء ما عشت فوافقت هذا اليوم يوم النحر فقال أمر الله بوفاء النذر ونهينا أن نصوم يوم النحر
”میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا کہ ایک شخص نے سوال کیا: میں نے نذر مانی ہے کہ جب تک زندہ رہوں گا ہر منگل یا بدھ کے دن روزہ رکھوں گا، اب یہ دن عید الاضحیٰ کو آ گیا ہے (میں کیا کروں؟) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے نذریں پوری کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن ہمیں عید الاضحی کو روزہ رکھنے سے منع کر دیا گیا ہے۔“
(صحيح البخاري: 6706، صحيح مسلم: 1139)
❀ علامہ ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں:
لا خلاف بين العلماء أنه لا يجوز صيامهما للناذر ولا للمتطوع ولا يقضى فيهما رمضان والذي يصومهما بعد علمه بالنهي فهو عاص عند جميع الأمة
”اس بارے میں علما کا کوئی اختلاف نہیں کہ عیدین کے دن نذر یا نفل کا روزہ جائز نہیں، نہ عیدین کے دن رمضان کے روزے کی قضا دی جا سکتی ہے۔ جو ممانعت جاننے کے بعد بھی ان دنوں روزہ رکھے تو وہ ساری کی ساری امت کے نزدیک گناہ گار ہوگا۔“
(المسالك في شرح موطأ مالك: 4/419)
❀ علامہ ابو مطرف قنازعی رحمہ اللہ (413ھ) فرماتے ہیں:
أجمع المسلمون على أنه لا يصام يوم الفطر والأضحى
مسلمانوں کا اجماع ہے کہ عید الفطر اور عید الاضحی کو روزہ نہیں رکھا جائے گا۔
(تفسير الموطأ: 2/218)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
صيام هذين اليومين لا خلاف بين العلماء أنه لا يجوز على حال من الأحوال لا لمتطوع ولا لناذر ولا لقاض فرضا ولا لمتمتع لا يجد هديا ولا لأحد من الناس كلهم أن يصومهما وهو إجماع لا تنازع فيه فارتفع القول في ذلك وهما يومان حرام صيامهما فمن نذر صيام واحد منهما فقد نذر معصية
”اس میں اہل علم کے مابین کوئی اختلاف نہیں کہ عیدین کے دن روزہ رکھنا کسی صورت بھی جائز نہیں، نہ نفل والے کے لیے، نہ نذر والے کے لیے، نہ کسی فرض روزے کی قضا دینے والے کے لیے، نہ حج تمتع کرنے والے ایسے شخص کے لیے جس کے پاس ہدی نہ ہو، نہ کسی بھی دوسرے شخص کے لیے۔ اس پر اجماع ہے، کوئی اختلاف نہیں، لہذا اس میں بحث کرنے کی گنجائش نہیں۔ یہ دو دن ایسے ہیں کہ ان میں روزہ رکھنا حرام ہے، لہذا جس نے ان دو دنوں میں سے کسی دن بھی روزہ رکھنے کی نذر مانی تو یقیناً اس نے معصیت کی نذر مانی۔“
(التمهيد: 13/26)
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
اتفق العلماء على أنه لا يجوز لأحد أن يتطوع بالصوم في يومي العيد
”اہل علم کا اتفاق ہے کہ کسی کے لیے عیدین کے دن نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں۔“
(كشف المشكل: 3/128)
معصیت اور حرام کام کی نذر ماننا بھی حرام ہے اور اسے پورا کرنا بالکل جائز نہیں، بلکہ اس کا کفارہ ادا کیا جائے گا۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نذر أن يطيع الله فليطعه ومن نذر أن يعصيه فلا يعصه
”جس نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی نذر مانی ہے وہ اس کی اطاعت کرے (یعنی نذر پوری کرے) اور جس نے اللہ کی نافرمانی کی نذر مانی ہے وہ نافرمانی نہ کرے (یعنی نذر پوری نہ کرے)۔“
(صحيح البخاري: 6696، 6700، موطأ الإمام مالك: 2/476)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
النذر نذران فما كان لله فكفارته الوفاء به وما كان للشيطان فلا وفاء فيه وعليه كفارة يمين
”نذر دو طرح کی ہوتی ہے، جو نذر اللہ کے لیے ہوتی ہے اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے پورا کیا جائے اور جو نذر شیطان کے لیے ہوتی ہے اسے پورا کرنا درست نہیں اور اس کا کفارہ قسم والا ہے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 10/72، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن الجارود رحمہ اللہ (935) نے صحیح قرار دیا ہے۔
سوال:
کیا عید کے دن روزہ رکھنے سے ثواب ملے گا؟
جواب:
ثواب تو نہیں، البتہ حرام کے ارتکاب سے گناہ ملے گا۔
سوال:
کیا مریض دوا سے روزہ افطار کر سکتا ہے؟
جواب:
کر سکتا ہے، مگر بہتر ہے کہ پہلے کچھ کھا پی لے تا کہ معدہ پر دوا کا برا اثر نہ ہو، البتہ جو ادویات خالی پیٹ لی جاتی ہیں ان سے روزہ افطار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
سوال:
اگر کوئی روزہ چھوڑنے کے بہانے سے سفر کا حیلہ کرے تو کیا حکم ہے؟
جواب:
روزہ افطار کرنے کے لیے حیلہ و بہانہ کرنا ممنوع ہے، البتہ اس صورت میں روزہ قضا کیا جا سکتا ہے۔
سوال:
رمضان کے استقبال میں ایک دو روزے رکھنا کیسا ہے؟
جواب:
درست نہیں، حدیث میں اس سے منع کیا گیا ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم
”آپ میں سے کوئی رمضان سے پہلے ایک دو دن روزے ہرگز نہ رکھے، البتہ وہ شخص رکھ سکتا ہے جس کے روزوں کی روٹین میں وہ دن آ جائے۔“
(صحيح البخاري: 1914، صحيح مسلم: 1082)
❀ حافظ ابن دقیق العید رحمہ اللہ (702ھ) فرماتے ہیں:
فيه صريح الرد على الروافض الذين يرون تقديم الصوم على الرؤية
”اس حدیث میں روافض کا صریح رد ہے جو رؤیت ہلال سے پہلے روزہ رکھنا جائز سمجھتے ہیں۔“
(إحكام الأحكام شرح عمدة الأحكام: 2/7، العدة لابن العطار: 2/840)
سوال:
سال بھر میں کن دنوں روزے رکھنا ممنوع ہے؟
جواب:
سال میں پانچ دن روزے رکھنا ممنوع ہے، ایک عید الفطر، ایک عید الاضحیٰ اور تین ایام تشریق (11، 12، 13 ذوالحجہ) کے۔ ان کے علاوہ پورا سال کسی بھی دن نفل روزے رکھے جا سکتے ہیں۔