رمضان کے قضا روزے کب اور کیسے رکھیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔

سوال:

روزوں کی قضا کب دی جائے گی؟

جواب:

جس کے رمضان کے روزے رہ جائیں اس کے لیے لگاتار روزوں کی قضا دینا بہتر ہے، البتہ اگر وقفے وقفے سے اگلے رمضان تک قضا مکمل کر لے تو بھی جائز ہے۔ اگر کوئی شخص رمضان کے روزوں کی قضا دینے سے پہلے شوال کے چھ روزے رکھ لے تو بھی کوئی حرج نہیں۔
❀ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ
”دوسرے دنوں میں (رمضان کے روزوں کی) گنتی پوری کر لیں۔“
(البقرة: 185)
❀ علامہ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ (1414ھ) اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:
إنه أمر بالقضاء مطلقا عن وقت معين فلا يجوز تقييده ببعض الأوقات إلا بدليل
”روزوں کی قضا کا بغیر کسی وقت معین کے مطلق حکم دیا گیا ہے، لہذا اسے بغیر دلیل کے کسی وقت کے ساتھ خاص کرنا جائز نہیں۔“
(مرعاة المفاتيح: 7/23)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں:
كان يكون علي الصوم من رمضان فما أستطيع أن أقضي إلا في شعبان
”مجھ پر رمضان کے روزوں کی قضا ہوتی، میں انہیں شعبان سے پہلے نہ رکھ سکتی تھی۔“
(صحيح البخاري: 1950، صحيح مسلم: 1146)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا رمضان کے روزوں کی قضا تاخیر سے دینا اس بات کی دلیل ہے کہ قضا میں وسعت ہے اور اس میں تاخیر جائز ہے، نیز یہ روایت دلیل ہے کہ اس بارے میں تاخیر کی انتہا ماہ شعبان ہے۔“
(التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: 23/149)
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (852ھ) فرماتے ہیں:
”اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ رمضان کی قضاء کو مطلق طور پر مؤخر کرنا جائز ہے، خواہ عذر کی وجہ سے یا بغیر عذر کے۔“
(فتح الباري: 4/190)
❀ نیز فرماتے ہیں:
”امام بخاری رحمہ اللہ کے ظاہری صنیع سے لگتا ہے کہ آپ رحمہ اللہ روزوں کی قضا (تاخیر) میں وسعت اور وقفہ کو جائز سمجھتے تھے، کیونکہ آپ رحمہ اللہ نے اپنے منہج کے مطابق ترجمتہ الباب میں آثار ذکر کیے ہیں، یہی جمہور کا موقف ہے۔“
(فتح الباري: 4/189)
❀ علامہ عبید اللہ مبارکپوری رحمہ اللہ (1414ھ) فرماتے ہیں:
”یہ حدیث جمہور کی دلیل ہے کہ رمضان کے روزوں کی قضا فوراً دینا ضروری نہیں، کیونکہ اگر قضا میں تاخیر ممنوع ہوتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تاخیر پر قائم نہ رکھتے۔ البتہ جلد سے جلد قضا دینا مستحب ہے، کیونکہ اطاعت اور خیر میں جلدی کرنا اولیٰ ہے۔“
(مرعاة المفاتيح: 7/23)
❀ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
لا يضرك كيف قضيتها إنما هي عدة من أيام أخر فأحصه
”آپ کو کوئی نقصان نہیں، جیسے جی چاہے قضا دیں، صرف دوسرے دنوں میں (رمضان کے روزوں کی) گنتی (پوری کرنا ضروری) ہے۔“
(تغليق التعليق لابن حجر: 3/186، وسنده صحيح)
❀ سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں:
فرقه إذا أحصيته
”جب آپ گنتی پوری کریں تو وقفے میں کوئی حرج نہیں۔“
(سنن الدارقطني: 2/193، وسنده حسن)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
يواتره إن شاء
”چاہے تو متفرق رکھ لے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/34، وسنده صحيح)
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں ہے:
إنه كان لا يرى به بأسا ويقول إنما قال الله فعدة من أيام أخر
”آپ رضی اللہ عنہ وقفہ یا تاخیر میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف دوسرے دنوں کی گنتی کا ذکر فرمایا ہے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 4/258، وسنده صحيح)
سیدنا ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے رمضان کے روزوں کی قضا کے متعلق پوچھا گیا تو فرمایا:
إن الله لم يرخص لكم في فطره وهو لا يريد أن يشق عليكم في قضائه فأحص العدة واصنع ما شئت
”اللہ تعالیٰ نے روزہ چھوڑنے کی رخصت اس لیے نہیں دی کہ قضا میں آپ پر مشقت ڈال دے، آپ جیسے چاہیں گنتی پوری کریں۔“
(سنن الدارقطني: 2/191، السنن الكبرى للبيهقي: 4/258، وسنده حسن)
❀ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
فرق قضاء رمضان وأحص العدة
”رمضان کے روزوں کی قضا وقفہ سے دیں لیکن (رمضان کے روزوں کی) گنتی پوری کریں۔“
(سنن الدارقطني: 2/192، وسنده حسن)
❀ حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ وقفہ سے رمضان کے روزوں کی قضا میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/33، وسنده صحيح)
❀ جعفر بن میمون رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قضاه رمضان عدة من أيام أخر
”رمضان کے روزوں کی قضا میں دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنا ضروری ہے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/33، وسنده صحيح)
❀ عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يواتر قضاء رمضان
”رمضان کے روزوں کی قضاء متفرق دے سکتا ہے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/34، وسنده صحيح)

تنبیہ:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رمضان کے روزوں کی قضا کے بارے میں فرماتے ہیں:
يتابع بينه
”تسلسل کے ساتھ روزے رکھے جائیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/34، وسنده صحيح)
❀ سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يقضيه كهياته
”جس طرح چھوڑے تھے اسی طرح قضا دے گا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/34، وسنده صحيح)
❀ قاسم بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
صمه متتابعا إلا أن يقطع بك كما قطع بك فيه
”روزے کی قضا لگاتار دیں، الا یہ کہ (قضا میں بھی) وہی عارضہ پیش آ جائے جو پہلے پیش آیا تھا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/34، وسنده صحيح)
فہم سلف کی روشنی میں ان اقوال کو استحباب پر محمول کیا جائے گا۔
❀ عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يقضيه متتابعا أحب إلي وإن فرق أجزأه
”رمضان کے روزوں کی قضا لگاتار ہو تو مجھے زیادہ پسند ہے، البتہ قضا میں وقفہ بھی جائز ہے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/35، وسنده صحيح)
❀ محمد بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أحب إلي أن يصومه كما أفطره
”مجھے پسند ہے کہ جس طرح روزے چھوڑے تھے اسی طرح قضا دے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/34، وسنده صحيح)
❀ حکم بن عتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”لگاتار قضا دینا مجھے پسند ہے۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 3/34، وسنده صحيح)
❀ اسحاق بن منصور کوسج رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
قلت قضاء رمضان قال لا بأس به متفرقا قال إسحاق كما قال والتتابع أفضل
”میں نے (امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے) رمضان کی قضا کے بارے میں سوال کیا، فرمایا: متفرق روزے رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ اسحاق بن راہویہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا بھی یہی موقف ہے، البتہ تسلسل کے ساتھ روزے رکھنا افضل ہے۔“
(مسائل الكوسج: 707)
❀ صالح بن احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أنكر أبي على من يقول لا يجزئه إلا متتابع
”میرے والد امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے ان کا رد کیا ہے جو کہتے ہیں کہ رمضان کی قضا صرف تسلسل کے ساتھ ہی ہے۔“
(مسائل صالح: 920)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) فرماتے ہیں:
”(رمضان کی قضا) تسلسل کے ساتھ دینا ضروری نہیں، بلکہ چاہے تو وقفے وقفے سے دے، چاہے تو مسلسل دے۔ یہ جمہور سلف و خلف کا موقف ہے۔ اس پر دلائل موجود ہیں، کیونکہ تسلسل کے ساتھ روزے رکھنا ماہِ رمضان میں ضروری ہے، رمضان کے ختم ہو جانے کے بعد ضروری نہیں، لہذا جتنے روزے رہ گئے ہیں اتنے دنوں کے روزے رکھنا مراد ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ﴾ دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنا ہے۔ پھر فرمایا: ﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ اللہ تعالیٰ تم پر آسانی کرنا چاہتا ہے، تنگی نہیں۔“
(تفسير ابن كثير: 1/504)
❀ محدث البانی رحمہ اللہ (1420ھ) فرماتے ہیں:
”حاصل کلام یہ کہ (روزوں کی قضا میں) وقفہ یا تسلسل کے متعلق کوئی مرفوع حدیث ثابت نہیں ہے۔ درست بات یہی ہے کہ دونوں عمل ہی جائز ہیں جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے۔“
(إرواء الغليل: 4/97)
رمضان کے روزوں کی قضا پے در پے مستحب ہے، ضروری نہیں، لگاتار قضا کو ضروری قرار دینا بے دلیل ہے، اس مؤقف کو سلف صالحین کی حمایت حاصل نہیں۔
❀ علامہ ابن بطال رحمہ اللہ (449ھ) فرماتے ہیں:
أجمع أهل العلم على أن من قضى ما عليه من رمضان في شعبان بعده أنه مؤد لفرضه غير مفرط
”اہل علم کا اجماع ہے کہ جس نے رمضان کے چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا آئندہ شعبان میں دے دی، اس کا فرض ادا ہو گیا، وہ گناہ گار نہیں۔“
(شرح صحيح البخاري: 4/95)

سوال:

جس عورت نے پچھلے رمضان کی قضا نہیں دی اور اگلا رمضان شروع ہو گیا تو وہ کیا کرے؟

جواب:

رمضان کے روزوں کی قضا اگلے رمضان سے پہلے پہلے دینا ضروری ہے، اس سے تجاوز جائز نہیں، لہذا جس نے اگلے رمضان تک روزوں کی قضا نہیں دی اسے چاہیے کہ توبہ کرے اور رمضان گزرنے کے بعد دونوں مہینوں کے چھوڑے ہوئے روزوں کی قضا دے۔