19- اللہ تعالیٰ اکیلا ہی خالق اور عبادت کے لائق ہے
سوال:
ایک عیسائی سے ہماری بحث و تکرار ہوگئی تو اس گفتگو کے دوران میں اس نے یہ سوال کر دیا کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے جیسا ایک اور الٰہ پیدا کرنے کی طاقت و قدرت رکھتا ہے؟ میں خاموش ہوگیا اور مجھے جواب دینے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔ براہِ مہربانی ہماری راہنمائی فرمائیں کہ اس کا جواب کیا ہے؟
جواب:
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے:
مَا اتَّخَذَ اللَّهُ مِنْ وَلَدٍ وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَهٍ إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلَهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ [المومنون: 91]
”اللہ نے نہ کوئی اولاد بنائی اور نہ کبھی اس کے ساتھ کوئی معبود تھا، اس وقت ضرور ہر معبود، جو کچھ اس نے پیدا کیا تھا، اسے لے کر چل دیتا اور یقیناً ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کر دیتا۔ پاک ہے اللہ اس سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔“
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں دوسرے الٰہ ہونے کی صورت میں ان کی مخالفت ذکر کی ہے، لہٰذا اگر کوئی دوسرا الٰہ تصور کر لیا جائے تو اس سے مندرجہ ذیل خرابیاں لازم آتی ہیں:
① اللہ تعالیٰ نے إِذًا لَذَهَبَ كُلُّ إِلَهٍ بِمَا خَلَقَ فرما کر یہ وضاحت فرما دی کہ ہر ایک الٰہ اپنی پیدا کردہ مخلوق کو لے کر جدا اور الگ ہو جاتا اور ایک کی حکومت دوسرے سے جدا ہوتی اور دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑنے اور ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔ اللہ رب العٰلمین ایسی تمام کمزوریوں سے پاک ہے۔
② دوسری خرابی یہ ہے کہ دونوں کے درمیان ہر وقت اختلاف ہوتا، ایک دوسرے پر غالب آنے اور اس کے پاس جو کچھ ہو، چھین لینے کی فکر میں رہتا اور طاقت ور کو اپنے سے کمزور پر غلبہ پانے اور اس کی حکومت کو چھیننے کی فکر دامن گیر ہوتی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ [المومنون: 91]
”اور یقیناً ان میں سے بعض بعض پر چڑھائی کر دیتا۔“
اللہ تعالیٰ ظالموں کے اس قول سے بڑا ہی بلند و بالا ہے۔
③ اگر ایسا ہو جائے تو زمین و آسمان اور ان کے درمیان رہنے والی ساری مخلوق تباہ و برباد ہو جائے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَتَا فَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا يَصِفُونَ [الأنبياء: 22]
”اگر ان دونوں میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود ہوتے تو وہ دونوں ضرور بگڑ جاتے۔ سو پاک ہے اللہ جو عرش کا رب ہے، ان چیزوں سے جو وہ بیان کرتے ہیں۔“
اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی الٰہ کے ہونے کا یہ مطلب ہے کہ ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے پر قادر ہے، اس کے نتیجے میں لڑائی جھگڑا ہی ہوگا اور زمین و آسمان کا سارا نظام تباہ و برباد ہو کر رہ جائے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسے تمام عیبوں سے بالا ہے۔
لہٰذا کم علم اور معرفت نہ رکھنے والے انسان کو ایسے گمراہ لوگوں کے ساتھ بحث و مباحثہ نہیں کرنا چاہیے، کیونکہ عدم علم کی وجہ سے انسان اعتراض کا صحیح جواب نہیں دے سکتا اور نہ اس کے سامنے جو مضبوط موقف ہے، پیش کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں انسان کے خود ہی شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہے اور یہی ان لوگوں کا مقصد ہے۔ (اللجنة الدائمة: 18885)