جماعت اسلامی اور فکرِ مودودی: ایک تنقیدی و تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس حکیم اجمل خان صاحب کی مرتب کردہ کتاب "جماعت اسلامی کو پہچانیے” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

جماعت اسلامی اور بانی جماعت اسلامی

بقلم: حکیم اجمل خاں

جماعت اسلامی، جو اب برصغیر کے باہر بھی ایک اسلامی تنظیم کے نام سے مشہور ہے، جناب مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب کی قائم کردہ ہے جو انہوں نے 1941ء میں اپنے چند ساتھیوں کی معیت میں پٹھان کوٹ (پنجاب) انڈیا کے ایک گاؤں جمال پور میں قائم کی تھی، جو بعد میں لاہور منتقل ہوئی۔

بانی جماعت:

بانی جماعت اسلامی مولانا مودودی صاحب اورنگ آباد (مرہٹواڑہ) سابق ریاست حیدرآباد کے رہنے والے تھے، ان کی تعلیمی صلاحیت کے بارے میں مختلف روایات ہیں۔ وہ اگرچہ کسی باضابطہ دینی درس گاہ یا عالم سے نہیں پڑھے تھے مگر اردو، عربی، فارسی کی صلاحیت رکھتے تھے، اور اردو کے اچھے انشا پرداز تھے، اس صلاحیت کی بنا پر انہوں نے متعدد اخبار و اخبارات تاج، الجمعیۃ وغیرہ میں کام کیا۔ اور اسی توسط سے وہ بعض دینی تحریکات میں بھی دلچسپی لیتے رہے۔

حیدرآباد دکن سے کسی صاحب نے ترجمان القرآن کے نام سے رسالہ جاری کیا تھا مگر وہ اسے کامیابی کے ساتھ چلانے میں ناکام رہے، مولانا مودودی صاحب چونکہ اچھے انشا پرداز و مضمون نگار اور پھر صحافتی ذوق رکھتے تھے، اس لئے 1352ھ میں کسی معاہدے کے تحت یہ رسالہ مولوی صاحب کی ادارت میں نکلنے لگا۔ اس رسالے میں مودودی صاحب نے اسلام اور اسلامی مسائل پر جدید انداز سے لکھنا شروع کیا۔ جس سے وہ ہندوستان کے دینی و علمی حلقوں میں بہت جلد ایک اسلامی قلم کار کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔

ایک مرحلے پر اس زمانے کے مشہور مسلم لیڈر رئیس الاحرار مولانا محمد علی جوہر مرحوم نے دہلی کی جامع مسجد شاہجہانی میں اسلامی جہاد پر تقریر فرمائی، ساتھ ہی جہاد پر ایک مبسوط کتاب لکھنے کی دعوت عام بھی دی۔ جس سے متاثر ہو کر مولانا مودودی صاحب اپنی مشہور "الجہاد فی الاسلام” مرتب کی جو اپنے موضوع پر ایک مبسوط کتاب تسلیم کی گئی۔ کتاب "الجہاد فی الاسلام” اور رسالہ ترجمان القرآن کے جدید مضامین مولانا مودودی صاحب کے بطور داعی اسلام تعارف کے لئے کافی ہو گئے تھے۔

مولانا ترجمان القرآن میں صرف دینی مضامین لکھتے تھے، مگر ان دنوں آزادی کی مختلف تحریکات سے یہ یقین ہو چکا تھا کہ اب ہندوستان آزاد ہونے میں بہت دیر نہیں ہے۔ بلکہ مسلم لیگ کی ایک آواز پر ایک آزاد مسلم ریاست کے وجود میں آنے کے امکانات بھی واضح ہو گئے ہیں۔ اس لئے موصوف نے اسلامی سیاسیات پر بھی لکھنا شروع کر دیا۔ جس سے وہ مذہبی کے ساتھ سیاسی و ملی میدان میں بھی پہنچ گئے۔

مولانا کی دوررس نگاہوں نے دیکھ لیا تھا کہ نئی تحریکات و تنظیمات کے لئے پنجاب کی زمین بہت سازگار اور زرخیز رہتی ہے جیسا کہ اس کی موزونیت کا علامہ اقبال نے بھی ذکر خیر فرمایا ہے ع

مذہب میں بہت تازہ و پنداس کی طبیعت // کر لے کہیں منزل تو گزرتا ہے بہت جلد

تحقیق کی بازی ہو تو شرکت نہیں کرتا // ہو کھیل مریدی کا تو ہرتا ہے بہت جلد

تاویل کا پھندا کوئی صیاد لگا دے // یہ شاخ نشیمن سے اترتا ہے بہت جلد

مولانا بھی اسکی زرخیزی دیکھ کر حیدرآباد سے پنجاب منتقل ہو گئے۔ اور ایک نئی بستی آبادی۔ مگر چونکہ ان کے پاس پیری مریدی کا کوئی کھیل یا سامان نہیں تھا، بلکہ سیاسی مقاصد تھے، اس لئے ان کی تحریک کے لئے یہاں کا ماحول راس نہیں آیا۔ پنجاب کے جاگیردارانہ ماحول میں جہاں خود تحریک آزادی ہند، اور کانگریس ہی کے لئے لالے پڑے رہے۔ مولانا تاحیات صدابہ صحرا بنے رہے۔ اور ان کی تحریک پنجاب میں کتابوں، اخبارات و رسائل سے آگے قبولیت حاصل نہ کر سکی۔

جماعت اسلامی کے قیام کا پس منظر:

مغل حکومت کے خاتمے، تحریک مجاہدین کی ناکامی اور 1857ء کی تباہی کے بعد مسلمانوں میں تعلیمی و تحریکاتی رجحانات شدت سے ابھرے۔ جن کی داغ بیل حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے خاندان نے ڈالی تھی۔ انہوں نے دہلی میں متعدد دینی درس گاہیں قائم کیں، جن میں برصغیر کی ممتاز دینی شخصیتوں نے تعلیم و تربیت حاصل کی۔ سرکاری سرپرستی میں چلنے والا تعلیمی ادارہ اینگلو عربک سکول اجمیری گیٹ پر قائم ہوا۔ جس سے ہندوستانی ملت اسلامیہ کی کشتی کے متعدد نگہبان فیض یاب ہوئے۔ علمائے کرام نے تو بڑی بڑی دینی درسگاہیں بنائیں، مگر جدید تعلیم یافتہ اور انگریز حکومت سے تعلق رکھنے والوں نے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی بنیادیں ڈالیں۔ علمائے کرام انگریزی حکومت اور انگریزی تعلیم کے سخت مخالف تھے۔ جبکہ سرسید احمد خان مرحوم اور ان کے ساتھی انگریزی تعلیم کے حصول کو مسلمانوں کی ترقی کے لئے ضروری سمجھتے تھے، یہ بڑی کشمکش کا دور تھا۔ تاہم دونوں تحریکیں پروان چڑھتی رہیں۔ درجنوں تنظیمیں، ادارے، تحریکات مثلاً سائنٹیفک سوسائٹی علی گڑھ، مدرسۃ العلوم علی گڑھ، ندوۃ العلماء لکھنؤ، دارالعلوم دیوبند، آل انڈیا اہل حدیث کانفرنس، آل انڈیا مسلم ایجوکیشنل کانفرنس، انجمن حمایت اسلام لاہور، خلافت کمیٹی، جمعیت علمائے ہند، حزب اللہ، مسلم لیگ، مجلس احرار اسلام، شیعہ پولیٹیکل کانفرنس، خاکسار تحریک، تبلیغی جماعت وغیرہ وجود میں آتی چلی گئیں۔ علاقائی تنظیمیں اور ادارے ان کے علاوہ تھے، اخبارات و رسائل کا دور بھی شروع ہوا، کتابیں چھپنے لگیں۔ ان تمام چیزوں سے مسلمانوں میں نہ صرف روشن خیالی پیدا ہوئی بلکہ گہرا اقتصادی، تعلیمی، سیاسی اور سماجی شعور بھی بیدار ہوا۔ کانگریس نے ملک کی آزادی کی آواز بلند کی، تو مسلمانوں نے بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ان کی ایک معقول تعداد تو آزادی وطن کے سلسلے میں کانگریس کی معاون بنی رہی، مگر بہت سے مسلمانوں نے مسلم علی جناح کی قیادت میں ایک علیحدہ آزاد مسلم ریاست کی مانگ مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے شروع کر دی۔

مولانا مودودی صاحب عین اسی دور کی پیداوار ہیں۔ مسٹر جناح اور ان کے ساتھیوں نے علیحدہ مسلم قومی حکومت کی مانگ کی، مگر مولانا مودودی صاحب نے، جن کی تحریک ابھی صرف رسالہ ترجمان القرآن اور اس کے چند قارئین تک محدود تھی، اسلامی حکومت یا حکومت الہیہ کا نیا تصور پیش کیا۔ مولانا صاحب نے اپنے موقف کی حمایت میں صرف مضامین ہی لکھے بلکہ "مسلمان اور سیاسی کشمکش” کے عنوان سے کتاب بھی مرتب کی، جس میں یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی، کہ قوم پرستی کی بنیادوں پر حاصل کی گئی حکومت، اسلام کے لئے مفید نہیں ہو سکتی۔ اور یہ کہ اسلام میں قوم پرستی کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ وغیرہ اس مشن کی حمایت میں انہوں نے تقریری سلسلہ بھی شروع کیا جیسا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ کے سامنے قومی طرزِ حکومت کے خلاف ان کی تقریر بہت مشہور ہے۔

مسلم قومی حکومت کے قیام کا نسخہ تو بہت آسان اور سہل تھا۔ اس کے لئے زمین ہموار ہو چکی تھی، چنانچہ بعض جغرافیائی و سیاسی عوامل کی وجہ سے یہ نسخہ کارگر ثابت ہوا۔ مگر مودودی صاحب کی مجوزہ حکومت الہیہ جان جوکھوں کی بات تھی، جسے مولانا صاحب سیاسی تحریکوں کے طرز پر محض نعرے، اخبارات، کتابوں، اور تنظیم کے ذریعے سے قائم کرنا چاہتے تھے۔ جبکہ اسلامی حکومت اصلاحِ عقیدہ و معاشرہ، اور طریقِ علی منہاج النبوۃ کے بغیر وجود میں نہیں آ سکتی تھی۔

ضرورت ایجاد کی ماں ہے:

مولانا مودودی صاحب چونکہ اسلام کے فطری تقاضوں اور علی منہاج النبوۃ طریقے پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ اور اس سے بے نیاز ہو کر اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے، اس لئے انہوں نے مغربی طرز پر الگ پارٹی یا تحریک چلانے کا انداز اختیار فرمایا۔ اور سیاسی پارٹیوں کی طرح مسلم لیگ کے بجائے جماعت اسلامی قائم کی۔ اور اس کی دعوت، پروگرام، اور دستور کو اسلام، اسلامی تحریک، اسلامی انقلاب، حکومتِ الہیہ، نظامِ حیات، ضابطہ حیات، اسلامی قانون، اسلامی اسٹیٹ یا نظام، اقامتِ دین، اسلامک اسکول آف تھاٹ وغیرہ اپنی وضع کردہ جدید اصطلاحات سے سجایا تاکہ سیاست و اقتصادیت پسند مسلمانوں کے لئے اس میں کشش اور جاذبیت پیدا ہو سکے۔ اور لوگ ان کے اسلامی حکومت کے نعرے کو قبول کر کے ان کے حامی بن جائیں۔

مولانا صاحب نے اپنی تحریک کو مقبولِ عام بنانے کے لئے نہ صرف نئی اصطلاحات و الفاظ ہی وضع فرمائے بلکہ ضرورۃً مستقل شرعی اصطلاحات و الفاظ کے معانی و مفاہیم بھی بدل دیے تاکہ ان کی دعوت کی پسندیدگی میں کوئی چیز بھی خارج نہ ہو، اور اس کی عوامیت اور ہر دلعزیزی یقینی بن جائے اور ہر مسلمان آنکھیں بند کر کے ان کی مجوزہ اسلامی حکومت کے حصول میں لگ جائے۔ اس ضمن میں موصوف نے سب سے بڑی جسارت یہ کی، کہ قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات "الہ، رب، عبادت، اور دین” کے معنی و مفہوم کو بدل دیا۔ پھر یہ فرمایا کہ ان بنیادی اصطلاحات کا معنی و مفہوم چونکہ مسلمانوں کی نگاہوں سے 1400 سو سال تک مستور رہا۔ اس لئے قرآنِ کریم کی تین چوتھائی تعلیم ہی ان کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ اب انہوں نے صحیح مفہوم بتایا ہے۔ جو شخص ان کے بتائے ہوئے کلِ دین پر نہیں چلے گا، وہ یہود کی راہ اختیار کرے گا۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں)

مولانا مودودی صاحب نے ہر مرحلے پر حتیٰ کہ اپنے دستور میں دینی احکام و مسائل کو قرآن و حدیث سے اخذ کرنے کا وعدہ فرمایا مگر عملاً اس کے خلاف کیا۔ اور مسلکِ اعتدال یا "اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ” وغیرہ کتابچے یا مضامین لکھے، جن میں ایک طرف تو "سب اچھا ہے” کا طریقہ اختیار کیا، اور دوسری طرف تقلیدِ ائمہ کی حمایت فرمائی۔ اور خود بطور حنفی مقلد زندگی گزارتے رہے، نیز جماعت کے تمام عہدیداران اور کارکنان کو چھوٹ دیے رکھی کہ وہ شیعہ، بدعتی، مقلد وغیرہ رہتے ہوئے بھی ان کی جماعت میں حکومتِ الہیہ کے قیام کے لئے رہ سکتے ہیں، صحتِ عقیدہ کی تو مولانا کے ہاں کوئی اہمیت ہی نہیں وہ تفہیمات میں فرماتے ہیں۔

یہ صحیح ہے کہ عقائد کے باب میں قیاسات و تاویلات سے جو راہیں اختیار کی گئی ہیں ان میں سے، بہت سی راہیں غلط ہیں لیکن ہر غلطی لازماً کفر نہیں ہے۔ غلطی کو غلطی کہنا اور اس کے ارتکاب کرنے والے کو گمراہ اور غلط سمجھنا اور اس کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرنا بلاشبہ جائز ہے، لیکن جب تک کوئی شخص اس نفسِ حقیقت کا انکار نہیں کرتا جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے کا حکم دیا ہے اس کو کافر کہنا کسی طرح بھی جائز نہیں، خواہ اس کی گمراہی کتنی ہی بڑھی ہوئی ہو۔

حکومت قائم کرنے کے لئے چونکہ عوامی حمایت حاصل ہونا ضروری ہوتا ہے۔ اس لئے مولانا صاحب نے اعتدال کا مسلک اپنایا۔ مگر اس میں یہاں تک بڑھ گئے کہ جب کتاب "خلافت و ملوکیت” لکھی، تو۔۔۔۔۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی اہانت سے بھی گریز نہیں کیا۔ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی غلطیاں نکال ڈالیں تاکہ شیعہ سنی کے اصولی اختلاف کو بھی اعتدال کے راستے پر لا کر بالآخر شیعوں کی حمایت حاصل ہو جائے، سیاسی زندگی خصوصاً مغربی طرزِ حکومت نے انسانی معاشرہ کو جو ذہنی و سماجی آلودگی و آزادی کی نعمت بخشی ہے، اس کی موجودگی میں شریعتِ اسلامیہ کے عبادتی، اخلاقی اور معاملاتی احکام و مسائل پر عمل کرنا بذاتِ خود طبائع پر گراں گذرتا ہے، اور حکومت الہیہ کے علمبرداروں کے لئے ان پر عمل کرنا مشکل ہو گا۔ اس لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کی تخفیف کا راستہ بھی اپنایا۔ اور حدیث کی صحت پر اعتراضات وارد کرنا شروع کئے، کہیں اسے ظنی قرار دیا، کہیں صرف عقل کی کسوٹی پر بیٹھنے والی حدیث کو لینے کی حمایت کی، روایت کے مروجہ اسلامی اصولوں کو باطل قرار دیا، اور اصح الکتب بعد کتاب اللہ، بخاری شریف کی صحت پر شبہات وارد کئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عاداتِ مبارکہ کو سنت سے جدا قرار دیا، غرض تخفیفِ حدیث کے لئے جو جتن بھی کر سکتے تھے، بڑی جسارت کے ساتھ مولانا صاحب اختیار فرماتے رہے۔ اور جو چیزیں مناسبِ حال اور جدید انسانی عقل وفہم پر فٹ بیٹھنے والی، ومزاج کے مطابق تھیں دین میں انہیں شامل رکھنے کی اجازت بخشی۔ اور جو فٹ نہیں تھی، انہیں تعبیر اور تخفیفِ حدیث کے راستے سے غلط قرار دیا۔ اسلامی عبادات خصوصاً نماز، روزہ کو بھی ٹریننگ کورس سے تعبیر کیا۔ دینی تعلیم و تربیت کے کام سے مولانا روزِ اول ہی سے بیزار تھے۔ وہ مروجہ دینی عربی مدارس کی تعلیم کو لوٹا، مسواک، مصلے اور استنجاء کی تعلیم سمجھتے تھے۔ اور خود چونکہ جدید دور کے مجددِ اسلام تھے، وہ محض کتابوں، رسالوں اور اخبارات کے ذریعے ذہنوں کو سدھارنے کا طریقہ کافی سمجھتے تھے۔ اسی لئے موصوف نے اپنی زندگی میں ایک بھی دینی درسگاہ قائم نہیں کی، اور پاکستان میں جماعت اسلامی کی ایک بھی تعلیمی درسگاہ نہیں، جس میں مسلمان بچے دینی و دنیاوی تعلیم حاصل کر سکتے ہوں۔ موصوف نے کبھی یہ بھی محسوس نہیں کیا کہ جب حکومت ان کے ہاتھ میں آئے گی تو وہ بغیر دینی عمال و حکام کے اسے الہیہ کیسے بنائیں گے، اور یہ انگریزی کی پروردہ یا مغربی طرز پر تربیت یافتہ سرکاری مشینری ان کی مجوزہ حکومتِ الہیہ کو کیسے چلائے گی۔

مصلحت اور حکمتِ عملی کے نام پر مولانا زندگی بھر چولے بدلتے رہے۔ شروع میں تو انہوں نے مسلم قومی حکومت کے نظریے کی مخالفت فرمائی مگر جب پاکستان وجود میں آگیا اور وہاں منتقل ہو گئے تو صالح قیادت کی تبدیلی کے نام پر پاکستان کے مغربی طرزِ جمہوریت والے الیکشن میں ہی کود پڑے۔ مصلحتاً صدر ایوب کے مقابلے میں ایک ناتواں بوڑھی خاتون مس فاطمہ جناح کی حمایت فرمائی۔

عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے لئے غلافِ کعبہ کی، جو پاکستان میں تیار ہوا تھا، اور ابھی اسے کعبہ کی ہوا بھی نہیں لگی تھی، تقدس کے نام پر نمائش کروائی اور عوام کی ضعیف الاعتقادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ساتھ ساتھ گھومتے رہے۔ استغفراللہ

غرض مولانا کے دینی افکار، خیالات اور تعبیرات میں جا بجا، تجدّد، اعتزال، تخفیفِ حدیث، تشیع، اہانتِ صحابہ، دینی تعلیم و تربیت سے بیزاری اور موقع پرستی و مصلحت بینی کے پہلو نمایاں رہے ہیں۔ جو کسی طرح بھی ایک حقیقی داعیٔ اسلام کی زندگی میں نہیں ہو سکتے۔ اب ذرا ایک ایک کر کے ہم ان کا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔

تجدد و اعتزال کا راستہ اور اسلام کی بنیادی اصطلاحات کے معنی و مفہوم میں تبدیلی:

مولانا صاحب نے حکومتِ الہیہ کے حصول اور قیام کے لئے اسلام کو سیاسیانے کا عمل بڑی سنجیدگی سے شروع کیا۔ اور اس ضمن میں دو نئی باتیں انہوں نے سلف صالحین کے طریقے سے بالکل الگ ہٹ کر اختیار کیں۔

قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات کے مفہوم کی نئی تشریح۔

مکمل دین کا نعرہ۔

ظاہر ہے کہ ان دونوں راستوں کو اختیار کئے بغیر وہ اسلام کو کمیونزم، سوشلزم جیسی تحریکوں کا لباس نہیں پہنا سکتے تھے چنانچہ اسی مقصد کیلئے انہوں نے "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں” نامی کتاب لکھی۔ جس میں الہ، رب، عبادت اور دین کے معنی و مفہوم کو بدل دیا۔ ذیل میں ہم ان کے معتقدات کو ذرا اختصار کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔

❀ اس کی ایک وجہ تو خالص عربیت کے ذوق کی کمی تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام کی سوسائٹی میں جو لوگ پیدا ہوئے تھے ان کے لئے الہ اور رب، اور دین اور عبادت کے وہ معانی باقی نہ رہے تھے جو نزول کے وقت غیر مسلم سوسائٹی میں رائج تھے۔ [قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں]

❀ پس حقیقت یہ ہے کہ محض ان چار بنیادی اصطلاحوں کے مفہوم پر پردہ پڑ جانے کی بدولت قرآن کی تین چوتھائی تعلیم بلکہ اس کی حقیقی روح نگاہوں سے مستور ہو گئی۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں)

مندرجه حوالوں میں تو مفہوم کی تبدیلی کا جواز بیان کیا گیا ہے، مگر اس کے بعد موصوف نے

الہ کا مفہوم اقتدار

رب کا مطلب مرکزِ اجتماع

عبادت کا معنی اطاعت

دین کا ترجمہ سٹیٹ یا نظام فرما دیا

❀ الہ کے مفہوم کے بارے میں فرماتے ہیں۔

ان تمام آیات میں اوّل سے آخر تک ایک ہی مرکزی خیال پایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ ہے، کہ الہیت اور اقتدار لازم ملزوم ہیں۔ اور اپنی روح اور معنی کے اعتبار سے دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ [قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں]

❀ اور علیٰ ہذا القیاس وہ شخص جو کسی کے حکم کو قانون اور کسی کے امر و نہی کو اپنے لئے واجب الاطاعت قرار دیتا ہے، وہ بھی اس کو مقتدرِ اعلیٰ تسلیم کرتا ہے پس الوہیت کی اصل روح اقتدار ہے۔ (حوالہ مذکور)

❀ اقتدارِ اعلیٰ کی وحدانیت کا اقتضاء یہ ہے، کہ حاکمیت و فرمانروائی کی جتنی قسمیں ہیں سب ایک مقتدرِ اعلیٰ کی ذات میں مرکوز ہوں۔ اور حاکمیت کا کوئی جزو بھی کسی دوسرے کی طرف منتقل نہ ہو۔ (حوالہ مذکور)

رب کا مطلب:

اس لفظ کا مادہ رب ب ہے، جس کا ابتدائی و اساسی مفہوم پرورش ہے۔ پھر اس سے تصرّف، خبرگیری، اصلاحِ حال اور اتمام و تکمیل کا مفہوم پیدا ہوا پھر اسی بنیاد پر فوقیت، سیادت، مالکیت، آقائی، کے مفہومات اس میں پیدا ہو گئے۔

اور رب کا یہ مفہوم کہ وہ امر و نہی کا مختار، اقتدارِ اعلیٰ کا مالک، ہدایت و رہنمائی کا منبع، قانون کا ماخذ، مملکت کا رئیس، اور اجتماع کا مرکز ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک بالکل ہی ایک دوسری حیثیت رکھتا تھا اور اس مفہوم کے اعتبار سے وہ یا تو اللہ کے بجائے صرف انسانوں ہی کو رب مانتے تھے، یا فطری طور پر اللہ کے رب با وجود عملاً انسانوں کی اخلاقی و تمدنی، اور سیاسی ربوبیت کے آگے سرِ اطاعت خم کئے رکھتے تھے۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں)

عبادت کے معنی:

اس تشریح سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کی مادہ ،عبد، کا اساسی مفہوم کسی کی بالادستی و برتری تسلیم کر کے اس کے مقابلے میں اپنی آزادی و خودمختاری سے دست بردار ہو جانا، سرتابی و مزاحمت چھوڑ دینا، اور اس کے لئے رام ہو جانا ہے۔ یہی حقیقت بندگی اور غلامی کی ہے۔ لہٰذا اس لفظ سے اوّلین تصور جو ایک عرب کے ذہن میں پیدا ہے وہ بندگی اور غلامی ہی کا تصور ہے۔ پھر چونکہ غلام کا اصلی کام اپنے آقا کی اطاعت و فرمانبرداری ہے اس لئے لازماً اس کے ساتھ اطاعت ہی کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں)

دین کا ترجمہ:

قرآنی زبان میں دین ایک پورے نظام کی نمائندگی کرتا ہے۔ جس کی ترکیب چار اجزاء سے ہوتی ہے۔

حاکمیت و اقتدارِ اعلیٰ

حاکمیت کے مقابلے میں تسلیم و اطاعت

وہ نظامِ فکر و عمل جو اس حاکمیت کے زیرِ اثر ہے۔

مکافات، جو اقتدارِ اعلیٰ کی طرف سے اس نظام کی وفاداری و اطاعت یا سرکشی و بغاوت کے صلے میں دی جائے۔

قرآن کبھی لفظ دین کا اطلاق معنی اوّل و دوم پر کرتا ہے، کبھی معنی سوم پر، کبھی چہارم پر، اور کہیں الدین کہہ کر پورا نظام اپنے چاروں اجزاء سمیت سمیٹ لیتا ہے۔ (قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں)

❀ غالباً دنیا کی کسی زبان میں کوئی اصطلاح ایسی جامع نہیں ہے جو اس پورے مفہوم پر حاوی ہو، موجودہ زمانے کا لفظ اسٹیٹ کسی حد تک اس کے قریب پہنچ گیا ہے۔ لیکن اس کو دنیا کے پورے معنوی حدود پر حاوی ہونے کے لئے مزید وسعت درکار ہے۔ [قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں]

❀ مولانا مودودی صاحب کی اہم ترین کتاب "قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں” کے مندرجہ ذیل اقتباسات کے مطالعہ کے بعد اسلام سے روشناس ایک مسلمان کو یہ اندازہ بخوبی ہو جاتا ہے، کہ مولانا صاحب نے ان اصطلاحات کے معنی و مفہوم میں تبدیلیاں کر کے کس طرح اپنی مطلب برآری کی ہے۔ اور شریعتِ اسلامیہ کے مابعد الطبیعی اور اخلاقی تصورات کو مادہ اور ریاست کی چادر میں لپیٹ کر اسلام کو سیاست محض بنا دیا ہے۔ اسی لئے وہ بار بار مکمل دین، مکمل دین کی رٹ لگاتے ہیں تاکہ لوگ اسلام میں سیاست کو اوّلین پوزیشن اور اسے دین کا مقصود قرار دے کر ان کے سیاسی نعرے کی حمایت کرنے لگیں۔

حضرت مولانا کی اس تفہیم و تشریح کے بعد 1400 سو سالہ اسلامی عہد، جس میں خلافت راشدہ، کے تیس (30) سال تجمیع قرآن مجید، تدوینِ حدیث، تابعین، فقہا، محدثین کے تمام ادوار کارنامے اور تاریخ شامل ہے، دفترِ بے معنی ہے، کیونکہ مولانا کا خیال کے مطابق 1400 سو سال تک بنیادی اصطلاحات کا مفہوم کسی کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ تو منطقی طور پر اس عرصے میں جو کچھ مسلمان کرتے رہے، وہ گمراہی تھا، مولانا صاحب کی اس جسارت سے مسلمان تو کیا غیر مسلم بھی حیران ہوں گے کس طرح ایک شخص نے 1400 سو سال کے بعد اسلام کی نئی تعبیر پیش کی ہے۔

جو مغربی مفکرین، ناقدین اور مستشرقین اسلامی تعلیمات اخلاق و معاملات، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ کے حسین لمحات، حرکات، سکنات، اقوال، کردار اور اقرار حتیٰ کہ اشارات کی حفاظت، ترتیب و تدوین پر ملتِ اسلامیہ کے ضبط و احتیاط کے قائل اور مداح تھے، مولانا کی اس تشریح کے بعد کیا سوچتے ہوں گے۔
"کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا”

مولانا مودودی صاحب نے جس انداز سے دینِ اسلام کی تفہیم و تشریح کی ہے، وہ کوئی جزوی غلطی نہیں، بلکہ اس تشریح سے وہ دین کے مجموعی فکر میں غلطی کر گئے ہیں۔ اور اس کے بعد جس قدر باتیں، تحریریں، خیالات، کتابیں، تقریریں موصوف نے تحریر فرمائی ہیں، وہ تمام کی تمام یقینی طور پر ان تشریحات کے تابع ہیں۔ جو کھلا ہوا اعتزال و تجدّد ہے۔

تخفیفِ حدیث:

مولانا مودودی صاحب نے "خالص عربیت کے ذوق کی کمی” کا طعنہ دے کر تو یہ فرما دیا ہے کہ چودہ سو سال عرصے میں قرآن کی تین چوتھائی تفہیم و تشریح مستور ہو گئی مگر ذخیرۂ حدیث اور تاریخِ اسلام کا پورا دفتر خود عربوں اور عربی جاننے والوں نے مرتب فرمایا ہے۔ ایک بھی، ان کے ذخیرۂ حدیث صحاحِ ستہ، سیر اور تاریخ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، ذرا ملاحظہ فرمائیے۔ محدثینِ کرام نے اسماء الرجال کا عظیم الشان ذخیرہ فراہم کیا، جو بلا شبہ نہایت بیش قیمت ہے۔ مگر ان میں کونسی چیز ہے، جس میں غلطی کا احتمال نہ ہو۔ (تفہیمات)

❀ احادیث چند انسانوں سے چند انسانوں تک پہنچی ہیں، جن سے کوئی چیز حد سے ثابت ہو سکتی ہے تو وہ گمانِ صحت ہے نہ علمِ یقین۔
[رسالہ ترجمان القرآن: ربیع الاول 1365ھ]

❀ اور محدثین صحیح احادیث سے استنباطِ احکام و مسائل میں وہ توازن و اعتدال ملحوظ نہیں رکھ سکتے ہیں، جو فقہاء و مجتہدین نے رکھا ہے۔ [تفہیمات]

❀ احادیث کسی معاملے میں حجت نہیں قرار پا سکتیں۔ (ترجمان القرآن فروری 46ء)

❀ بخاری شریف کے بارے میں فرماتے ہیں۔

کوئی شریف آدمی یہ نہیں کہہ سکتا، کہ حدیث کا مجموعہ ہم تک پہنچا ہے، وہ قطعی طور پر صحیح ہے، مثلاً بخاری جس کے بارے میں اصح الکتب بعد کتاب اللہ کا کہا جاتا ہے، کوئی بڑے سے بڑا غلو کرنے والا بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس میں جو چھ سات ہزار احادیث درج ہیں جو ساری کی ساری صحیح ہیں۔ (اقتباس تقریر لاہور اخبار الاعتصام)

مولانا مودودی صاحب نے قرآنی اصطلاحات و الفاظ کا معنی و مفہوم بدل دیا۔ اور اپنی مرضی کی تشریح کر ڈالی، اس کے بعد ذخیرۂ حدیث کو مشکوک، ظنی، اور غیر معتبر قرار دے دیا، تو اب دین کو نسا رہ گیا۔ وہی جو مودودی صاحب کی کتب دینیات، خطبات، تفہیمات، قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں، تجدید و احیائے دین، وغیرہ میں لکھا ہے خود ان کے مطابق عربی کے ذوقِ کمیابی والا شخص دینی اصطلاحات کا صحیح مفہوم سمجھنے سے قاصر رہتا ہے۔ مگر وہ یہ کلیہ خود اپنے اوپر لاگو نہیں کرتے جبکہ موصوف نے عربی یا علمِ دین کی تعلیم کسی مستند عربی درس گاہ اور مستند استاد سے حاصل ہی نہیں کی۔ آخر پھر انہیں یہ تشریحات اور شک و ارتیاب پیدا کرنے کا حق کیسے پہنچ گیا۔
فيا للعجب

اہانتِ صحابہ و علمائے کرام:

اس میدان میں بھی مولانا نے خوب ہاتھ دکھائے ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے لے کر آج تک کے علمائے کرام اور دانشورانِ ملت کی خبر لے ڈالی ہے۔ اور سب کی اہانت و تنقیص فرمائی ہے۔

❀ خلافت و ملوکیت میں تحریر فرماتے ہیں:

لیکن ان (سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ و سیدنا عمر رضی اللہ عنہ) کے بعد جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ جانشین ہوئے تو رفتہ رفتہ اس پالیسی سے ہٹتے چلے گئے۔ (خلافت و ملوکیت)

❀ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی پالیسی کا ایک پہلو بلا شبہ غلط تھا، اور غلط کام بہر حال غلط ہے۔ خواہ کسی نے کیا ہو، اس کی خواہ مخواہ کی سخن سازیوں سے صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرنا نہ عقل و انصاف کا تقاضہ ہے، اور نہ دین ہی کا یہ مطالبہ ہے کہ کسی صحابی کی غلطی کو غلطی نہ مانا جائے۔ [خلافت و ملوکیت]

❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پورے فتنے کے زمانے میں جس طرح کام کیا۔ وہ ٹھیک ٹھاک ایک خلیفۂ راشد کے شایانِ شان تھا۔ البتہ صرف ایک چیز ہے، جس کی مدافعت میں مشکل ہی سے کوئی بات کہی جا سکتی ہے، وہ یہ کہ جنگِ جمل کے بعد انہوں نے قاتلینِ عثمان کے بارے میں اپنا رویہ بدل لیا۔

سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پورے زمانۂ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے، جس کو غلط کہنے کے سوا چارہ نہیں۔ [خلافت و ملوکیت]

❀ پہلے فریق نے غیر آئینی طریقۂ کار اختیار کیا ہے۔ جسے شریعتِ الٰہی تو درکنار دنیا کے کسی آئین و قانون کی رو سے بھی ایک جائز کارروائی نہیں مانا جا سکتا۔ اس سے بدتر جہازِ یاد وغیرہ آئینی طرزِ عمل دوسرے فریق کا یعنی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا تھا، انھوں نے ٹھیٹھ جاہلیتِ قدیمہ کے طریق پر عمل کیا۔ (خلافت و ملوکیت)

❀ مجھے یہ تسلیم کرنے میں ذرہ برابر تامل نہیں ہے کہ انھوں نے یہ غلطی نیک نیتی کے ساتھ اپنے آپ کو حق بجانب سمجھتے ہوئے کی تھی، مگر میں اسے غلطی سمجھتا ہوں، اس کو اجتہادی غلطی ماننے میں مجھے سخت تامل ہے۔ (خلافت و ملوکیت)

❀ اسلام کے پہلے مجدد عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے لئے اموی اقتدار کی جڑوں کو اجتماعی زندگی سے اکھاڑنا اور عام مسلمانوں کی ذہنی و اخلاقی حالت کو خلافت کا بار سنبھالنے کے لئے تیار کرنا اتنا آسان کام نہ تھا، کہ ڈھائی برس کے اندر انجام پا سکتا۔ (تجدید و احیائے دین)

❀ امام غزالی رحمہ اللہ کے تجدیدی کام میں علمی و فکری حیثیت سے چند نقائص بھی تھے۔ اور وہ تین عنوانات پر تقسیم کئے جا سکتے ہیں۔ ایک قسم ان نقائص کی جو حدیث کے علم میں کمزور ہونے کی وجہ سے ان کے کام میں پیدا ہوئے۔ دوسری قسم ان نقائص کی جو ان کے ذہن پر عقلیات کے غلبے کی وجہ سے تھے، اور تیسری قسم ان نقائص کی جو تصوف کی طرف ضرورت سے زیادہ مائل ہونے کی وجہ سے تھے۔ [تجدید و احیائے دین]

❀ امام غزالی کی کمزوریوں سے بچ کر ان کا اصلی کام جس شخص نے انجام دیا، وہ ابنِ تیمیہ تھا۔ تاہم یہ واقعہ ہے، کہ وہ بھی کوئی ایسی سیاسی تحریک نہ اٹھا سکے، جس سے نظامِ حکومت میں انقلاب برپا ہوتا۔ (تجدید و احیائے دین)

❀ شیخ احمد سرہندی، شاہ ولی اللہ دہلوی، سید احمد بریلوی اور شاہ اسماعیل شہید رحمہم اللہ نے اپنے اپنے وقت میں تجدیدی کام کیا، مگر یہ لوگ بھی چند اسباب کی بنا پر ناکام رہے۔ (تجدید و احیائے دین)

❀ جو لوگ مسلمانوں کی رہنمائی کے لئے اٹھتے ہیں، ان کی زندگی میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کی ادنیٰ جھلک تک نظر نہیں آتی، کہیں مکمل فرنگیت ہے، کہیں جذبوں اور عماموں میں سیاہ دلی اور گندے اخلاق لپٹے ہوئے ہیں۔ زبان سے وعظ اور عمل میں بدکاریاں، ظاہر میں خدمتِ دین اور باطن میں خیانتیں، غداریاں، نفسانی اغراض کی بندگیاں۔ (مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش اوّل)

❀ شریعتِ اسلامیہ کا اصول اور حدیث ہے:

کہ اپنے مردوں کی خوبیاں بیان کرو، اور ان کی خامیوں کے ذکر سے باز رہو۔(ابوداؤد:4900)،(ترمذی:1019)

شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ

شیخ الاسلام امام ابنِ تیمیہ رحمہ اللہ "العقیدۃ الواسطیۃ” میں فرماتے ہیں:

"اس طرح ہمارا ایمان ہے، کہ صحابہ میں جو اختلاف ہوا اس کو بیان کرنے سے باز رہیں، ہم جانتے ہیں، کہ اس بارے میں منقول ہے۔ اس میں سے بعض چیزیں بالکل جھوٹ ہیں، پر وہ لوگ مجتہد تھے، جن کا اجتہاد صحیح ہوا، ان کو دوہرا ثواب اور جن سے اجتہادی غلطی ہوئی، نیک کوشش کا ثواب انہیں بھی ملے گا۔”

❀حضرت شاہ ولی اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔

"ہم بھلائی کے بغیر صحابی کا نام لینے سے زبانوں کو روکے رکھیں، وہ دین میں ہمارے امام اور پیشوا ہیں۔ انہیں برا بھلا کہنا حرام ہے۔ اور ان کے تعظیم کرنا واجب ہے۔ (تفہیماتِ الٰہیہ)

اہانتِ صحابہ کرام، اور تنقیصِ علمائے امت کا پہلو بہت ہی افسوسناک ہے، جو مولانا مودودی صاحب کی خودسری اور علو نفسی پر دال ہے۔
خلافت و ملوکیت میں موصوف نے جو اندازِ بیان اختیار کیا ہے۔ اس کا صاف مطلب شیعوں کی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنا ہے۔ مگر وہ اس تنقید و تنقیص کے بعد بھی مقصد حاصل نہ کر سکے۔

اسی طرح بعض علمائے امت پر تنقید کا منشا اپنے آپ کو مجدد ثابت کرنا ہے۔ مگر مولانا مجدد تو نہیں متجدد ضرور تھے۔

تشیع پسندی:

مولانا کی تشیع پسندی ان کی کتاب "خلافت و ملوکیت” نے پوری طرح نمایاں کر دی ہے، ویسے بھی انہوں نے کبھی اپنی کسی کتاب یا مضمون میں صاف طور پر شیعی عقائد کا رد نہیں فرمایا۔ کیونکہ موصوف ہر شخص کو اس کے غلط عقائد پر قائم رہتے ہوئے بھی صحیح مسلمان سمجھتے تھے اور صحتِ عقیدہ و عمل کی کوئی ضرورت نہیں محسوس کرتے۔ بلکہ اصولی اختلافات کو بھی فروعی مانتے ہیں۔ مولانا صاحب کے حواری برابر اس کوشش میں ہیں کہ انہیں مسلمانوں کے ہر طبقہ فکر کی حمایت حاصل ہوتی رہے۔ حتیٰ کہ شیعوں کی تائید بھی وہ اپنے لئے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس لئے کئی برسوں سے وہ برابر ایرانی انقلاب اور خمینی کی قیادت و سیادت کی تعریفیں کر رہے ہیں۔ خمینی نوازوں کیساتھ جلسے اور میٹنگیں کرتے ہیں۔ ان کے لٹریچر و کتابوں کی تقسیم کا انتظام کرتے ہیں، نمائشیں لگواتے ہیں۔ اپنے اخبارات میں ایرانی انقلاب کی تعریف اور خمینی کی قیادت کی تعریفیں کرتے ہیں۔ اور ان کا مقابلہ سعودی عرب اور دوسری مسلم حکومتوں سے کرتے ہیں۔ ایرانی انقلاب کو حقیقی اسلامی انقلاب تصور کرتے ہیں۔

ہندوستان میں سب سے پہلے ہم نے اپنے اخبار مجلہ اہل حدیث اور ترجمان میں اس اتحاد کا پردہ چاک کیا اور یہ ثابت کیا، کہ جماعت اسلامی، روافض اور خمینی کے ساتھ گٹھ جوڑ میں مصروف ہے۔ در پردہ اسلامی حکومتوں کے خلاف سازش میں شریک ہے اور اس مداہنت کے عوض مادی فوائد حاصل کر رہی ہے۔ اتحاد بین المسلمین کے نام پر جماعت اسلامی، روافض، اور بریلوی متعدد اجتماعات برصغیر، بلکہ بیرونِ ہند و پاک میں کر چکے ہیں۔ جن میں وہ اسلامی حکومتوں خصوصاً سعودی عرب کے خلاف پروپیگنڈا کرتے رہے ہیں۔ کئی سالوں سے خمینی ایجنٹ جماعت اسلامی کے تعاون سے مختلف شہروں اور ملکوں میں حج سیمینار کے نام سے پروگرام رکھتے ہیں، جن کا مقصد سعودی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ ہوتا ہے۔ جماعت اسلامی ہند کی ذیلی تنظیمیں S.I.M وغیرہ ایران خمینی نوازوں کے ساتھ پورا تال میل رکھتی ہیں اور ان سے تعاون حاصل کر رہی ہیں۔ ان تمام حقائق کا انکشاف مجلہ اہل حدیث کی متعدد اشاعتوں میں کیا گیا ہے۔

شیعہ، خوارج، روافض بالاتفاق صحابہ کرام، تابعین، تبع تابعین، ائمہ کرام، محدثین، اور جمیع علمائے اہل سنت والجماعت گمراہ فرقے ہیں۔ مگر مودودی صاحب اور ان کی جماعت کی مداہنت حسبِ ذیل اقتباسات میں ملاحظہ فرمائیے۔

مولانا مودودی صاحب اور چودھری طفیل محمد اپنے مبارکبادی کے خط میں رقم طراز ہیں جو ایرانی انقلاب پر خمینی صاحب کو بھیجا گیا تھا۔

خمینی کو مولانا مودودی و میاں طفیل کا پیغام:

ایران کے مسلمانوں نے قربانی و ایثار کی نئی مشعل روشن کی ہے۔

لاہور 13/ فروری (نمائندہ جسارت) جماعت اسلامی پاکستان کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودودی اور امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں طفیل محمد نے عالمِ اسلام کے ممتاز رہنما آیت اللہ روح اللہ خمینی کو مبارکباد کا پیغام بھیجا ہے۔ اور ایرانی عوام کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ایک مشترکہ برقیے میں انھوں نے کہا ہے، کہ اس عظیم الشان کامیابی پر جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہے، ہم تہہ دل سے مبارکباد پیش کرتے ہیں، اور خدائے بزرگ و برتر سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ایرانی بھائیوں کو اپنے ہر دلعزیز ملک ایران کو صحیح معنوں میں اسلامی جمہوریہ کی شکل میں تعمیر کرنے میں ان کی مدد اور رہنمائی فرمائے۔ اور اس سلسلے میں ان کی کوششوں میں خیر و برکت عطا فرمائے، جماعت اسلامی پاکستان کے سیکریٹری جنرل قاضی حسین احمد نے ایران کے نو منتخب وزیر اعظم ڈاکٹر مہدی بازرگان کے نام جنرل ضیاء الحق کے مبارکباد کے پیغام پر دلی مسرت کا اظہار فرمایا ہے۔ اور کہا ہے کہ ایران کے مسلمان عوام نے قربانی و ایثار کی نئی مشعل روشن کی ہے، جس سے جدید دور میں جہادِ اسلامی کا راستہ روشن ہو گیا ہے۔ قاضی حسین احمد نے ایرانی عوام کے جذبۂ اسلامی کو ہدیۂ تبریک پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ہزاروں نوجوانوں نے اسلامی جمہوریہ کے قیام کے لیے جو قربانیاں دی ہیں، وہ پورے عالمِ اسلام کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ (روزنامہ جسارت کراچی 13 فروری 79ء)

اسی طرح جماعت اسلامی کے آفیشل آرگن دعوت دہلی میں اس کے مدیر فرماتے ہیں۔

اس وقت شریعتِ اسلامیہ کے نفاذ کے چار تجربے اپنی مکمل یا ادھوری شکل میں عالمِ اسلام کے سامنے ہیں۔ ایک تجربہ سعودی عرب کا ہے، جہاں ملوکیت کے زیرِ سایہ شریعت کو ملکی قانون کے قالب میں ڈھال کر اس کے توسط سے ایک خاص دائرے میں اسلام کے نفاذ کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یہ سب سے پرانا تجربہ ہے۔ اسے نہ تو مزید پھیلایا جا سکتا ہے، اور نہ ہی اپنی محدود شکل میں یہ ان تبدیلیوں کو رو بہ عمل لانے کا وسیلہ بن سکتا ہے جو اسلام کو صحیح معنوں میں سماج اور ریاست دونوں ہی میں سب سے مؤثر اور رہنما قوت بنانے کے لیے ضروری ہیں، یہ جس شکل اور جس حد تک ہے، اسے بس گوارا کیا جا سکتا ہے، یہ تجربہ نہ تو اسلام پسندوں کے بلند عزائم کا ساتھ دے سکتا ہے اور نہ ہی اس کے سہارے اسلامی ریاست کے خاکے میں وہ رنگ بھرے جا سکتے ہیں جو اسے جیتی جاگتی حقیقت کے روپ میں عصری سیاسی منظر پر لا کھڑا کریں،

دوسرا تجربہ ایران کا ہے، جہاں عوامی طاقت کے سہارے انقلاب برپا کر کے پرانے نظام کو یکسر ملیا میٹ کر دیا گیا۔ اور بالکل نئے سرے سے اسلامی نظامِ حیات کی بساط بچھا رہے ہیں۔ یہ تجربہ اصلاح اور تدریجی تبدیلی کے بجائے انقلاب اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والی دو ٹوک تبدیلیوں کی راہ دکھاتا ہے۔ جو موجودہ حالات میں سب سے زیادہ پُر اثر اور پُرکشش نظر آتا ہے۔ تاہم اس نے پوری دنیا میں اسلام پسندوں کے دلوں کی امید کی جوت جلائی ہے اور اسلامی انقلاب کے امکانات کو جس طرح پوری قوت کے ساتھ ابھارا ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

تیسرا تجربہ پاکستان کا ہے جہاں فوج بیوروکریسی کی مدد سے محدود پیمانے پر نفاذِ اسلام کی کوشش کر رہی ہے۔

چوتھا اور نسبتاً کم عمر تجربہ سوڈان کا ہے، جہاں اسلام کو ایک تدریج کے ذریعے نافذ کرنے کا عمل اپنی تندی و تیزی کے سبب انقلاب جیسا تاثر پیدا کر رہا ہے۔

ایرانی تجربے کے بعد، یہ تجربہ سب سے زیادہ جاندار، اثر انگیز اور خوش آئند امکانات کا حامل نظر آتا ہے۔
[از دعوت ہفتہ وار یکم جنوری 84ء]

❀ گذشتہ سال جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم ایس آئی ایم (اسٹوڈنٹ موومنٹ آف انڈیا) نے دہلی کے رام لیلا گراؤنڈ میں اپنی کانفرنس منعقد کی، کانفرنس کے انعقاد سے چند دن پہلے اس تنظیم کے صدر ڈاکٹر الیاس رسول صاحب نے پریس کانفرنس منعقد کی، جس میں انھوں نے اپنے پروگرام اور منزل کی نشاندہی فرمائی، موصوف نے فرمایا، کہ اجلاس میں:

ہندوستانی سماجی، بحران اور اسلامی تحریک کے موضوع پر بحث ہوگی۔ ایس آئی ایم اسلامی تحریک کا ایک حصہ ہے، لیکن اسلامی تحریک کسی تنظیم، فرقہ یا گروپ کا نام نہیں ہے، بلکہ ایک نظریہ، ایک طرزِ زندگی اور ایک انقلابی پیغام کا نام ہے۔ ہمارے ملک نے مغربی طرزِ جمہوریت، سیکولرازم، سوشلزم، کے طریقے اپنائے ہوئے ہیں، جو لوگوں کی نفسیات سے ہم آہنگ نہیں ہو پاتے۔ جس کی وجہ سے سماج میں تنزّل و گراوٹ آگئی اور بحران پیدا ہو گیا۔ اس وقت ایران کو چھوڑ کر کسی بھی ملک میں صحیح اسلامی نظام نہیں ہے، ان میں پاکستان اور سعودی عرب شامل ہیں۔

اسلامی سیاسی نظام کے بارے میں ڈاکٹر صاحب نے بتایا:

کہ اصل حاکمیت صرف اللہ کی ہے، اس کے حکم کے مطابق ایک خلیفہ چنتے ہیں، جو قرآن و سنت کی بنیاد پر حکومت کا نظام چلاتا ہے۔ (از قومی آواز۔ 19/ اکتوبر 84ء)

مداہنت پسندی کی ایک واضح مثال اس تبصرے میں ملاحظہ فرمائیے، جو جماعت اسلامی کے انگریزی اخبار ریڈینس دہلی کے مدیر جناب امین الحسن رضوی صاحب نے مولانا منظور نعمانی صاحب کی کتاب "ایرانی انقلاب، امام خمینی اور شیعیت” پر رسالہ کرینٹ میں شائع کرایا ہے۔ جس کا ترجمہ سفارت خانہ ایران کے رسالہ "راہِ اسلام اردو” میں شائع ہوا ہے۔

مگر سوال یہ ہے، کہ یہ کس طرف رہنمائی کی جا رہی ہے۔ مزید برآں یہ موضوع کتاب کے ساتھ کہاں تک انصاف ہے؟ امام خمینی شیعہ ہیں، انھوں نے اس کو کبھی نہیں چھپایا اور جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ ایران میں شیعوں کی اکثریت ہے۔ اور یہ وہی تھے جنھوں نے شاہ کی طاغوتی رجیم سے جنگ کی، عظیم قربانیاں پیش کیں۔ نتیجتاً کامیاب ہوئے، یہ سب کچھ ان علماء کی رہبری و نگرانی میں ہوا، جو شیعہ تھے، لیکن اس تمام عرصے میں، کبھی بھی یا اس کے بعد کبھی بھی انھوں نے اس کو شیعی جہاد یا شیعی انقلاب نہیں کہا، اور نہ اب اسے وہ شیعی جمہوریہ کہتے ہیں، ان کا دعویٰ ہے، کہ یہ اسلامی انقلاب ہے۔ اور ایران اب اسلامی جمہوریہ ایران کی حیثیت سے آگے منزلیں طے کر رہی ہے۔

یہ تو فطری بات ہے، کہ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ وہ ہی حقیقی اسلام کی نمائندگی کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے سنیوں کا عقیدہ ہے، کہ بس وہ ہی سچے مسلمان ہیں۔ ایک شیعہ اس وقت شیعہ نہیں رہے گا، جب اس کا عقیدہ یہ ہو جائے کہ شیعیت حقیقی اسلام کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اسی طرح سنی بھی بالمثل ہے۔ (راہِ اسلام دہلی)

مدرجہ اقتباسات سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ جماعت اسلامی اور بانیِ جماعت اسلامی تشیع، اور ایرانی انقلاب کے بارے میں مداہنت پسندانہ رائے رکھتے ہیں۔ یہاں چند حوالے بطورِ اختصار درج کئے ہیں۔ ورنہ ان کے اخبارات کی فائل کی فائل رطب اللسان سے بھری پڑی ہیں۔

❀ جہاں تک شیعی عقائد کا تعلق ہے، ائمہ کرام، محدثین اور علمائے امت ان کے ردّ میں سینکڑوں کتابیں لکھ چکے ہیں اور ثابت کر چکے ہیں کہ اہل تشیع کا عقیدۂ امامت، غیبتِ صغریٰ، کبریٰ، ولایتِ فقیہ، تقیہ، کتمان وغیرہ وغیرہ سراسر گمراہی ہیں۔ ان کے خیال میں خلفائے اربعہ بجز سیدنا علی رضی اللہ عنہ ملعون (معاذ اللہ) ہیں، قرآنِ کریم اور ذخیرۂ احادیث چونکہ منافق صحابہ کرام (معاذ اللہ) نے جو دل سے ایمان نہیں لائے تھے، جمع کئے ہیں، اس لئے وہ محرف ہیں، وہ صرف فقہ جعفریہ کو مانتے ہیں، اور سنی ائمہ کرام، علمائے عظام و محدثین کے جمع کردہ ذخیرۂ حدیث، تاریخ و آثار کو مشکوک قرار دیتے ہیں، تقیہ، کتمان اور متوعہ ان کے نزدیک عبادت ہیں۔ مندرجہ تمام عقائد ان کی کتب الجامع الکافی، الشافی، کتاب الروضہ، اور خمینی صاحب کی کتب کشف الاسرار، اور تحریر الوسیلہ وغیرہ میں درج ہیں۔ اس لئے ایسے گمراہ فرقے کی حکومت کو اسلامی حکومت قرار دینا خود گمراہی اور اپنے نفس کو دھوکہ دینا ہے، اور دوسرے مسلمانوں میں گمراہی پھیلانا ہے۔

اتحاد بین المسلمین کا فلسفہ:

اتحاد بین المسلمین کی اہمیت سے کون مسلمان انکار کر سکتا ہے لیکن اتحاد بین المسلمین بھی عقائد کی صحت کی بنیاد پر ہی ممکن ہے۔ مسلمانوں میں متعدد جماعتیں اور مسلک ہیں یہ سارے ہی اتحاد بین المسلمین کی دعوت دیتے ہیں۔ جماعت اسلامی بھی اس بات کی مدعی ہے کہ وہ اتحاد بین المسلمین کی حامی ہے، مگر اس نے اس کے لئے جو راستہ دکھایا ہے، وہ صحیح نہیں۔ اس بنیاد پر اتحاد ممکن نہیں، کہ ہر آدمی اپنے مزعومہ عقیدے پر بھی چلتا رہے۔ اور وہ گمراہی ہو، اور پھر اتحاد بین المسلمین کی دعوت بھی دینے لگے، کوئی بھی اجتماع، اتحاد، اور اتفاق مرکزیت، مرکزی اصولوں پر چلنے سے ہی ممکن ہے۔ اور وہ مرکزی نقطہ اسلام میں توحید اور کتاب و سنت ہیں، انہیں نقطوں پر اتحاد ہو سکتا ہے، کوئی شخص اپنے بنائے ہوئے دین یا شریعت پر مسلمانوں کو جمع نہیں کر سکتا۔ اس لئے اتحاد بین المسلمین کی دعوت دینے والا مسلمان سب سے پہلے خود اپنے تئیں اس بات کو دیکھے کہ وہ ان اصولوں پر کہاں تک عامل ہے، ہر روز زمانہ کے ساتھ ساتھ شخصیتیں جنم لیتی رہیں گی، اور وہ ہر دن اسلام کی نت نئی تاویلات و تعبیرات پیش کرتی رہیں گی، تنظیم سازی بھی برابر ہو گی، اور ہر ایک اتحاد بین المسلمین کا نعرہ لگائے گا۔ آخر کس کے ساتھ مسلمان اتحاد کریں گے۔

دینی تعلیمات اور تربیت سے گریز:

مولانا مودودی صاحب نے چونکہ خود بھی کسی دینی درسگاہ کے توسط سے دینی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اس لئے انہیں دینی تعلیم کے فروغ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی، بلکہ دینی تعلیم تو کیا غیر دینی میں بھی نہ تھی، ان کا خیال تھا کہ وہ اپنی کتابوں کے ذریعے ہی پورا انقلاب لے آئیں گے اور مسلمانوں کے ذہن بدل ڈالیں گے، اس مقصد کے لئے درجنوں اردو کتابیں لکھیں، پھر انہیں میں سے بعض کتب کے ترجمے عربی و انگریزی زبانوں میں دوسرے حضرات سے کرائے اس لئے موصوف کسی بھی دینی درس گاہ کے قیام اور مسلمان بچوں کی دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت کے بنیادی اسلامی فریضے سے برگشتہ اور بیزار رہے ہیں اس بیزاری کا ثبوت موصوف کی درج ذیل تحریروں سے ملتا ہے، علمائے کرام کے خلاف اظہارِ ناراضگی فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

کہیں جبّوں اور عماموں میں سیاہ دلی اور گندے اخلاق لپٹے ہوئے ہیں، زبان سے وعظ اور عمل میں بدکاریاں، ظاہر میں خدمتِ دین، اور باطن میں خیانتیں، غداریاں، نفسانی اغراض کی بندگیاں۔

(مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش اول)

دینی تعلیم گاہوں کے خلاف اظہارِ نفرت فرماتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔

یہ غریب، تعلیم کے لئے جدید درسگاہوں میں جاتے ہیں، تو وہاں زیادہ تر مخلص و مکار ملحدہ یا نیم مسلم و نیم ملحد حضرات سے ان کا پالا پڑتا ہے۔ قدیم مدارس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو اکثر مذہبی سوداگروں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ دینی معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو خطیبوں، واعظوں کی عظیم اکثریت انہیں گمراہ کرتی ہے۔

(جماعت اسلامی کا مقصد اور لائحہ عمل)

بڑے حیرت کی بات ہے، کہ مرحوم نے تنقید تو دونوں نظام ہائے تعلیم پر فرمادی مگر خود ایک اسکول یا مکتب ہی قائم کرنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی، آخر اللہ تعالیٰ نے کے ہاں کیا جواب دیں گے، جب یہ سوال ہو گا، کہ آپ اتنے بڑے داعیِ اسلام تھے؟ دینی تعلیم کی اشاعت کیلئے آپ نے کیا کیا!

بہر حال جماعت اسلامی ہند تو شاید اس کا تھوڑا بہت جواب دے دے مگر بانی جماعت، اور جماعت اسلامی پاکستان تو اس کا کوئی جواب نہ دے سکے گی، زیادہ سے زیادہ یہ کہہ دے گی کہ ملتان روڈ لاہور میں منصورہ تعمیر کرایا ہے آخر جس دین اور نظام کے مولانا داعی ہیں بلکہ اس کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی تعلیم و تربیت کے کام سے کیوں گریز فرمائے ہیں۔ یہ ایک اہم ترین سوال ہے، جس کا جواب مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب اور ان کے ہمنوا شاید ہی دے سکیں۔

مصلحت پسندی اور ابن الوقتی:

مولانا مودودی صاحب چونکہ خالقِ کائنات کا ترجمہ، اقتدارِ اعلیٰ فرماتے ہیں۔ اس لئے وہ دین کا مقصد اقتدار کا حصول بتاتے ہیں۔ اور یہی ان کے دینی تصورات و تعبیرات کا محور ہے۔ اقتدار کے حصول کے لئے چونکہ کوئی اصول نہیں ہوتا ہے اور نہ آدمی اس کی پابندی کر سکتا ہے اس لئے مولانا صاحب بھی وقت کے دھاروں کے ساتھ حکمتِ عملی کا فائدہ اٹھاتے رہے۔

❀ جماعت اسلامی کے دستور کی دفعہ 8 میں صفِ اوّل کے اراکین کے بارے میں لکھا تھا؛

ان لوگوں کے لئے احکامِ شریعت کی پابندی کے معاملے میں کوئی رعایت نہ ہو گی۔ ان کو مسلمانوں کی زندگی کا پورا نمونہ پیش کرنا ہو گا، اور ان کے لئے رخصت کے بجائے عزیمت کا طریقہ ہی قانون ہو گا۔

مولانا موصوف مزید تحریر فرماتے ہیں:

"بعض لوگ یہ خیال ظاہر کرتے ہیں کہ ایک دفعہ غیر اسلامی طرز ہی کا سہی مسلمانوں کا کوئی اسٹیٹ تو قائم ہو جائے پھر رفتہ رفتہ تعلیم و تربیت اور اخلاقی اصلاح کے ذریعے سے اس کو اسلامی اسٹیٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے مگر میں نے تاریخ سیاسیات و اجتماعیات کا جو تھوڑا بہت مطالعہ کیا ہے اس کی بنا پر میں اس کو ناممکن سمجھتا ہوں۔ (از مقالہ اسلامی حکومت کس طرح قائم ہوتی ہے)

مگر جب ملکی تقسیم کا فیصلہ ہو گیا۔ اور پاکستان کا قیام عمل میں آ گیا، تو یہاں پہنچ کر مولانا کا عمل بدلنے لگا۔ آپ نے گذشتہ سالوں میں مسلم قوم پرستانہ حکومت کی جس قدر مخالفت کی تھی، اور کتابوں و رسالوں کے صفحات سیاہ کئے تھے، وہ سب یکسر فراموش کر دیا اور صالح قیادت لانے کے نام پر اپنے ہمنواؤں کو الیکشن میں کھڑا کر دیا، تاکہ اسمبلی میں کامیاب ہو کر اسلامی حکومت بنائی جا سکے۔ مگر ان الیکشنوں میں جماعت اسلامی کو عبرت انگیز ناکامیاں ہوئیں۔

اس کے بعد صدارتی انتخاب میں صدر ایوب کے خلاف امیدوار کھڑے کرنے کا مسئلہ آیا۔ اپوزیشن پارٹیوں نے طے کیا کہ صدر ایوب کے مقابلے کے لئے مس فاطمہ جناح کو کھڑا کیا جائے، چنانچہ جماعت اسلامی نے اس بوڑھی ناتواں خاتون کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے بیان جاری کیا۔

شریعت میں جو چیزیں حرام ٹھہرائی گئی ہیں ان میں سے بعض کی حرمت تو ابدی ہے جو کسی حالت میں حِلّت سے تبدیل نہیں ہو سکتی، اور بعض کی حُرمت ایسی ہے جو شدید ضرورت کے موقع پر ضرورت کی حد تک جواز میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ اب یہ واضح ہے کہ عورت کو امیر بنانے کی ممانعت ان حرمتوں میں سے نہیں ہے جو ابدی اور قطعی ہیں، بلکہ دوسری قسم کی حرمتوں ہی میں اس کا شمار ہو سکتا ہے، اس لئے ہمیں ان حالات کا جائزہ لے کر دیکھنا چاہئے۔ جن میں یہ مسئلہ پیش آیا ہے۔ (از تجاویز اجلاس شوریٰ)

چنانچہ کارپردازانِ جماعت اسلامی نے مس فاطمہ جناح کی کامیابی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دی۔ جس میں مس فاطمہ جناح ہار گئیں۔

ابتداع کی حوصلہ افزائی1963ء:

میں سعودی حکومت نے غلافِ کعبہ کی تیاری کے بارے میں فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان میں مولانا صاحب کے زیرِ نگرانی تیار کرایا جائے۔ چنانچہ جماعت اسلامی نے اخبارات کے ذریعے اس کی خوب تشہیر کی، اور عوام الناس کی ضعیف الاعتقادی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اعلان کرا دیا کہ اس غلاف کی نمائش بذریعہ ٹرین کرائی جائے گی۔ چنانچہ جب یہ غلاف تیار ہو گیا تو اس کو ٹرین میں رکھ کر مختلف شہروں سے گزارا گیا۔ دین سے جاہل عوام مولانا مودودی صاحب اور جماعت اسلامی کے زیرِ نگرانی تیار کرائے ہوئے غلاف کی زیارت کے لئے ٹوٹ پڑے، مولانا صاحب خود بھی بنفسِ نفیس ٹرین کے ساتھ گھومتے رہے، اس سب کا مقصد آنے والے انتخابات کیلئے زمین ہموار کرنا تھا۔ اس گشتی نمائش کے سلسلے میں جماعت اسلامی کے اخبار ایشیا لاہور کا اداریہ ملاحظہ فرمائیں۔ آجکل مغربی پاکستان کے ریلوے اسٹیشنوں پر دو اسپیشل ٹرینیں غلافِ کعبہ کی زیارت کرا رہی ہیں۔ ایک ٹرین لاہور سے پشاور کی طرف منزل بہ منزل رواں دواں ہے دوسری خاص ٹرین اوکاڑہ منٹگمری کی جانب تشنگانِ دیدارِ غلاف کو سیر کرا رہی ہے۔ ہر اسٹیشن پر عوام کے ذوق و شوق اور عقیدت و محبت کا عجیب عالم ہے، چھوٹے چھوٹے اسٹیشنوں پر لاکھوں کا ہجوم ہوتا ہے، مرد، عورتیں، بچے، بوڑھے جسے دیکھنے بس ایک نظر دیکھ لینے کی سعادت حاصل کر لینے کو بے تاب ہیں، خواتین غلافِ کعبہ پر پھول نچھاور کرتی ہیں، بڑے بڑے افسر اور معززین عقیدت سے اس کے حضور دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں۔ چونکہ غلافِ کعبہ کو چھونے چومنے کی اجازت نہیں ہے، اس لئے بعض مقامات پر لوگوں نے فرطِ عقیدت میں ٹرین ہی کو بوسہ دینا شروع کر دیا۔ (ایشیالا ہور 28/ مارچ 1963ء)

جن حضرات نے مولانا مودودی صاحب کی کتابیں مطالعہ کی تھیں وہ حیرت میں پڑ گئے کہ قرآن و حدیث کی تبلیغ کرنے والا یہ داعیٔ اسلام آخر کیا کر رہا ہے۔ وہ یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، کہ مولانا مودودی صاحب ایسے بدعی کام میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

"سب اچھا ہے” کا فارمولہ:

فقہی اختلافی مسائل میں مولانا صاحب ہمیشہ سے "سب اچھا ہے” کا قائل رہے ہیں، حتیٰ کہ بعض اصولی معاملات میں بھی ان کی یہی روش رہی ہے، اور وہ ان سب کو فروع کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ وہ ایک طرف تقلید کا شدت سے رّد کرتے ہیں، اور کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے کی تبلیغ فرماتے ہیں مگر دوسری طرف تقلید کے بغیر ان کا گزارہ بھی نہیں ہوا، خود حنفی تھے، حنفیت کی تعریف کرتے تھے۔

ایک جگہ فرماتے ہیں:

"میں خود حنفی طریقے پر نماز پڑھتا ہوں، اگر چہ اہل حدیث، شافعی، مالکی، حنبلی سب کی نماز کو درست سمجھتا ہوں اور سب کے پیچھے نماز پڑھ لیا کرتا ہوں۔ (رسائل و مسائل حصہ دوّم)

چاروں فقہ میں سے کسی ایک تقلید کی ترغیب، اور مسلکِ اہل حدیث کا غلط تعارف کراتے ہوئے فرماتے ہیں:

اس لئے تمام مسلمان ان چاروں فقہوں کو برحق مانتے ہیں۔ البتہ یہ ظاہر ہے کہ ایک معاملے میں ایک ہی طریقے کی پیروی کی جا سکتی ہے، چار مختلف طریقوں کی پیروی نہیں کی جا سکتی۔ اس لئے اکثر علماء کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ کسی خاص فقہ کی پیروی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ علم والے آدمی کو براہِ راست قرآن و حدیث سے احکام معلوم کرنے چاہئیں۔ اور جو لوگ عالم نہ رکھتے ہوں، انہیں چاہئے کہ جس عالم پر بھی اطمینان ہو، اس کی پیروی کریں، یہ اہل حدیث کہلاتے ہیں۔ اور اوپر کے گروہوں کی طرح یہ بھی حق پر ہیں۔
[رسالہ دینیات]

مولانا صاحب کا تضاد ملاحظہ فرمائیے:

اوپر تو فرمایا کہ ایک معاملے میں ایک ہی طریقے کی پیروی کی جا سکتی ہے۔ مگر نیچے امام طحاوی کے قول [المنتقل من مذهب الی مذهب باجتهاد و برهان اثم يستوجب التعزير] پر محاکمہ فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:

میرے نزدیک ایک صاحبِ علم کے لئے تقلید ناجائز اور گناہ بلکہ اس سے کچھ شدید تر چیز ہے، مگر یاد رہے کہ اپنی تحقیق کی بنا پر کسی ایک سکول کے طریقے اور اصول کا اتباع کرنا اور چیز ہے۔ اور تقلید کی قسم کا کھا بیٹھنا بالکل دوسری چیز! اور یہی آخری چیز ہے، جسے میں صحیح نہیں سمجھتا، رہا طحاوی کا وہ فتویٰ جو آپ نے نقل کیا ہے، تو وہ خواہ کتنے ہی بڑے عالم کا لکھا ہو، میں اس کو قابلِ تسلیم نہیں سمجھتا۔ میرے نزدیک ایک فقہی مذہب سے دوسرے مذہب فقہی میں انتقال صرف اس صورت میں گناہ ہے، جبکہ یہ نقل خواہشِ نفس کی بنا پر ہو، نہ کہ تحقیق کی بنا پر۔ (رسائل و مسائل حصہ اوّل)

مندرجہ تقابل میں مولانا صاحب نے تاویل کی حد کر دی ہے۔ مولانا خود عالم اور مفسرِ قرآن ہیں پھر بھی حنفی مذہب کی تقلید کرتے رہے، جبکہ عالم کے لئے تقلید کو خود ہی ناجائز اور گناہ لکھتے ہیں۔ تاویل کے ذریعے اسے اپنے لئے جائز بھی کر گئے۔

❀ احناف و اہلِ حدیث دونوں کو خراب مگر بالآخر تقلید کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

امام ابو حنیفہ، امام شافعی اور امام مالک کے مذہب میں بہت سے ایسے مسائل ہیں۔ جن پر اہلِ حدیث کی طرف سے اعتراض کیا گیا ہے، کہ یہ حدیث کے خلاف ہیں، اور ان ائمہ کے پیروؤں کی طرف سے ان اعتراضات کے جوابات بھی دیئے گئے ہیں۔ جو شخص خود علم رکھتا ہو، اور جس میں خود اجتہاد کی صلاحیت موجود ہو، وہ فریقین کے درمیان محاکمہ کر سکتا ہے۔ اور اسے حق ہے، کہ حدیث سے جس طریق کو ثابت پائے اسے اختیار کرے لیکن یہ عام اہلِ حدیث جوان مسائل پر بحث کرتے پھرتے ہیں، انکا حال عام حنفیوں سے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ ان کا علم بھی ویسا ہی تقلیدی ہے جیسا حنفیوں کا ہے۔ یہ اپنے ائمہ وعلماء پر اعتماد کرتے ہیں۔ اور حنفی اپنے ائمہ وعلماء پر۔ ان میں خود اجتہاد کی قابلیت نہیں، نہ یہ احادیث کا اتنا علم اور اصول میں اتنی بصیرت رکھتے ہیں، کہ احکام کی تحقیق کر سکیں۔ ان کا یہ کہنا ہے کہ فاتحہ خلف الامام، یا رفع الیدین، یا آمین بالبہر حدیث سے ثابت ہے اور اس کے خلاف ثابت نہیں ہے۔ دراصل تقلید کی بنیاد پر ہے، نہ کہ اجتہاد کی بنیاد پر، لہٰذا ان کے جواب میں خاموشی بہتر ہے، البتہ جو علم رکھتے ہیں، وہ ان مسائل پر بول سکتے ہیں۔
[رسائل و مسائل حصہ اوّل]

ویسے تو مولانا صاحب کا یہ پورا ہی اقتباس بہت دلچسپ ہے۔ مگر یہ جملہ خوب ہے۔ "در اصل تقلید کی بنیاد پر ہے، نہ کہ اجتہاد کی بنیاد پر” خدا جانے مولانا کے نزدیک تقلید و اجتہادی "کیا” تعریف ہے۔

سب اچھا ہے کی ایک مثال ملاحظہ فرمائیں:

تراویح کے بارے میں فرماتے ہیں:

ان امور پر اگر غور کیا جائے، تو معلوم ہوتا ہے، کہ اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعتیں ہی پڑھی ہیں۔ لیکن صحابہ وتابعین نے بالعموم حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کا مطلب یہ نہیں لیا، کہ آٹھ رکعت پڑھنا ہی سنت ہے، اور اس سے زائد پڑھنا خلافِ سنت یا بدعت ہے۔ آخر یہ کیسے تصوّر کیا جا سکتا ہے، کہ صحابہ کرام اور تابعین اور ائمہ مجتہدین سنت اور بدعت کے درمیان تمیز کرنے کی اہلیت سے اس قدر محروم تھے۔ یا جان بوجھ کر وہ سنت کو چھوڑ کر ایک بدعت کو اختیار کر سکتے تھے۔ بہرحال اگر کوئی شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فعل کو اس معنی میں لیتا ہو، کہ آپ کا منشا آٹھ رکعت ہی کی سنت کی حیثیت سے جاری کرنے کا تھا، تو شوق سے اس پر عمل کرے، اور جو اس معاملے میں اس کے ہمنوا ہیں وہ اس کی پیروی کریں، لیکن بیس رکعت کے دلائل اتنے کمزور نہیں ہیں، کہ اسے خلافِ سنت قرار دینا اتنا آسان ہو جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔ (رسائل و مسائل حصہ سوّم)

سنا آپ نے حضرت والا کا فرمانِ مبارک! یعنی ایک طرف تو خود یہ تسلیم کرتے ہیں، "کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ ہی رکعتیں پڑھی ہیں”۔

دوسری طرف اس کی بے جا تاویلیں کر رہے ہیں۔ کہ یہ مطلب نہیں تھا اور وہ نہیں تھا۔ پھر آخر میں یہ بھی کہہ دیا کہ 20 رکعت کے اتنے کمزور دلائل نہیں کہ اسے خلافِ سنت قرار دینا اتنا آسان ہو جتنا سمجھ لیا گیا ہے۔

مولانا کے اس تجزیے کے بعد تو [إنا لله وإنا إليه راجعون] ہی پڑھ لینا چاہئے۔ جب اتنے بڑے مفکرِ اسلام کی وسعتِ نظری کا یہ حال ہے، تو بیچارے ضدی کٹھ ملا جنہوں نے فقہ اور بزرگوں کے اقوال کے علاوہ کچھ پڑھا اور سنا ہی نہیں ہے۔ وہ کیا کریں اور کہیں گے۔ وہ تو یقیناً 20 کی تعداد کو غیر مسنون کہنے اور سننے پر آگ بگولہ ہو جائیں گے اور لاٹھی لے کر مارنے کو دوڑیں گے۔ دو سال پہلے بہار میں (بسلسلہ تراویح) ایک حامی سنت کی شہادت ہو چکی ہے۔ تراویح کے سلسلے میں مولانا مودودی صاحب کے موقف کو دیکھ لینے کے بعد ان کی "سب اچھا ہے” کی پالیسی پوری سمجھ میں آ جاتی ہے۔ اور پختہ یقین ہو جاتا ہے کہ موصوف کتاب وسنت کا محض نعرہ دیتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے، جو کھلی ہوئی مداہنت و منافقت ہے۔ اصول اپنی جگہ اصول ہے، اسے تسلیم کیا جانا چاہیے اور اس پر عمل بھی ہونا چاہئے۔

تراویح نفل نماز ہے۔ ایک مسلمان اس کی چاہے جتنی رکعتیں ادا کرے، جیسا کہ بعض کرام اور علمائے سلف ادا کرتے رہے ہیں۔ مگر اس بات کا تو اقرار کرے، کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف آٹھ، گیارہ، تیرہ رکعت ہی ثابت ہیں۔ اور سنت وہی ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو۔

اس مختصر جائزے کے بعد ہر متبعِ کتاب وسنت مسلمان کی سمجھ میں آ جانا چاہیے کہ مودودی صاحب نے جماعت سازی اور اس کے لئے مصنفات کا ایک عظیم دفتر ضرور قائم کیا ہے۔ مگر ان کی دینی تفہیم و تشریح اور طریقِ کار، سلفِ صالحین (صحابہ کرام، تابعین، ائمہ محدثین) سے قطعاً مختلف ہے۔ اس میں تجدّد، اعتزال، تخفیفِ حدیث وغیرہ کے جراثیم بدرجۂ اتم موجود ہیں۔ اس لئے اس سے حقیقی اسلامی معاشرہ تشکیل نہیں پا سکتا۔ جب اسلامی معاشرہ تشکیل نہیں پائے گا تو حکومتِ الٰہیہ کس طرح وجود میں آئے گی۔