سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات اور زہر دینے کا الزام

Read in English
فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کی کتاب دفاع صحابہ رضی اللہ عنھم سے ماخوذ ہے۔

کیا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی وفات زہر کھانے سے ہوئی؟

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا طبعی موت فوت ہوئیں۔ بقیع میں دفن ہوئیں۔ روافض کا کہنا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو زہر دیا تھا۔ یہ محض بہتان ہے۔
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
استأذن ابن عباس قبل موتها على عائشة وهى مغلوبة، قالت: أخشى أن يثني علي، فقيل: ابن عم رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن وجوه المسلمين، قالت: ائذنوا له، فقال: كيف تجدينك؟ قالت: بخير إن اتقيت، قال: فأنت بخير إن شاء الله، زوجة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ولم ينكح بكرا غيرك، ونزل عذرك من السماء، ودخل ابن الزبير خلافه، فقالت: دخل ابن عباس فأثنى علي، ووددت أني كنت نسيا منسيا.
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب حالت نزع میں تھیں، تو جناب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس آنے کی اجازت چاہی، ماں جی کہنے لگیں: ڈرتی ہوں کہ وہ میری تعریف کرنے نہ بیٹھ جائیں، کسی نے عرض کیا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زادے اور معزز آدمی ہیں، فرمایا: بلا لیجیے! عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : مزاج گرامی کیسے ہیں؟ فرمایا: اگر اللہ کے ہاں اچھی ہوں، تو سب اچھا ہے، کہا: اچھا ہوگا ان شاء اللہ! آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں، آپ کے سوا کسی کنواری کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عقد نہیں ملا، قرآن نے آپ کی براءت کی۔ وہ چلے گئے، تو سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمانے لگیں، ابھی ابن عباس رضی اللہ عنہ آئے تھے، وہ میری تعریف کرنے لگے، جبکہ میں چاہتی تھی کہ گمنام رہتی اور مجھے بھلا دیا جاتا۔“
(صحیح البخاری : 4753)
ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
”سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مرض الموت میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ان کی بیمار پرسی کو آئے، سلام کہا اور بیٹھ گئے، فرمایا: ام المؤمنین! بشارت ہو، تھوڑا ہی وقت ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ محبت کرنے والے صحابہ سے جدا ہونے کو ہیں، آپ کی تکالیف ختم ہونے کو ہیں، آپ کی روح جہان فانی سے پرواز کرنے کو ہے۔ ام المؤمنین! آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب ترین زوجہ تھیں، آپ کی پاکیزگی کی بنا پر یہ پیار آپ کو ملا تھا، آپ کی براءت سات آسمانوں کے اوپر سے نازل ہوئی تھی، روئے زمین پر کوئی مسجد ایسی نہیں کہ جہاں ان آیات کی دن رات تلاوت نہ ہوتی ہو، مقام ابواء، جہاں آپ کا ہار کھو گیا تھا، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اس ہار کی تلاش میں رکے رہے، فجر کا وقت آن پہنچا، پانی تھا نہیں، سو اللہ نے آیت نازل کی : فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ”پانی نہ ملے تو تیمم کر لیا کریں۔“
تیمم کی رخصت لوگوں کو آپ ہی کی وجہ سے ملی، اللہ کی قسم! آپ بہت مبارک ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ابن عباس! ان باتوں کو چھوڑیے۔ اللہ کی قسم! میری تو خواہش تھی کہ کاش مجھے بھلا دیا جاتا۔“
(فضائل الصحابة لأحمد : 1639 ، المستدرك للحاكم : 4/8 وسنده صحيح)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ہے :
إنها أوصت عبد الله بن الزبير رضي الله عنهما لا تدفني معهم وادفني مع صواحبي بالبقيع لا أزكى به أبدا.
”آپ رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں دفن نہ کرنا، بلکہ بقیع میں ہی میری سہیلیوں (ازواج مطہرات) کے ساتھ دفن کرنا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے پہلو میں دفن ہو کر اپنی تعریف نہیں کروانا چاہتی۔“
(صحیح البخاری : 1391)
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
ماتت عائشة، فدفنها عبد الله بن الزبير ليلا.
”عائشہ رضی اللہ عنہا فوت ہوئیں، تو انہیں عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے رات کو دفن کیا۔“
(مسند الإمام أحمد : 25005 ، وسنده صحيح)