نمازِ تراویح کی مشروعیت اور فضیلت صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس کتاب الصوم سے ماخوذ ہے جسے شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے مرتب کیا ہے۔

نماز تراویح کی مشروعیت

سوال:

نماز تراویح کا کیا حکم ہے؟

جواب:

قیام رمضان کو بالاتفاق تراویح کہا جاتا ہے، اس کے کئی نام ہیں۔ اس کو چھوڑنا بہت سارے اجر و ثواب سے محرومی کا باعث بن سکتا ہے۔
نماز تراویح مشروع مستحب ہے۔
❀ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:
باب ذكر الدليل على أن قيام شهر رمضان سنة النبي صلى الله عليه وسلم خلاف زعم الروافض الذين يزعمون أن قيام شهر رمضان بدعة لا سنة
”اس دلیل کا بیان کہ رمضان میں قیام اللیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، اس کے برخلاف روافض کہتے ہیں کہ ماہ رمضان کا قیام (تراویح) بدعت ہے، سنت نہیں۔“
(صحيح ابن خزيمة، قبل الحديث: 2201)
نیز فرماتے ہیں:
إن صلاة الجماعة في قيام رمضان سنة النبي صلى الله عليه وسلم لا بدعة كما زعمت الروافض
”قیام رمضان کی جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، بدعت نہیں، جیسا کہ روافض کہتے ہیں۔“
(صحيح ابن خزيمة، قبل الحديث: 2208)
❀ امام حاکم رحمہ اللہ (405ھ) فرماتے ہیں:
صلاة التراويح في مساجد المسلمين سنة مسنونة
”(اس حدیث میں واضح دلیل ہے کہ) مسلمانوں کی مساجد میں نماز تراویح مسنون سنت ہے۔“
(المستدرك على الصحيحين: 1/440)
❀ حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (463ھ) فرماتے ہیں:
أن قيام رمضان سنة من سنن النبي صلى الله عليه وسلم مندوب إليها مرغوب فيها ولم يسن منها عمر بن الخطاب إذ أحياها إلا ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحبه ويرضاه ولم يمنع من المواظبة عليه إلا خشية أن يفرض على أمته وكان بالمؤمنين رءوفا رحيما صلى الله عليه وسلم فلما علم ذلك عمر من رسول الله صلى الله عليه وسلم وعلم أن الفرائض لا يزاد فيها ولا ينقص منها بعد موته عليه الصلاة والسلام أقامها للناس وأحياها وأمر بها وذلك سنة أربع عشرة من الهجرة وذلك شيء ادخره الله له وفضله به ولم يلهم إليه أبا بكر وإن كان أفضل من عمر وأشد سبقا إلى كل خير بالجملة ولكل واحد منهم فضائل خص بها ليست لصاحبه
”رمضان کا قیام (تراویح) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، نیز مستحب اور مستحسن عمل ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جب (پورا مہینہ) نماز تراویح پڑھنے کا اہتمام کروایا تو انہوں نے یہ عمل اسی لیے جاری کیا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باجماعت نماز تراویح کو پسند کرتے تھے، اس پر ہمیشگی کرنے میں صرف یہ چیز مانع تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خدشہ ہوا کہ کہیں امت پر فرض نہ کر دی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو مؤمنوں کے لیے بہت شفیق و مہربان ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس علت کو جان لیا اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اب فرائض میں اضافہ یا کمی نہیں ہو سکتی، تو انہوں نے لوگوں کے لیے نماز تراویح کا قیام کیا، اس کی تجدید نو کر دی اور اسے قائم کرنے کا حکم دیا۔ یہ سن 14 ہجری کا واقعہ ہے۔ یہ ایسی نیکی ہے جو اللہ تعالیٰ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حصہ میں رکھی تھی اور انہیں یہ فضیلت بخشی تھی، اللہ تعالیٰ نے یہ بات سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ذہن میں نہیں ڈالی، اگرچہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے افضل تھے اور مجموعی طور پر ہر خیر میں سبقت لے جانے والے تھے، مگر ہر صحابی کے خاص فضائل ہیں جو دوسرے صحابہ کے حصہ میں نہیں آئے۔“
(التمهيد: 8/108)
❀ نیز ایک حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:
في هذا الحديث من الفقه فضل قيام رمضان وظاهره يبيح فيه الجماعة والانفراد لأن ذلك كله فعل خير وقد ندب الله إلى فعل الخير وفيه دليل على أن ما أمر به عمر وفعله من قيام رمضان قد كان سبق من رسول الله صلى الله عليه وسلم فيه الترغيب والحض فصار ذلك من سننه صلى الله عليه وسلم
”اس حدیث میں فقہ ہے کہ قیام رمضان بافضیلت عمل ہے، اس حدیث کے ظاہر سے قیام اللیل کو باجماعت اور انفرادی دونوں طرح پڑھنے کا جواز ثابت ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب امور خیر ہیں اور اللہ تعالیٰ نے خیر کے کاموں کی ترغیب دی ہے، نیز اس حدیث میں دلیل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جو قیام رمضان کا حکم فرمایا تھا اور جو اس بارے میں عمل کیا تھا، اس بارے میں پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ترغیب اور تحسین موجود تھی، یوں یہ (پورا رمضان باجماعت تراویح پڑھنا) بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہوا۔“
(التمهيد: 7/105)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
اتفق العلماء على استحبابها
”نماز تراویح کے مستحب ہونے پر اہل علم کا اجماع ہے۔“
(شرح مسلم: 6/39، المجموع: 3/363، الغاية في شرح الهداية للسروجي الحنفي: 4/365، طرح التثريب للعراقي: 4/162، عمدة القاري للعيني: 1/233)
❀ نیز فرماتے ہیں:
أجمع المسلمون في زمنه وبعده على استحبابها
”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت اور بعد کے زمانہ میں مسلمانوں کا نماز تراویح کے استحباب پر اجماع ہے۔“
(تهذيب الأسماء واللغات: 2/12)
❀ علامہ شاطبی رحمہ اللہ (790ھ) فرماتے ہیں:
إن قيام الإمام بالناس في المسجد في رمضان سنة عمل بها صاحب السنة رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنما تركها خوفا من الافتراض فلما انقضى زمن الوحي زالت العلة فعاد العمل بها إلى نصابها
”ماہ رمضان میں امام کا لوگوں کو باجماعت قیام کرانا سنت ہے، اس پر صاحب سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمل کیا ہے اور اسے صرف فرضیت کے خوف سے ترک کیا، مگر جب وحی کا زمانہ ختم ہو گیا اور علت ختم ہو گئی تو یہ عمل اپنی اصل حالت پر لوٹ آیا۔“
(الاعتصام: 1/375)
❀ علامہ صنعانی رحمہ اللہ (1182ھ) فرماتے ہیں:
قيام رمضان سنة بلا خلاف والجماعة في نافلته لا تنكر
”قیام رمضان کے سنت ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، قیام اللیل کی جماعت کرانا بھی منکر نہیں ہے۔“
(سبل السلام: 1/345)
❀ علمائے احناف لکھتے ہیں:
التراويح سنة مؤكدة للرجال والنساء جميعا بإجماع الصحابة ومن بعدهم من الأئمة منكرها مبتدع ضال مردود الشهادة
”تراویح مردوں اور عورتوں سب کے لیے مؤکد سنت ہے، اس پر صحابہ اور بعد والے ائمہ کا اجماع ہے، اس کا منکر بدعتی گمراہ ہے اور اس کی شہادت قبول نہیں۔“
(غنية المستملي لإبراهيم الحلبي، ص 382، مجمع الأنهر لشيخي زاده: 1/135، حاشية الطحطاوي، ص 411)
❀ علامہ ابو المعالی اسپیجابی حنفی رحمہ اللہ (591ھ) فرماتے ہیں:
هي سنة لا يسع تركها إذ الأمة أجمعت على شرعيتها وجوازها ولم ينكرها أحد من أهل القبلة إلا الروافض
”تراویح سنت ہے، اسے ترک نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ اس کی مشروعیت اور جواز پر امت کا اجماع ہے، روافض کے علاوہ اہل قبلہ میں سے کوئی بھی اس کا منکر نہیں۔“
(زاد الفقهاء: 1/251)
❀ علامہ حصکفی حنفی رحمہ اللہ (1088ھ) فرماتے ہیں:
التراويح سنة مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين للرجال والنساء إجماعا
”تراویح مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے بالاجماع سنت مؤکدہ ہے، کیونکہ خلفائے راشدین نے اس پر ہمیشگی کی ہے۔“
(الدر المختار: 2/43)
❀ علامہ طحطاوی حنفی رحمہ اللہ (1231ھ) فرماتے ہیں:
التراويح سنة بإجماع الصحابة ومن بعدهم من الأمة منكرها مبتدع ضال مردود الشهادة
”صحابہ کرام اور بعد والوں کا اجماع ہے کہ تراویح سنت ہے۔ اس کا منکر بدعتی اور گمراہ ہے، اس کی گواہی قبول نہیں۔“
(حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، ص 411، مجمع الأنهر لشيخي زاده: 1/135)
❀ علامہ سرخسی حنفی رحمہ اللہ (483ھ) فرماتے ہیں:
الأمة أجمعت على شرعيتها وجوازها ولم ينكرها أحد من أهل العلم إلا الروافض لا بارك الله فيهم
”تراویح کی مشروعیت اور جواز پر امت متفق ہے، اہل علم میں کوئی بھی اس کا منکر نہیں، سوائے روافض کے، اللہ ان کو برکت نہ دے۔“
(المبسوط: 2/143، منحة الخالق لابن عابدين: 2/71)
❀ علامہ ابن عابدین شامی حنفی رحمہ اللہ (1252ھ) فرماتے ہیں:
إذا أنكر أصل مشروعيته المجمع عليها بين الأمة فإنه يكفر
”جس عمل کی مشروعیت پر امت کا اجماع ہو، اس کا سرے سے انکار کر دے تو کافر ہو جائے گا۔“
(فتاوی شامی: 6/314)

فائدہ:

❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
السنة في التراويح أن تصلى بعد العشاء الآخرة كما اتفق على ذلك السلف والأئمة فمن صلاها قبل العشاء فقد سلك سبيل المبتدعة المخالفين للسنة
”تراویح میں مسنون طریقہ یہ ہے کہ اسے نماز عشا کے بعد ادا کیا جائے، اس پر سلف امت اور ائمہ اسلام کا اتفاق ہے۔ جس نے عشا سے پہلے تراویح ادا کی، اس نے سنت کے مخالفین اہل بدعت کا رستہ اختیار کیا۔“
(الاختيارات لشيخ الإسلام ابن تيمية لابن عبد الهادي، ص 41)
➊ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
”جس نے ایمان سمجھتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
(صحيح البخاري: 37، صحيح مسلم: 173/759)
➋ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يرغب في قيام رمضان من غير أن يأمرهم فيه بعزيمة فيقول من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه فتوفي رسول الله صلى الله عليه وسلم والأمر على ذلك ثم كان الأمر على ذلك في خلافة أبي بكر وصدرا من خلافة عمر على ذلك
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قیام رمضان کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے: جو ایمان سمجھتے ہوئے اور ثواب کی نیت سے قیام رمضان کرے گا، اس کے پہلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وجوبی حکم نہیں دیتے تھے۔ قیام رمضان آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک بغیر جماعت کے چلتا رہا، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت کے شروع میں بھی معاملہ یونہی رہا۔“
(صحيح مسلم: 174/759)
➌ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى في المسجد ذات ليلة فصلى بصلاته ناس ثم صلى من القابلة فكثر الناس ثم اجتمعوا من الليلة الثالثة أو الرابعة فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما أصبح قال قد رأيت الذي صنعتم فلم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن تفرض عليكم قال وذلك في رمضان
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی ایک رات مسجد میں نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں لوگوں نے بھی نماز پڑھی، اگلی رات نماز پڑھائی تو نمازیوں کی تعداد بڑھ گئی، پھر لوگ تیسری یا چوتھی رات بھی جمع ہوئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نہ نکلے۔ صبح ہوئی تو فرمایا: میں نے آپ کا شوق عبادت دیکھا، لیکن باہر اس لیے نہیں آیا کہ کہیں آپ پر یہ نماز فرض نہ ہو جائے، راوی کہتے ہیں: یہ رمضان کا واقعہ ہے۔“
(صحيح البخاري: 1129، صحيح مسلم: 177/761، واللفظ له)
➍ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم في الليلة الثانية فصلوا بصلاته فأصبح الناس يذكرون ذلك فكثر أهل المسجد من الليلة الثالثة فخرج فصلوا بصلاته فلما كانت الليلة الرابعة عجز المسجد عن أهله فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم فطفق رجال منهم يقولون الصلاة فلم يخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى خرج لصلاة الفجر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رات تشریف لائے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ لوگ اس کا تذکرہ کرنے لگے۔ تیسری رات مسجد میں نمازی بڑھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ چوتھی رات مسجد تنگی داماں کا شکوہ کرنے لگی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہ لائے، حاضرین مسجد کہنے لگے: نماز (تراویح) لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے وقت ہی تشریف لائے۔“
(صحيح البخاري: 2012، صحيح مسلم: 178/761)
➎ دوسری روایت میں ہے:
خشيت أن تفرض عليكم صلاة الليل فتعجزوا عنها
”مجھے خدشہ ہوا کہ قیام اللیل فرض نہ ہو جائے اور آپ اس سے عاجز آ جائیں۔“
(صحيح البخاري: 924، صحيح مسلم: 178/761)
➏ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رمضان فلم يقم بنا شيئا من الشهر حتى بقي سبع فقام بنا حتى ذهب ثلث الليل فلما كانت السادسة لم يقم بنا فلما كانت الخامسة قام بنا حتى ذهب شطر الليل فقلت يا رسول الله لو نفلتنا قيام هذه الليلة قال فقال إن الرجل إذا صلى مع الإمام حتى ينصرف حسب له قيام ليلة قال فلما كانت الرابعة لم يقم فلما كانت الثالثة جمع أهله ونساءه والناس فقام بنا حتى خشينا أن يفوتنا الفلاح قال قلت وما الفلاح قال السحور ثم لم يقم بقية الشهر
”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کے روزے رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام نہیں کروایا، تئیسویں شب کا تہائی حصہ قیام کروایا۔ چوبیسویں کو قیام نہیں کروایا، پھر پچیسویں کو نصف رات تک قیام کروایا۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش کہ آپ پوری رات قیام کرواتے۔ فرمایا: باجماعت نماز پڑھنے پر پوری رات کے قیام کا ثواب ملتا ہے۔ چھبیسویں رات قیام نہیں کروایا۔ ستائیسویں شب صحابہ کرام کو بمع اہل و عیال قیام کروایا، تا آنکہ ہمیں خدشہ ہوا کہ ہم ”فلاح“ سے محروم نہ رہ جائیں۔ راوی نے سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: فلاح سے کیا مراد ہے؟ کہا: سحری۔ پھر بقیہ ایام قیام نہیں کروایا۔“
(مسند الإمام أحمد: 5/159، سنن أبي داود: 1375، سنن النسائي: 1606، سنن الترمذي: 806، سنن ابن ماجه: 1327، وسنده صحيح)
➐ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
احتجر رسول الله صلى الله عليه وسلم حجيرة بخصفة أو حصير فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فيها قال فتتبع إليه رجال وجاءوا يصلون بصلاته قال ثم جاءوا ليلة فحضروا وأبطأ رسول الله صلى الله عليه وسلم عنهم قال فلم يخرج إليهم فرفعوا أصواتهم وحصبوا الباب فخرج إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم مغضبا فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما زال بكم صنيعكم حتى ظننت أنه سيكتب عليكم فعليكم بالصلاة في بيوتكم فإن خير صلاة المرء في بيته إلا الصلاة المكتوبة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چٹائی یا کھجور کی چھال کا خیمہ بنایا، گھر سے نکل کر اس میں قیام اللیل کے لیے داخل ہوئے۔ صحابہ کرام آپ کے پیچھے ہو لیے اور آپ کی اقتدا میں قیام کرنے لگے۔ اگلی رات آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے میں تاخیر کر دی، لوگوں نے شور کیا اور دروازے کو کنکریاں ماریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ میں باہر آئے اور فرمایا: آپ کا شوق عبادت ایسا ہی رہا تو مجھے لگا کہ آپ پر یہ نماز (مسجد میں ادا کرنا) فرض کر دی جائے گی۔ گھروں میں نماز پڑھا کریں، فرض نماز کے علاوہ مرد کی سب سے بہترین نماز گھر میں ہی ہے۔“
(صحيح البخاري: 731، صحيح مسلم: 213/781، واللفظ له)
➑ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قمنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر رمضان ليلة ثلاث وعشرين إلى ثلث الليل الأول ثم قمنا معه ليلة خمس وعشرين إلى نصف الليل ثم قمنا معه ليلة سبع وعشرين حتى ظننا أن لا ندرك الفلاح وكانوا يسمونه السحور
”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان کی تئیسویں شب کا تہائی حصہ قیام کیا۔ پھر پچیسویں کو نصف رات، ستائیسویں کو اتنا لمبا قیام کیا کہ ہمیں سحری فوت ہونے کا خدشہ ہوا۔“
(مسند الإمام أحمد: 4/272، سنن النسائي: 1607، وسنده صحيح)
امام حاکم رحمہ اللہ (1/440) نے اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے، اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے۔
➒ عبدالرحمن بن عبد القاری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
خرجت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه ليلة في رمضان إلى المسجد فإذا الناس أوزاع متفرقون يصلي الرجل لنفسه ويصلي الرجل فيصلي بصلاته الرهط فقال عمر إني أرى لو جمعت هؤلاء على قارئ واحد لكان أمثل ثم عزم فجمعهم على أبي بن كعب ثم خرجت معه ليلة أخرى والناس يصلون بصلاة قارئهم قال عمر نعم البدعة هذه والتي ينامون عنها أفضل من التي يقومون يريد آخر الليل وكان الناس يقومون أوله
”میں رمضان کی ایک رات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد کی طرف نکلا، لوگ مختلف گروہوں میں منقسم تھے۔ کوئی آدمی اکیلا اور کوئی جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے مطابق انہیں ایک قاری پر جمع کر دیا جائے تو بہت اچھا ہو گا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عزم مصمم کر لیا اور لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کر دیا۔ ایک رات پھر میں آپ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلا۔ لوگ ایک قاری کی اقتدا میں نماز پڑھ رہے تھے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ تجدید نو کیا خوب ہے! البتہ ان سے وہ افضل ہیں جو اس وقت سو جاتے ہیں اور آخری پہر قیام کرتے ہیں۔“
(صحيح البخاري: 2010)
➓ سیدنا عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله أرأيت إن شهدت أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله وصليت الصلوات الخمس وأديت الزكاة وصمت رمضان وقمته فممن أنا قال من الصديقين والشهداء
”ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کلمہ توحید کی گواہی دوں، آپ کی رسالت کا اقرار کروں، پانچوں نمازیں پڑھوں، زکوۃ ادا کروں، رمضان کے روزے رکھوں اور تراویح ادا کروں تو میرا شمار کن میں ہو گا؟ فرمایا: صدیقوں اور شہیدوں میں۔“
(مسند البزار: 25، صحيح ابن خزيمة: 2212، صحيح ابن حبان: 3438، وسنده صحيح)
❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أرجو أنه إسناد حسن أو صحيح
”امید ہے کہ سند حسن یا صحیح ہے۔“
(مجمع الزوائد: 1/46)

تنبیہ:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منسوب ہے:
قال له رجل أصلي خلف الإمام في رمضان قال يعني ابن عمر أليس تقرأ القرآن قال نعم قال أفتنصت كأنك حمار صل في بيتك
”آپ رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: کیا میں تراویح امام کی اقتدا میں ادا کروں؟ تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا: کیا آپ قاری نہیں ہیں؟ عرض کیا: جی ہاں، میں قاری ہوں۔ فرمایا: تو کیا آپ گدھے کی مانند خاموش کھڑے رہیں گے؟ آپ اپنے گھر میں قیام کریں۔“
(شرح معاني الآثار للطحاوي: 1/351، السنن الكبرى للبيهقي: 2/494)
➊ سند ضعیف ہے۔ سفیان ثوری مدلس ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔
➋ یہ اس شخص کے متعلق ہے جو قاری قرآن ہو۔ اسے چاہیے کہ وہ گھر میں قیام کرے۔