کیا نبی کریم ﷺ کے فضلات کو زمین نگل جاتی تھی؟
اس پر کوئی صحیح دلیل معلوم نہیں کہ نبی کریم ﷺ کے فضلات کو زمین نگل جاتی تھی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے:
جب نبی کریم ﷺ قضائے حاجت کے لیے بیت الخلا جاتے، تو بعد میں میں بھی داخل ہوتی، مگر وہاں (بول و براز میں سے) کچھ نظر نہ آتا، البتہ وہاں خوشبو محسوس کرتے۔ یہ بات میں نے نبی کریم ﷺ سے ذکر کی، تو فرمایا: عائشہ! آپ جانتی نہیں! ہمارے (انبیاءِ کرام کے) اجسام جنتی روحوں پر پروان چڑھتے ہیں، ان اجسام سے جو بھی نکلتا ہے، زمین اسے نگل جاتی ہے۔
[دلائل النبوة للبیہقي: 70/6]
روایت جھوٹی ہے۔ حسین بن علوان کذاب ہے۔
❀ حافظ بیہقی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ’’موضوع‘‘ (من گھڑت) قرار دیا ہے۔
اس حدیث کی اور بھی سندیں ہیں:
طبقات ابن سعد (135/1)، دلائل النبوة لأبي نعيم (364) اور معجم اوسط طبرانی (7835) والی سند جھوٹی ہے۔
① عنبسہ بن عبد الرحمن قرشی متروک و کذاب ہے۔
② محمد بن زادان مدنی متروک ہے۔
الخصائص الکبریٰ للسیوطی (121/1) میں مذکور امام ابو نعیم اصبہانی رحمہ اللہ والی سند باطل ہے۔
① عبد الکریم الخزاز غیر ثقہ اور غیر معتبر ہے۔
② ابو عبد اللہ مدینی کا مجہول ہے۔
[الاستیعاب لابن عبد البر: 4080]
❀ نیز حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
[الاستیعاب لابن عبد البر: 4080]
❀ مستدرک حاکم (6950) والی سند بھی سخت ضعیف ہے۔
①منہال بن عبید اللہ کے حالاتِ زندگی نہیں ملے۔
②اس کا استاذ مبہم و نامعلوم ہے۔
❀ العلل المتناہیہ لابن الجوزی (182/1) میں الافراد للدارقطنی سے منقول روایت بھی سخت ضعیف ہے۔ محمد بن حسان اموی کی توثیق نہیں مل سکی۔
حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ نے اس روایت کو ضعیف و غیر ثابت قرار دیا ہے۔
❀ اس معنی کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی منقول ہے۔
[إمتاع الأسماع للمقريزي: 302/5]
سند جھوٹی ہے۔
① محمد بن سائب کلبی متروک و کذاب ہے۔
② ابو صالح باذام ضعیف و مختلط ہے۔
③ ابو صالح کا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں۔
اس معنی کی روایت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔
(تاريخ جرجان: 1106، رواة مالك للخطيب [الزيادات على الموضوعات للسيوطي: 250])
سند سخت ضعیف ہے۔
① عبد اللہ بن لیث استرابازی کی توثیق نہیں ملی۔
② اسحاق بن صلت غیر معتبر راوی ہے، اس کی توثیق ثابت نہیں۔
حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس (اسحاق بن صلت) نے امام مالک رحمہ اللہ سے منسوب سخت منکر روایت بیان کی ہے۔ یہاں تک سند ’’مظلم‘‘ (اندھیری) ہے۔
[میزان الاعتدال: 192/1]