ایمان اور اس کے احکامات کے متعلق بنیادی مباحث

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

كتاب الإيمان

ایمان اور اس کے احکامات کے متعلق

ایمان کے لغوی معنی ہیں ”یقین“۔ (دیکھئے القاموس المحيط 197/4)
اور اس کے اصطلاحی معنی ہیں ”اس چیز کی تصدیق کرنا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر تشریف لائے“۔ اور تصدیق سے مراد ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز (شریعت) لے کر آئے اسے تسلیم کر لینا اور اسے قبول کر لینا“۔
تسلیم و قبول کے بغیر صرف دل سے تصدیق کرنا کافی نہیں اور نہ تو بہت سے کافروں پر ایمان کا اطلاق ہوگا۔ کیونکہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کی حقیقت کو پہچانتے تھے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ﴾
”وہ اسے ایسے پہچانتے ہیں جیسے اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں“۔ (سورة البقرة: 146)
(ملاحظہ فرمائیں جو ہرۃ التوحید ص 43)
① سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاث من كن فيه وجد بهن طعم الإيمان: من كان الله ورسوله أحب إليه مما سواهما، ومن أحب عبدا لا يحبه إلا لله، ومن يكره أن يعود فى الكفر بعد أن أنقذه الله منه كما يكره أن يلقى فى النار
”جس شخص میں درج ذیل تین صفات ہوں، اس نے ان کے ذریعے ایمان کا ذائقہ حاصل کر لیا۔ ① اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں۔ ② کسی بندے سے محض اللہ کے لیے محبت کرتا ہو۔ ② اسے دوبارہ کافر بننا اس کے بعد کہ اللہ نے اسے اس سے بچا لیا ایسے ہی ناگوار ہو جیسے آگ میں جھونکا جانا اسے ناگوار ہے“۔
(بخارى كتاب الإيمان، حدیث 21. مسلم كتاب الايمان حديث 43/67)
بعض روایات میں ”حلاوة الإيمان“ (ایمان کی مٹھاس) کا ذکر ہے۔ یہ تخیلاتی استعارہ ہے۔ یعنی مومن کو ایمان کی اسی طرح رغبت ہوتی ہے جس طرح کسی میٹھی چیز کی رغبت ہوتی ہے۔ اور حلاوت یا ذائقے کو ایمان کے لیے لازم ہونا ثابت کیا ہے، اور ذائقہ یا مٹھاس کی ایمان کی طرف اضافت کی ہے۔
شیخ ابو محمد بن ابی جمرہ رحمہ اللہ یہ بیان کرتے ہیں: اسے حلاوت سے اس لیے تعبیر کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان کو ایک درخت سے تشبیہ دی ہے۔ فرمایا:
﴿مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ﴾
”کلمہ طیبہ کی مثال پاکیزہ درخت جیسی ہے“۔
(سورة إبراهيم: 24)
پس کلمے سے مراد کلمہ اخلاص ہے، درخت ایمان کی اصل وجڑ ہے، اتباعِ امر اور اجتنابِ نہی اس کی شاخیں ہیں، مومن جس خیر و بھلائی کا اہتمام کرتا ہے وہ اس کے پتے ہیں، عملِ طاعات اس کا پھل ہیں۔ پھل کی مٹھاس پھل کا چننا ہے اور اس کے کمال کی انتہا پھل کا پکنا ہے اور اس سے اس کی حلاوت (مٹھاس) ظاہر ہوتی ہے۔
(دیکھئے فتح الباری 1/ 78)
حدیث میں لفظ ”مما“ ہے ”ممن“ نہیں۔ اس لیے کہ ”مما“ عاقل اور غیر عاقل سب کو شامل ہے۔ اس میں عمومیت پائی جاتی ہے۔
(فتح الباری 1/ 78)
الشیخ البیضاوی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہاں محبت سے مراد محبتِ عقلی ہے۔ اور اس سے مراد اس چیز کو اختیار کرنا ہے جس کا عقلِ سلیم تقاضا کرتی ہے اور اس کا رجحان رکھتی ہے۔ خواہ وہ خواہشِ نفس کے خلاف ہو“۔
(فتح الباری 1/ 78)
② سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب إليه من والده وولده والناس أجمعين
”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔
بخاری کتاب الایمان، حدیث (15) مسلم، کتاب الایمان، حديث (44/70).
یہاں محبت سے مراد محبتِ اختیار ہے، محبتِ طبع نہیں۔ یہ امام خطابی رحمہ اللہ کا موقف ہے۔ الشیخ النووی رحمہ اللہ نے کہا: ”نفسہ امارہ اور نفس مطمئنہ کے قضیے کی طرف اشارہ ہے۔ پس جس نے مطمئن نفس کی جانب کو ترجیح دی تو اس کی محبت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے راجح نہیں“۔
(فتح الباری 1/ 76)
③ سیدنا سفیان بن عبد اللہ الثقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی بات بتا دیں کہ اس کے متعلق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی سے دریافت نہ کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قل آمنت بالله ثم استقم
”کہہ دیجئے! میں اللہ پر ایمان لے آیا، اور پھر (اس بات پر) قائم ہو جاؤ، ڈٹ جاؤ“۔
(صحيح ابن حبان، کتاب الرقائق، رقم: 945)
قاضی عیاض رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوامع الکلم میں سے ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:
﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا﴾
یعنی ”انہوں نے اللہ کی توحید کا اقرار کر لیا، اس پر ایمان لے آئے، پھر اس پر قائم رہے۔ “
(سورة فصلت: 30)
کے مطابق ہے۔ وہ توحید سے الگ نہ ہوئے اور وہ مرتے دم تک اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اطاعت پر قائم رہے۔
الاستاذ ابو القاسم القشیری رحمہ اللہ نے اپنے رسالے میں لکھا ہے: استقامت ایک ایسا درجہ ہے جس کے ذریعہ تمام امور کمال و اتمام کو پہنچتے ہیں، اس کے ہونے سے بھلائیوں کا حصول اور ان کا نظام ہے۔ اور جو شخص اپنی حالت پر مستقیم نہ ہو اس کی ساری کوشش اور جدوجہد ضائع اور بے کار ہے۔
انہوں نے کہا: یہ بھی کہا جاتا ہے کہ صرف اکابر لوگ ہی استقامت کی طاقت رکھتے ہیں، کیونکہ اس سے مراد اپنے معمولات کو چھوڑنا اور من پسند چیزوں اور عادات سے الگ ہونا ہے، اور حقیقتِ صدق پر اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونا ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثابت قدم رہو تمہارا شمار نہیں کیا جائے گا“۔
الشيخ الواسطي رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ وہ خصلت ہے جس کی وجہ سے محاسن مکمل ہوتے ہیں، اور اس کے نہ ہونے سے محاسن قبیح بن جاتے ہیں“۔
(ملاحظہ فرمائیں: شرح مسلم للنووی 9/2)
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذي نفس محمد بيده لا يسمع بي أحد من هذه الأمة يهودي ولا نصراني ثم يموت ولم يؤمن بالذي أرسلت به إلا كان من أصحاب النار
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! اس امت کے جس جس یہودی اور عیسائی نے میرے متعلق سن لیا اور پھر وہ میری لائی ہوئی شریعت پر ایمان نہ لایا تو وہ جہنمی ہے“۔
مسلم کتاب الایمان، حدیث: 153/240، مسند احمد: 317/2 (8224)
⑤ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا يؤمن أحدكم حتى يحب لأخيه ما يحب لنفسه
”تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا حتیٰ کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔
(بخاری کتاب الایمان، حدیث 13 مسلم كتاب الإيمان، حديث 45/71)
علماء رحمہم اللہ بیان کرتے ہیں: ”مومن نہیں ہو سکتا“ سے مراد ”کامل ایمان“ ہے، ورنہ جس شخص میں یہ صفت نہ بھی ہو تو وہ ایمان کی اصل تو حاصل کر لیتا ہے۔ اور اپنے بھائی کے لیے پسند کرنے سے مراد ہے اپنے بھائی کے لیے طاعات اور مباح اشیاء پسند کرے۔ نسائی شریف کی روایت میں اس کی وضاحت ہے:
”حتیٰ کہ اپنے بھائی کے لیے بھلائی سے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے“۔
الشيخ ابو عمرو بن الصلاح رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: بعض حضرات نے اس صفت کے حاصل کرنے کو دشوار اور محال سمجھا ہے۔ حالانکہ یہ بات صحیح نہیں ہے، کیونکہ مراد یہ ہے کہ تم میں سے کسی کا ایمان کامل نہیں ہوتا جب تک وہ اپنے بھائی کے لیے اسلام میں وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ اور اس کا حصول اس طرح ممکن ہے کہ وہ اسی طرح کی نعمت جو اسے میسر ہے وہ پسند کرے کہ یہی نعمت اس کے بھائی کو مل جائے۔ اس کے حصول میں کسی طرح کی مزاحمت پیدا کرے نہ اس میں کمی واقع کرنے کی کوشش کرے۔ اور یہ چیز قلبِ سلیم پر آسان ہے جبکہ خراب دل پر مشکل ہے۔
(دیکھئے شرح صحیح مسلم للنووی 17،16/2)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: اس سے ایمان کے کمال کی نفی مراد ہے۔ پھر فرمایا: اگر یہ کہا جائے تو پھر لازم آتا ہے کہ جس شخص میں یہ خصلت پائی جائے، وہ کامل مومن ہے خواہ وہ باقی ارکان کا اہتمام نہ کرے۔ اس کا یہ جواب ہے کہ یہ مبالغے کا انداز ہے۔
(دیکھئے فتح الباری 74/1)
اس سے مراد خیر و بھلائی پسند کرنا ہے۔ یہ ایک جامع کلمہ ہے جو دنیا و آخرت کی تمام طاعات و مباحات کو شامل ہے اور تمام منہیات اس سے نکل جاتی ہیں، کیونکہ کلمہ خیر ممنوع امور میں شامل نہیں۔ اور محبت و پسند اس ارادے کا نام ہے جسے وہ خیر خیال کرتا ہے۔
الشيخ النووی رحمہ اللہ نے فرمایا: محبت اس چیز کی طرف جھکاؤ اور رجحان کا نام ہے جو محبت کے موافق ہو۔ کبھی یہ اس کے جو اس کے ذریعے ہوتا ہے جیسے حسنِ صورت یا اس کے فعل کے ذریعے ہوتا ہے، کبھی اس کی ذات کے لیے جیسے فضل و کمال، کبھی اس کے احسان کے لیے جیسے جلبِ نفع یا دفعِ ضرر۔
(دیکھئے فتح الباری 74/1)
الشيخ کرمانی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ بھی ایمان میں سے ہے کہ وہ جو بری چیز اپنے لیے ناپسند کرتا ہے اپنے بھائی کے لیے بھی ناپسند کرے۔ اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ذکر نہیں کیا کیونکہ کسی چیز سے محبت اس کی مخالف چیز کے بغض کو ستلزم ہے۔
(فتح الباری 74/1)