احکام سوگ برائے خواتین
① سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد على ميت فوق ثلاث إلا على زوجها
”جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے علاوہ کسی میت پر تین دن سے زائد سوگ منائے۔“
مسلم، کتاب الطلاق 63 / 1490۔
② نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر أن تحد فوق ثلاث إلا على زوجها فإنها تحد أربعة أشهر وعشرة أيام
”جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے خاوند کے سوا کسی اور میت پر تین دن سے زائد سوگ منائے کیونکہ وہ اس پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرے گی۔“
مسلم، كتاب الطلاق 64 / 1490۔
صبر
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس تشریف لائے جو اپنے بچے کے فوت ہو جانے پر رو رہی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا:
اتقي الله واصبري
”اللہ سے ڈرو اور صبر کرو۔“
اس عورت نے کہا تمہیں میری مصیبت کا احساس نہیں، پس جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے تو اسے بتایا گیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ (یہ سنتے ہی) وہ ایسے ہو گئی گویا کہ اسے موت نے آ دبوچا ہو۔ پس وہ آپ کے گھر آئی اور اس نے آپ کے دروازے پر کسی دربان کو نہ پایا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا (میں اب صبر کرتی ہوں)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنما الصبر عند الصدمة الأولى
”صبر تو وہ ہے جو پہلے صدمے پر ہو۔“
بخاری، کتاب الجنائز 1302۔ مسلم، كتاب الجنائز 926۔ ابوداؤد، کتاب الجنائز 3124۔