رزق حلال کمانے کی فضیلت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ﴾
”لوگو! زمین میں جتنی بھی حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ پیو اور شیطانی راہ پر نہ چلو۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔“
(2-البقرة:168)
﴿ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ﴾
”اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ، جو ہم نے تمہیں دی ہیں، اور تم اللہ کا شکر کرو اگر تم صرف اس کی بندگی کرتے ہو۔“
(2-البقرة:172)
آیت نمبر (168) میں اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں کو خطاب کر کے کہا کہ حلال و طیب روزی کھاؤ۔ اس آیت میں خطاب مؤمنین کے ساتھ خاص ہے، کیونکہ اپنے ایمان کی بدولت یہی لوگ اللہ کے اوامر و نواہی سے صحیح معنوں میں استفادہ کر سکتے ہیں، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو پاکیزہ روزی کھانے اور اس کا شکر ادا کرتے رہنے کا حکم دیا ہے۔ جیسا کہ انبیاء و رسل کو حکم دیا اور فرمایا :
﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾
یعنی اے میرے رسولو! پاکیزہ روزی کھاؤ اور عمل صالح کرو۔
(23-المؤمنون:51)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ ہی یہ کہتے ہیں : ( طیبات ) سے مراد وہ کھانے ہیں جو عقل اخلاق کے لیے نفع بخش ہیں، اور اس کے مقابلے میں (خبائث) ان کھانوں کو کہتے ہیں ۔ عقل و اخلاق کے لیے نقصان دہ ہیں، اور شراب تمام خبیث کھانوں کی اصل ہے۔ اس لیے کہ وه عقل و اخلاق میں فساد ڈال دیتی ہے ۔ انتہی (بحواله تيسير الرحمن : 94،93/1)
عن أبى هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : والذي نفسي بيده لأن يأخذ أحدكم حبله ، فيحتطب على ظهره، خير له من أن يأتى رجلا فيسأله، أعطاه أو منعه
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم میں سے جو شخص رسی لے کر لکڑی کا گٹھا اپنی پیٹھ پر لاد کر لاتا (اور اسے بیچ کر گزارا کرتا ہے ) یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ دو کسی سے سوال کرے، وہ اسے دے دے یا انکار کر دے۔
صحیح بخاری، کتاب الزكاة، باب الاستعفاف عن المسئلة، رقم : 1470
عن أبى هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: كان زكريا نجارا
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سیدنا زکریا علیہ السلام بڑھئی تھے۔“
صحیح مسلم ، كتاب الفضائل باب من فضائل زكريا صلى الله عليه وسلم ، رقم : 2379.
وعن المقدام رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال: ما أكل أحد طعاما قط خيرا من أن يأكل من عمل يده، وإن نبي الله داود عليه السلام كان يأكل من عمل يده
سیدنا مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”کسی شخص نے اپنے ہاتھ کی کمائی سے بہتر کبھی کوئی کھانا نہیں کھایا، اور اللہ کے پیغمبر داؤد علیہ السلام اپنے ہاتھ سے کما کر کھایا کرتے تھے۔“
صحيح بخاري، كتاب البيوع، باب كسب الرجل وعمله بيده، رقم: 2072
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من تصدق بعدل تمرة من كسب طيب، ولا يقبل الله إلا الطيب، وإن الله يتقبلها بيمينه، ثم يربيها لصاحبه كما يربي أحدكم فلوه، حتى تكون مثل الجبل.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص حلال کی کمائی سے ایک کھجور بھی صدقہ دیتا ہے، اور اللہ تعالیٰ حلال پاک چیزوں کو ہی قبول کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیتا ہے، پھر اسے دینے والے کی خاطر بڑھاتا ہے جس طرح تم اپنے گھوڑے کے بچے کی پرورش کرتے ہو، حتی کہ وہ کھجور پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الزكاة، باب الصدقة من كسب طيب، رقم: 1410 – صحیح مسلم، کتاب الزكاة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب، رقم: 1014.