جمعہ ترک کرنے، خطبہ کے دوران بات کرنے، گردنیں پھلانگنے اور جمعہ کے دن خاص روزہ و قیام کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

جمعہ ترک کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو جعد ضمری رضی اللہ عنہ جو کہ صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ان سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه
”جو شخص جمعہ کو معمولی سمجھتے ہوئے تین جمعے ترک کر دے تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1052 ،نسائی، الجمعہ 73/3 مسند احمد 519/3۔
② سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہم نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر ارشاد فرماتے ہوئے سنا:
لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين
”لوگ جمعے چھوڑنے سے باز آ جائیں، وگرنہ اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے“۔
مسلم، کتاب الجمعہ 40 / 865۔
③ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ سے پیچھے رہ جانے والوں کے متعلق فرمایا:
لقد هممت أن آمر رجلا يصلي بالناس ثم أحرق على رجال يتخلفون عن الجمعة بيوتهم
”میں نے ارادہ کیا کہ کسی آدمی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، پھر جو لوگ جمعے سے پیچھے رہتے ہیں، انہیں ان کے گھروں سمیت جلا دوں“۔
مسلم، کتاب المساجد ومواضع الصلوۃ 652/254 مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ 522/1 حدیث 3815۔
وضاحت: جو لوگ جمعہ نہیں پڑھتے اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس کے دل پر غلاف آ جاتا ہے، وہ بند ہو جاتا ہے اور پھر اس پر مہر لگا دی جاتی ہے، اب خیر و بھلائی کی کوئی چیز اس تک نہیں پہنچ سکتی۔

خطبہ جمعہ کے دوران بات کرنے کی ممانعت

① نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے دو آدمیوں کو دیکھا کہ وہ باتیں کر رہے ہیں، جبکہ امام خطبہ جمعہ دے رہا تھا۔ پس انہوں نے ان دونوں کی طرف کنکری پھینکی تاکہ وہ خاموش ہو جائیں۔
موطا، کتاب النداء للصلوۃ 104/1 حدیث 9۔

دوران خطبہ کلام کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا قلت لصاحبك: أنصت يوم الجمعة والإمام يخطب فقد لغوت
”جب تم نے جمعہ کے دن امام کے دورانِ خطبہ اپنے ساتھی سے کہا: خاموش ہو جاؤ، تو تم نے کلام کرنے میں غلطی کی“۔
بخاری، کتاب الجمعہ 934۔ مسلم، الجمعہ 583/2۔

جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوعاً بیان کرتے ہیں، آپ فرمایا کرتے تھے:
لأن يصلي أحدكم بظهر الحرة خير له من أن يقعد حتى إذا قام الإمام يخطب جاء يتخطى رقاب الناس يوم الجمعة
”اگر تم میں سے کوئی کالے پتھروں والی زمین پر نماز پڑھ لے تو وہ اس کے لیے بیٹھے رہنے سے بہتر ہے، حتیٰ کہ جب امام خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو وہ آتا ہے اور جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے“۔
موطا مالک النداء للصلوۃ 1 / 110، حدیث 18۔
② سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جمعہ کے دن ایک آدمی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آیا جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطاب فرما رہے تھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجلس فقد آذيت
”بیٹھ جاؤ، تم نے اذیت پہنچائی ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلوۃ 1118۔ نسائی الجمعہ 84/3۔
③ سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من تختى رقاب الناس يوم الجمعة اتخذ جسرا إلى جهنم
”جو شخص جمعہ کے دن لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے تو وہ دراصل جہنم کی طرف پل بناتا ہے“۔
ترمذی، کتاب الجمعہ 513۔ ابن ماجہ، اقامۃ الصلوۃ والسنۃ فیہا 116۔

جمعہ کے دن روزہ رکھنے اور رات کو قیام کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تخصوا ليلة الجمعة بقيام من بين الليالي ولا تخصوا يوم الجمعة بصيام من بين الأيام إلا أن يكون فى صيام يصومه أحدكم
”جمعہ کی رات کو دیگر راتوں کے علاوہ قیام کے لیے مخصوص نہ کرو اور جمعہ کے دن کو دیگر ایام کے علاوہ روزے کے لیے مخصوص نہ کرو، مگر یہ کہ تم میں سے کوئی روزے رکھتا ہو“۔
مسلم کتاب الصیام 1144/148۔