قیامت کی نشانی : مؤمن کا ہر خواب سچا ثابت ہوگا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حافظ مبشر حسین لاہوری کی کتاب قیامت کی نشانیاں صحیح احادیث کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

قیامت کی نشانی : مؤمن کا ہر خواب سچا ثابت ہوگا

عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : إذا اقترب الزمان لم تكد رؤيا المسلم تكذب وأصدقكم رؤيا أصدقكم حديثا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب قیامت کا زمانہ قریب آ جائے گا تو مومن کا کوئی خواب جھوٹا نہیں ہو گا اور سب سے سچا خواب اس کا ہوگا جو گفتگو میں بھی سب سے سچا ہو گا۔
بخاری: کتاب التعبير : باب القيد في المنام (7017) مسلم (2263) احمد (2/672) ترمذی (2270) ابن ماجة (3993) دارمی (2144) ابو داؤد (5019) حاکم (4/432) شرح السنة (6/296)
عن أبى هريرة رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم قال : فى آخر الزمان لا تكاد رؤيا المؤمن تكذب وأصدقهم رؤيا أصدقهم حديثا
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آخری زمانے میں مؤمن کا خواب جھوٹا ثابت نہیں ہوگا اور سب سے سچا خواب اس کا ہو گا جو گفتگو میں بھی سب سے سچا ہوگا اور خواب تین طرح کے ہوتے ہیں :
➊ نیک خواب جو اللہ کی طرف سے خوشخبری اور بشارت ہیں۔
➋ نفسیاتی خواب۔
➌ شیطان کی طرف سے غمزدہ کرنے والے خواب ۔
احمد (2/355 – 672) بخاری: کتاب التعبير : ايضا (7017) مسلم (2263) حاکم (4/432) ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجة، دارمی ، شرح السنة (ايضا)

فوائد :

➊ ہر خواب کا سپیدہ سحر کی طرح رونما ہونا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ اس نشانی کا ظہور تا حال واقع نہیں ہوا اگرچہ قبل از قیامت اس کا وقوع قطعی ولازمی ہے۔
➌ مذکورہ نشانی کے وقت ظہور کے متعلق مختلف اقوال بیان کئے گئے ہیں۔ مثلا :
◈ یہ نشانی اس وقت ظاہر ہو گی جب دین و شریعت کو بھلا دیا جائے گا، علم کا خاتمہ ہو جائے گا ، اور ہر طرف فتنہ و فساد اور کشت و خون بر پا ہو گا۔
◈ اس کا ظہور اس وقت ہو گا جب اہل ایمان نہایت قلیل تعداد میں رہ جائیں گے تا کہ انہیں سچے خوابوں کے ساتھ خدائی رہنمائی حاصل ہو اور وہ دین پر ثابت قدم رہیں۔
◈ اس نشانی کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس وقت کذب و نفاق، بغض و حسد اور کفر و شرک سے پاک مسلمان باقی رہ جائیں گے تو ان کی سچائی ان کے خوابوں پر براہ راست اثر انداز ہو گی۔
فتح الباری : 406/12
◈ حدیث نمبر 1 میں یہ جملہ :
اذا اقترب الزمان
”جب زمانہ قریب آجائے گا۔“
واقع ہوا ہے جس کے مفہوم میں اختلاف پایا جاتا ہے البتہ اس کا راجح مفہوم یہ ہے کہ جب قیامت کا وقت (زمانہ) قریب آجائے گا، کیونکہ دوسری احادیث میں اذا اقترب الزمان کی جگہ في اخر الزمان (آخری زمانے میں) ہے جو مذکورہ مفہوم کی تائید کرتا ہے۔
◈ آخری زمانے میں تو ہر خواب ہی سچا اور غیر مبہم ہو گا مگر اس سے پہلے خواب تین قسموں میں منقسم رہے گا یعنی سچا، جھوٹا اور حدیث انفس (پراگندہ خیالات)