مساجد کو بنانے اور آباد کرنے کی فضیلت
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِينَ أَن يَعْمُرُوا مَسَاجِدَ اللَّهِ شَاهِدِينَ عَلَىٰ أَنفُسِهِم بِالْكُفْرِ ۚ أُولَٰئِكَ حَبِطَتْ أَعْمَالُهُمْ وَفِي النَّارِ هُمْ خَالِدُونَ . إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللَّهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ. ﴾
”اور یہ بات مناسب نہیں ہے کہ مشرکین اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں، حالانکہ وہ اپنے بارے کفر کی گواہی دیتے ہیں، ان لوگوں کے اعمال ضائع ہو گئے ، اور وہ ہمیشہ کے لئے جہنم میں رہیں گے۔ اللہ کی مسجدوں کو صرف وہ لوگ آباد کرتے ہیں۔ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں ، اور زکاۃ دیتے ہیں اور اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے ہیں، پس یہ لوگ امید ہے کہ ہدایت پانے والے ہیں ۔“
(9-التوبة:17۔18)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مساجد اللہ کی دیکھ بھال کفار و مشرکین کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ تو ایمان والوں کا کام ہے۔ اور آیت کے آخر میں مساجد کو آباد کرنے والوں کو ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کیا ہے ۔
عن عثمان بن عفان رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من بنى مسجدا لله ، بنى الله له فى الجنة مثله .
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: ” جس نے اللہ کے لیے مسجد بنائی اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس طرح کا گھر جنت میں بنائے گا۔“
صحیح مسلم، کتاب الزهد، باب فضل بناء المساجد، رقم: 533 .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہوئے فرماتی ہیں:
أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تتخذ المساجد فى الدور ، وأن تنظف وتطيب .
” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ محلوں میں مساجد بناؤ، اور انھیں پاک صاف اور معطر رکھو۔“
سنن ابو داؤد، کتاب الصلوة، باب اتخاذ المساجد في الدور ، رقم 455 ـ سنن ابن ماجه، کتاب المساجد، باب تطهير المساجد، وتطيبها، رقم: 758 – البانی رحمہ اللہ نے اسے ”صحیح“ کہا ہے۔
اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ جن خوش نصیبوں کو روز قیامت اپنے عرش کے سائے تلے جگہ عنایت فرمائے گا، ان میں ایک وہ شخص بھی ہے جو مسجد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے ۔ جیسا کہ حدیث میں ہے:
ورجل قلبه معلق فى المساجد
”اور (ایسے شخص کو بھی عرش کے سائے تلے جگہ ملے گی) جس کا دل مسجد کی طرف لگارہتا ہو ۔ ( یعنی کب نماز کا وقت ہو اور میں مسجد جاؤں ۔)“
صحيح البخارى، كتاب الزكاة، باب الصدقة باليمين، رقم : 1423 ـ صحيح مسلم، کتاب الزكاة، باب فضل اخفاء الصدقة، رقم: 1031.