درود و سلام کی فضیلت اور نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنے کا مسنون طریقہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

رسول پر درود و سلام كي فضيلت اور طريقه

مسجدِ نبوی اور مسجدِ اقصی میں نماز، تلاوتِ قرآن کریم، دعا اور اعتکاف وغیرہ عبادات انجام دینے کے لیے رختِ سفر باندھنا بالاتفاق مستحب ہے۔ جب کوئی شخص مسجدِ نبوی میں داخل ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام بھیجے اور نماز کے دوران بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھے کیونکہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ‎﴿٥٦﴾
”بے شک اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود پڑھتے ہیں۔ اس لیے اے ایمان والو! تم بھی اس پر درود و سلام پڑھو۔“
(33-الأحزاب:56)
جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک دفعہ درود و سلام پڑھتا ہے، رب کریم اس پر دس مرتبہ رحمت بھیجتا ہے۔
صحيح مسلم كتاب الصلاة : باب الصلاة على النبي صلی اللہ علیہ وسلم بعد التشهد (حديث : 408)
ایک سچے مؤمن کو چاہیے کہ وہ رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مقامِ وسیلہ کے حصول کی دعا کرے۔ صحیح مسلم میں مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا على فإنه من صلى على مرة صلى الله عليه عشرا ثم سلوا الله لي الوسيلة فإنها درجة فى الجنة لا تنبغي إلا لعبد من عباد الله وأرجو أن أكون أنا هو فمن سأل لي الوسيلة حلت له الشفاعة
”جب تم مؤذن کو اذان کہتے ہوئے سنو تو جو الفاظ وہ کہتا ہے تم بھی وہی کہو، پھر مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ پھر میرے لیے اللہ سے ’وسیلہ‘ مانگو، یہ جنت میں ایک مقام ہے جو اللہ کے بندوں میں سے کسی ایک ہی کو ملے گا اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا۔ پس جس نے میرے لیے وسیلہ کی دعا کی، اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔“
صحیح مسلم کتاب الصلاة : باب القول مثل قول المؤذن (حديث : 384)
پھر مجھ پر درود پڑھو کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود پڑھتا ہے، اللہ اس پر دس رحمتیں بھیجتا ہے، پھر میرے لیے وسیلہ کی دعا کرو۔ کیونکہ وسیلہ جنت کے درجات میں سے ایک درجہ ہے جو اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک کے لیے خاص ہے اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں۔ پس جو میرے لیے وسیلہ کی دعا کرتا ہے تو قیامت کے دن اس کی شفاعت اس کے لیے واجب ہو جائے گی۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
من قال حين يسمع النداء اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وابعثه مقاما محمودا الذى وعدته إنك لا تخلف الميعاد حلت له شفاعتي القيمه
”جو شخص اذان سننے کے بعد یہ دعا پڑھتا ہے کہ اے اس پوری ندا اور قائم کی گئی نماز کے مالک! تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت اور مقامِ محمود عطا فرما، جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے کیونکہ تو اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا۔ تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت حلال ہو جائے گی۔“
صحیح بخاری کتاب الاذان : باب الدعاء عند النداء (حديث : 214)
مندرجہ بالا دعا مانگنے کا حکم ہے؛ نیز قبرِ مکرم کے پاس سلام کہنا جائز ہے کیونکہ سنن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
ما من أحد يسلم على إلا رد الله على روحي حتى أرد عليه السلام
”اگر کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجے گا تو اللہ تعالیٰ میرے جسم میں روح کو واپس کر دے گا، یہاں تک کہ میں اس کے سلام کا جواب دوں۔“
سنن ابی داؤد کتاب المناسك : باب زيارة القبور (حديث : 2041)
گویا مشرق و مغرب، شمال و جنوب، دنیا کے کسی بھی خطے سے جب کوئی شخص رسول اللہ پر درود و سلام کہتا ہے تو رب کریم اس درود و سلام کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتا ہے۔ چنانچہ سنن میں اوس بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أكثروا على من الصلاة يوم الجمعة وليلة الجمعة فإن صلاتكم معروضة على قالوا وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت أى صرت رميما قال إن الله حرم على الأرض أن تأكل لحوم الأنبياء
”جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب نیز جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ اس دن تمہارا درود میرے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”ہمارا درود آپ کی خدمت میں کیسے پیش کیا جائے گا جب کہ آپ مٹی میں مل چکے ہوں گے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کے جسموں کو کھائے۔“
سنن ابی داؤد کتاب الصلاة : باب فضل يوم الجمعة و ليلة الجمعة (حديث : 1047) سنن نسائی كتاب الجمعة باب اكثار الصلاة على النبي صلی اللہ علیہ وسلم يوم الجمعة (حديث : 1373) سنن ابن ماجه ، کتاب اقامة الصلوت باب في فضل يوم الجمعة (حديث : 1085)
اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ:
لا تتخذوا قبري عيدا وصلوا على حيث ما كنتم فإن صلاتكم تبلغني
”میری قبر کو میلہ کی جگہ نہ بنا لینا۔ تم جہاں بھی ہو مجھ پر درود بھیجتے رہنا، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچا دیا جائے گا۔“
سنن ابی داؤد کتاب المناسك – باب زيارة القبور (حديث : 2042)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام دور سے بھی اسی طرح پہنچتا ہے جس طرح قریب سے، سنن نسائی میں مروی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن لله ملائكة سياحين يبلغوني عن أمتي السلام
”اللہ تعالیٰ نے کچھ خاص فرشتے مقرر کر رکھے ہیں جو زمین میں گھومتے رہتے ہیں اور میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔“
سنن نسائی۔ کتاب السهو : باب التسليم على النبي صلی اللہ علیہ وسلم (حدیث : 1283)
رب کریم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم رسول اللہ پر درود و سلام بھیجیں نیز ہر نماز میں اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرنے کے بعد حکم ہے کہ یہ دعا پڑھیں:
السلام عليك أيها النبى ورحمة الله وبركاته
”اے نبی! آپ پر اللہ تعالیٰ کا سلام، اس کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں۔“
صحیح بخاری کتاب الاذان : باب التشهد في الآخرة (حدیث : 831) صحیح مسلم۔ كتاب الصلاة باب التشهد في الصلاة (حديث : 402)
یہ درود و سلام رسول اللہ پر مشرق و مغرب سے بھی پہنچ جاتا ہے۔ جب ہم رسول اللہ پر درود و سلام بھیجنا چاہیں تو ہمیں یوں کہنا چاہیے:
اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد اللهم بارك على محمد وعلى آل محمد كما باركت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد
”اے اللہ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کی آل پر رحمتیں نازل فرما۔ جیسے تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل پر رحمتیں نازل کیں۔ بے شک تو حمید و مجید ہے اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور آپ کی آل پر برکتیں نازل فرما جیسے تو نے ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی آل پر برکتیں نازل کیں۔ بے شک تو حمید و مجید ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب احادیث الانبیاء : باب 10 (حدیث : 3370) صحیح مسلم، کتاب الصلاة : باب الصلاة على النبي بعد التشهد (حديث : 408)