مصافحہ، غصے پر قابو اور مسلمان بھائی کی مدد کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

مصافحہ کرنے کے احکامات

① سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا التقى المسلمان فتصافحا وحمدا الله واستغفراه غفر لهما
”جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں، اور وہ اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تو انہیں بخش دیا جاتا ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 5211، البیہقی 160/7۔
② سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من مسلمين يلتقيان ويتصافحان إلا غفر لهما قبل أن يتفرقا
”جب دو مسلمان آپس میں ملتے ہیں اور مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے الگ ہونے سے پہلے ہی انہیں بخش دیا جاتا ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 5212، ترمذی، کتاب الاستئذان والآداب 2727.
③ سیدنا عطاء الخراسانی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تصافحوا يذهب الغل وتهادوا تحابوا وتذهب الشحناء
”مصافحہ کیا کرو اس سے کینہ و حسد جاتا رہے گا، آپس میں تحائف دیا کرو اس سے محبت پیدا ہوگی اور رنجش جاتی رہے گی۔“
موطا 2/ 908، حدیث 16، حافظ زیلعی نے نصب الرایہ 121/4 میں اسے مرسل کیا ہے۔

غصہ کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھنے کے احکامات

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس الشديد بالصرعة إنما الشديد الذى يملك نفسه عند الغضب
”بہادر وہ نہیں جو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“
بخاری، کتاب الادب 6114، مسلم، کتاب البر والصلة والادب 2609/107۔
② سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما تعدون الصرعة فيكم؟
”تم اپنے میں سے غالب رہنے والا شخص کسے شمار کرتے ہو؟“
ہم نے عرض کیا: جس پر کوئی غالب نہ آ سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس بذلك ولكنه الذى يملك نفسه عند الغضب
”اس طرح نہیں، بلکہ وہ شخص ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو رکھے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4779۔ مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابه 497/1 حدیث 3625۔

مسلمان بھائی کی مدد کرنے کے احکامات

① سیدنا جابر اور ابو طلحہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما من امرئ مسلم يخذل امرأ مسلما فى موضع تنتهك فيه حرمته وينتقص فيه من عرضه إلا خذله الله فى موطن يحب فيه نصرته، وما من امرئ ينصر مسلما فى موضع ينتقص فيه من عرضه وتنتهك فيه من حرمته إلا نصره الله فى موطن يحب فيه نصرته
”جو مسلمان کسی مسلمان آدمی کو ایسے موقع پر بے یار و مددگار چھوڑ دے جہاں اس کی بہت زیادہ مذمت اور اسے سب و شتم کیا جا رہا ہو اور اس کی بے عزتی کی جا رہی ہو تو اللہ ایسے شخص کو بھی ایسے موقع پر بے یار و مددگار چھوڑ دے گا جہاں وہ اپنی مدد ہونا پسند کرتا ہے۔ اور جو شخص کسی مسلمان کی ایسے موقع پر مدد کرتا ہے جہاں اس کی بے عزتی کی جاتی ہے اور اس کی خوب مذمت اور سب و شتم ہوتی ہے تو اللہ اس کی ایسے موقع پر مدد کرے گا جہاں وہ چاہتا ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4884۔ مسند احمد، اول مسند المدنیین اجمعین 39/4 حدیث 6374۔