اعتکاف کی فضیلت
ماہِ رمضان میں لیلۃ القدر جس میں قرآن مقدس نازل ہوا، بڑی ہی بابرکت رات ہے۔ چونکہ رمضان اور قرآن کا گہرا تعلق ہے۔ اور رمضان کے روزوں کا مقصد بھی تقویٰ کا حصول بیان کیا گیا ہے۔ اس لیے رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کو مقرر کر کے اس کے حصول کے لیے مساجد میں دس روزہ اعتکاف کرنے کی ترغیب دلائی:
عن عائشة رضي الله عنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجاور فى العشر الأواخر من رمضان، ويقول: تحروا ليلة القدر فى العشر الأواخر من رمضان .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، اور فرماتے تھے: ”رمضان کے آخری عشرے میں لیلۃ القدر کو تلاش کرو۔“
صحیح بخاری، کتاب فضلِ لیلۃ القدر، باب تحری لیلۃ القدر فی الوتر من العشر الاواخر، رقم: 20۔ صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب فضل لیلۃ القدر، رقم: 1169۔
عن عائشة رضي الله عنها، أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله تعالى، ثم اعتكف أزواجه من بعده .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فوت فرما دیا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔
صحیح بخاری، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف فی العشر الاواخر، رقم: 2026۔ صحیح مسلم، کتاب الاعتکاف، باب اعتکاف العشر الاواخر رمضان، رقم: 1173۔
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: كان النبى صلى الله عليه وسلم يعتكف فى كل رمضان عشرة أيام، فلما كان العام الذى قبض فيه اعتكف عشرين يوما .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف فرمایا کرتے تھے، مگر جس سال آپ کا انتقال ہوا، آپ نے 20 دن اعتکاف فرمایا۔
صحیح بخاری، کتاب الاعتکاف، باب الاعتکاف فی العشر الاوسط من رمضان، رقم: 2044۔