حق کو نہ چھپانے کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

حق کو نہ چھپانے کی فضیلت

اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو بڑے فضائل و برکات، انعامات و اکرامات سے نوازا اور انھیں اپنے برگزیدہ بندوں میں شمار کیا، لیکن ان ظالموں نے اللہ تعالیٰ کے ان اکرامات کو درخواہ نہ جانا اور اپنی خواہش کی اتباع میں لگ کر اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایت و احکامات میں تغیر و تبدل کے مرتکب ہوئے۔ اور اپنے مزعوم مقاصد کے حصول کے لیے حق پر بیسیوں پردے ڈال کر باطل کو زائع و شائع کیا۔ نتیجتاً اللہ تعالیٰ کے مغضوب بندوں میں اپنا اندراج کروالیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے کرتوتوں کی قرآن مقدس میں جابجا مذمت کی ہے۔ اور حق کو بیان کرنے اور حق والوں کا ساتھ دینے کے احکامات بیان کیے۔ اور ایسے لوگوں کے فضائل و مناقب قرآن و حدیث میں بے شمار ہیں:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ ۙ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ﴾ ‎
”بے شک جو لوگ ہماری نازل کردہ نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں، اس کے باوجود کہ ہم اسے لوگوں کے واسطے کتاب میں بیان کر چکے ہیں، ان پر اللہ اور تمام لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔“
(2-البقرة:159)
مزید ارشاد فرمایا:
‏ ﴿إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلَ اللَّهُ مِنَ الْكِتَابِ وَيَشْتَرُونَ بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۙ أُولَٰئِكَ مَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ إِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ .أُولَٰئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلَالَةَ بِالْهُدَىٰ وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَا أَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ . ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ نَزَّلَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ ۗ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِي الْكِتَابِ لَفِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ .﴾
”جو لوگ اللہ کی نازل کردہ کتاب کو چھپاتے ہیں، اور اس کے بدلے حقیر سی قیمت قبول کر لیتے ہیں، وہ در حقیقت اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھرتے ہیں، اور قیامت کے دن اللہ ان سے بات نہیں کرے گا۔ اور نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے بڑا درد ناک عذاب ہوگا۔ انہی لوگوں نے ہدایت دے کر ضلالت لے لی، اور مغفرت کے بدلے عذاب قبول کر لیا۔ یہ لوگ عذاب نار پر کس قدر صبر کرنے والے ہوں گے۔ یہ (عذاب اُنہیں) اس لیے دیا جائے گا کہ اللہ نے سچی کتاب اتاری ہے (اور انہوں نے اسے چھپا دیا) اور جو لوگ اس کتاب میں اختلاف کرتے ہیں، وہ بڑی مخالفت و عداوت میں پڑ گئے ہیں۔“
(2-البقرة:174 ۔ 176)
﴿وَالْعَصْرِ ‎.‏ إِنَّ الْإِنسَانَ لَفِي خُسْرٍ . إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ.﴾
”زمانے کی قسم! بے شک و بالیقین انسان سراسر نقصان میں ہے، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے اور جنہوں نے آپس میں حق کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی۔“
(103-العصر:1۔3)
حق بات کو چھپانا قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے:
عن أبى هريرة يقول: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يكون فى آخر الزمان دجالون كذابون يأتونكم من الاحاديث مالم تسمعوا أنتم ولا آباء كم فإياكم وإياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”آخری زمانے میں ایسے مکار اور جھوٹے لوگ پیدا ہوں گے جو ایسی حدیثیں بیان کریں گے جو نہ تم نے سنی ہوں گی، نہ تمہارے آباؤ و اجداد نے سنی ہوں گی (خبردار!) ایسے لوگوں سے بچ کے رہنا کہیں تمہیں گمراہ نہ کر دیں اور فتنوں میں مبتلا نہ کر دیں۔“
صحيح مسلم، مقدمة ، رقم: 7 .
نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی امت کو حق بات کے کتمان سے ترہیب دلاتے ہوئے باطل سے نہ دینے کی ترغیب دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا:
”افضل الجهاد كلمة عدل“ اور ايك روايت ميں: ”حق عند سلطان جائر“.
”افضل جہاد جابر حکمران کے سامنے کلمہ انصاف یعنی کلمہ حق کہنا ہے۔“
سلسلة الأحاديث الصحيحة، رقم : 491 .
اس حدیث پر ائمہ دین محدثین کرام رحمہم اللہ اجمعین نے کھلے بندوں عمل کیا کہ انجام کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کی اور حکمرانوں کو وعظ و نصیحت کرتے رہے۔
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے بڑا حق جو کہ قرآن و حدیث کی صورت میں ہمارے پاس ہے کی تبلیغ نشر و اشاعت کرنے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا:
نصر الله امرأ سمع منا شيئا فبلغه كما سمعه فرب مبلغ أوعى من سامع .
”اللہ تعالیٰ اس شخص کو تروتازہ رکھے جو ہم سے کوئی شے سن کر اسے اسی طرح آگے بیان کرتا ہے۔ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جاتی ہے، وہ اسے زیادہ محفوظ رکھنے والا ہوتا ہے۔“
سنن الترمذي، كتاب العلم، رقم : 2657 – علامہ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔
لہذا قرآن و احادیث صحیحہ کا مجموعہ لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے تا کہ لوگوں تک حق پہنچ جائے۔ موضوع من گھڑت احادیث بیان کرنے سے گریز کیا جائے تا کہ لوگ خالص دین پر عمل پیرا ہوں اور فرقہ بندی سے بالاتر ہو کر دین اسلام کو دنیا تک پہنچانے کی راہ ہموار ہو سکے۔