رسول اللہ ﷺ سے محبت، اتباع اور فضائل نبوی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کتاب الجواب الباہر فی زوار المقابر سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ شیخ عطا اللہ ثاقب نے کیا ہے۔

رسول اللہ سے محبت فرض ہے :

ہم پر فرض ہے کہ رحمتِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قدر محبت کریں کہ
➊ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی ہمیں اپنی جانوں، اپنے آباؤ اجداد، اولاد، اپنے اہل خانہ اور اپنے مال و متاع سے بھی زیادہ محبوب ہو جائے۔
➋ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و توقیر کریں۔
➌ ظاہر و باطن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں۔
➍ جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دوستی رکھے اس سے دوستی رکھیں۔
➎ اور جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی رکھے اسے اپنا دشمن سمجھیں۔

اتباعِ رسول کی اہمیت :

ہمیں علم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بغیر کوئی شخص:
➊ اللہ کا ولی نہیں ہو سکتا بلکہ
➋ نہ مؤمن بن سکتا ہے۔
➌ نہ سعادت و خوش بختی کا مقام حاصل کر سکتا ہے۔
➍ اور نہ اس کے لیے اللہ کے عذاب سے نجات کی کوئی صورت ہے، سوائے اس کے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور ظاہر و باطن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے۔

رسول اللہ کے فضائل:

➊ رب کریم تک پہنچنے کا وسیلہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت ہے اس لیے کہ:
➋ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اولین و آخرین سے افضل و اعلیٰ ہیں۔
➌ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین کے رتبہ عالی پر فائز ہیں۔
➍ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے قیامت کے دن شفاعتِ عظمیٰ مخصوص ہے۔
➎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو تمام انبیاء کرام کے مقابلے میں اس خصوصی امتیاز سے نوازا گیا ہے۔
➏ مقامِ محمود آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کا حصہ ہے۔
لواء الحمد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے دستِ مبارک میں ہو گا۔
➑ سیدنا آدم علیہ السلام سے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تک تمام انبیاء آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے جھنڈے تلے جمع ہوں گے۔
➒ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر تشریف لے جائیں گے تو دربان عرض کرے گا:
من أنت؟
”آپ کون ہیں؟“
فيقول أنا محمد فيقول بك أمرت أن لا أفتح لأحد قبلك
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیں گے: ”میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) ہوں۔“ دربان عرض کرے گا: ”مجھے حکم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کسی کے لیے دروازہ نہ کھولوں۔“
صحیح مسلم کتاب الايمان : باب في قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم انا اول الناس يشفع في الجنة (حدیث : 197)
رب کریم نے امتِ محمدیہ کے لیے کچھ اعمال کو فرض قرار دیا، کچھ کو سنت اور مستحب ٹھہرایا۔ چنانچہ ان میں سے ایک حج بیت اللہ ہے کہ اس کا بجا لانا امتِ مسلمہ پر فرض ہے۔