طہارت میں دائیں ہاتھ کے استعمال، نیند کے بعد ہاتھ دھونے اور پیشاب سے بچنے کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

دائیں ہاتھ سے استنجا کرنے کی ممانعت

① سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا شرب أحدكم فلا يتنفس فى الإناء، وإذا أتى الخلاء فلا يمس ذكره بيمينه، وإذا تمسح فلا يتمسح بيمينه
”جب تم میں سے کوئی مشروب پیے تو وہ برتن میں سانس نہ لے، اور جب وہ بیت الخلاء میں آئے تو اپنے دائیں ہاتھ سے اپنی شرم گاہ کو نہ چھوئے، اور جب استنجا کرے تو دائیں ہاتھ سے استنجا نہ کرے۔“
بخاری، کتاب الوضوء، 153۔ مسلم، کتاب الطهارة، 267/65۔

نیند سے بیدار ہونے کے بعد برتن میں ہاتھ ڈبونے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا استيقظ أحدكم من منامه فلا يغمس يده فى الإناء حتى يغسلها ثلاثا، فإنه لا يدري أين باتت يده
”جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو وہ اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈبوئے حتی کہ اسے تین بار دھو لے، کیونکہ اسے پتا نہیں کہ اس کے ہاتھ نے رات کہاں گزاری ہے (یعنی جسم کے کس حصے پر لگتا رہا ہے)۔“
مسلم، کتاب الطهارة، 278/87۔ ابو داؤد، کتاب الطهارة، 103۔

دائیں ہاتھ سے شرمگاہ کو چھونے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يمس أحدكم ذكره بيمينه وهو يبول، ولا يتمسح فى الخلاء بيمينه، ولا يتنفس فى الإناء
”تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرتے وقت اپنی شرم گاہ کو دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے، دائیں ہاتھ سے استنجا بھی نہ کرے اور برتن میں سانس بھی نہ لے۔“
بخاری، کتاب الوضوء، 153۔ مسلم، الطهارة، 255/1، حدیث 267۔

پیشاب کی نجاست اور اس سے بچنا

① سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ یا مدینہ کے کسی باغ یا دیوار کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو انسانوں کی آواز سنی جنہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يعذبان وما يعذبان فى كبير
”ان دونوں کو عذاب دیا جا رہا ہے اور انہیں کسی بڑے گناہ کی وجہ سے عذاب نہیں دیا جا رہا۔“
پھر فرمایا:
بلى، كان أحدهما لا يستتر من بوله، وكان الآخر يمشي بالنميمة
”ہاں! ان میں سے ایک تو اپنے پیشاب سے احتیاط نہیں کرتا تھا اور دوسرا چغل خوری کرتا تھا۔“
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی ایک تازہ شاخ منگوائی، اس کے دو ٹکڑے کیے اور دونوں قبروں پر ایک ایک ٹکڑا رکھ دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں کیا؟ فرمایا:
لعله أن يخفف عنهما ما لم يبسا أو إلا أن يبسا
”امید ہے کہ جب تک یہ خشک نہ ہوں گی ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی۔“
بخاری، کتاب الوضوء، حدیث 216۔ النسائي، الجنائز، 86/4۔