مسجد کی طرف چل کر جانے کے فضائل صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

مسجد کی طرف چل کر جانے کے فضائل

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
عن أبى هريرة رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من غدا إلى المسجد وراح أعد الله له نزله من الجنة كلما غدا أو راح .
” جو شخص صبح یا شام کو مسجد کی طرف جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں، جب بھی وہ صبح یا شام کو مسجد کی طرف جاتا ہے، مہمانی تیار کرتا ہے۔“
صحیح بخاری ، کتاب الاذان، باب فضل من غدا الى المسجد ومن راح ، رقم: 662 .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أدلكم على ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات؟ قالوا: بلى يا رسول الله! قال: إسباغ الوضوء على المكاره، وكثرة الخطا إلى المساجد، وانتظار الصلاة بعد الصلاة، فذلكم الرباط.
” کیا میں تمہیں ایسے اعمال نہ بتلاؤں جن کے کرنے سے اللہ گناہ مٹا دے اور درجے بلند فرما دے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا، ضرور، کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا: گرانی اور ناگواری کے باوجود کامل طریقے سے وضو کرنا، مسجدوں کی طرف زیادہ قدم چلنا (یعنی دور سے آنا) ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ (یہ اجر وثواب میں) سرحد پر مورچہ زن رہنے (کی طرح ہی) ہے۔
صحيح مسلم، کتاب الطهارة، باب فضل اسباغ الوضوء على المكاره، رقم: 251.
عن أبى المنذر أبى بن كعب رضى الله عنه قال: كان رجل، لا أعلم رجلا أبعد من المسجد منه، وكان لا تخطئه صلاة قال: فقيل له أو قلت له: لو اشتريت حمارا تركبه فى الظلماء وفي الرمضاء. فقال: ما يسرني أن منزلي إلى جنب المسجد، إني أريد أن يكتب لي ممشاي إلى المسجد، ورجوعي إذا رجعت إلى أهلي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : قد جمع الله لك ذلك كله.
سیدنا ابو منذر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک آدمی تھا، میں نہیں جانتا کہ کسی اور شخص کا گھر اس سے زیادہ دور ہو، اس سے کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی۔ اس سے کہا گیا یا میں نے اس سے کہا، اگر تو ایک گدھا خرید لے جس پر تو اندھیرے میں اور گرمی کی شدت میں سوار ہو کر آیا کرے۔ اس نے جواب دیا، مجھے یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ میرا گھر مسجد کے پہلو میں ہو، (اس لیے کہ) میں تو یہ چاہتا ہوں کہ (دور سے) میرا مسجد کی طرف چل کر جانا اور پھر وہاں سے میرا لوٹنا جب میں اپنے گھر والوں کی طرف لوٹوں، یہ سب کچھ میرے حساب میں لکھا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس کی یہ بات سن کر) فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے یہ سب تیرے لیے جمع فرما دیا ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب فضل كثرة الخطا الى المساجد، رقم: 662 .
عن أبى هريرة أن النبى صلى الله عليه وسلم قال: من تطهر فى بيته ثم مشى إلى بيت من بيوت الله، ليقضي فريضة من فرائض الله، كانت خطوتاه، إحداهما تحط خطيئة، والأخرى ترفع درجة.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنے گھر میں اچھی طرح طہارت حاصل کی (یعنی وضو یا غسل کیا ) پھر وہ اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر (مسجد) میں گیا تا کہ وہ اللہ کے فرائض میں سے کوئی فریضہ ادا کرے، تو اس کے قدم اس طرح (شمار) ہوں گے کہ ایک قدم گناہ کو مٹائے گا اور دوسرا قدم درجہ بلند کرے گا۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب المشى إلى الصلاة تمحى به الخطايا، رقم: 666.
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بشر المشائين فى الظلم إلى المساجد بالنور التام يوم القيامة.
”اندھیروں میں مساجد کی طرف بہت زیادہ چل کر جانے والوں کو روز قیامت مکمل نور کی بشارت دے دو۔“
سنن الترمذي، کتاب مواقيت الصلاة، باب ما جاء في فضل العشاء والفجر في جماعة، رقم: 223۔ البانی رحمہ اللہ نے اسے صحیح کہا ہے۔