پانچ وقت کی نماز ادا کرنے کے فضائل
ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بال بچوں کو وادی غیر ذی زرع میں چھوڑا تو ان کے لیے اقامت صلوٰۃ کی اللہ سے دعا فرمائی:
﴿رَّبَّنَا إِنِّي أَسْكَنتُ مِن ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِندَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلَاةَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُم مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ.﴾
”اے ہمارے رب! میں نے اپنی بعض اولاد کو تیرے بیت حرام کے پاس ایک وادی میں بسایا ہے جہاں کوئی کھیتی نہیں ہے، اے ہمارے رب! میں نے ایسا اس لیے کیا ہے تا کہ وہ نماز قائم کریں، اس لیے تو لوگوں کے دلوں کو ان کی طرف پھیر دے، اور بطور روزی انہیں انواع واقسام کے پھل عطا کر، تا کہ وہ تیرا شکر ادا کریں۔“
(14-إبراهيم:37)
مریم علیہا السلام نے اپنے بیٹے سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی طرف اشارہ کر کے لوگوں سے کہا کہ اس سے پوچھ لو، تو لوگوں نے کہا کہ ہم لوگ گود کے بچے سے کیسے بات کریں؟ عیسیٰ علیہ السلام ان کی بات سن کر بول پڑے۔ جب عیسیٰ علیہ السلام نے پہلی بار بات کی تو اپنے آپ کو اللہ کا بندہ بتایا، اور اس کا بیٹا ہونے کا انکار کیا، اور کلام جاری رکھتے ہوئے کہا: اور مجھے وصیت کی ہےکہ تا دم حیات نماز پڑھوں اور زکوٰۃ ادا کروں، اور اپنی ماں کا مطیع و فرمانبردار رہوں۔
چنانچہ ارشاد ہے:
﴿قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا . وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا.﴾
”بچے نے کہا (یعنی عیسیٰ علیہ السلام) نے بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے انجیل دی ہے، اور مجھے نبی بنایا ہے۔ اور جہاں بھی رہوں مجھے بابرکت بنایا ہے، اور جب تک زندہ رہوں، مجھے نماز اور زکاۃ کی وصیت کی ہے۔“
(19-مريم:30،31)
نماز باعث نصرت الہی ہے۔ چنانچہ ارشاد فرمایا:
﴿وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ . الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ.﴾
”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو، یہ بڑی چیز ہے مگر ڈر رکھنے والوں پر، جو جانتے ہیں کہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔“
(2-البقرة:45،46)
عن أبى هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: الصلوات الخمس، والجمعة إلى الجمعة، ورمضان إلى رمضان، مكفرات لما بينهن إذا اجتنب الكبائر.
”سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پانچوں نمازیں، جمعہ دوسرے جمعہ تک، رمضان دوسرے رمضان تک، درمیان کے تمام گناہوں کو مٹا دینے والا ہے، لیکن جب کبیرہ گناہوں سے بچ کر رہا جائے۔“
صحیح مسلم، کتاب الطهارة، باب الصلوات الخمس والجمعة إلى الجمعة ورمضان إلى رمضان مكفرات، رقم: 233.
عن أبى موسى الأشعري رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : من صلى البردين دخل الجنة.
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو دو ٹھنڈی نمازیں پڑھتا ہے وہ جنت میں جائے گا۔“
صحیح بخاري، کتاب مواقيت الصلوة، باب فضل صلاة الفجر، رقم: 574۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاتي الصبح والعصر والمحافظة عليهما، رقم: 635.
فائدہ: دو ٹھنڈی نمازوں سے مراد، نماز فجر اور نماز عصر ہے۔ قرآن وسنت میں ان دونوں نمازوں کی بڑی فضیلت اور اہمیت وارد ہوئی ہے۔
وعن جندب بن عبد الله رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : من صلى الصبح فهو فى ذمة الله، فلا يطلبنكم الله من ذمته بشيء، فإنه من يطلبه من ذمته بشيء فيدركه، فيكبه على وجهه فى نار جهنم.
سیدنا جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس نے صبح کی نماز پڑھی، وہ اللہ کی حفاظت اور عہد میں ہے، سو (تم اس بات کا خیال رکھو کہ) اللہ تعالیٰ تم سے اپنے عہد میں سے کسی چیز کا مطالبہ نہ کرے، اس لیے کہ جس سے بھی وہ اس کا مطالبہ (باز پرس) کرے گا، اسے پکڑ کر اوندھے منہ جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔“
صحیح مسلم، کتاب الصلاة، باب فضل صلاة العشاء والصبح في جماعة، رقم: 657.
آگیا عین لڑائی میں اگر وقت نماز!!!
قبلہ رو ہو کے زمیں بوس ہوئی قوم حجاز
عن جابر رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن بين الرجل وبين الشرك والكفر ترك الصلاة.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”آدمی اور کفر کے درمیان (حد فاصل) نماز کا چھوڑنا ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب إطلاق اسم الكفر على من ترك الصلاة، رقم: 82.
وعن عمارة بن رويبة رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لن يلج النار أحد صلى قبل طلوع الشمس وقبل غروبها يعني الفجر والعصر.
سیدنا ابو زہیر عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جو کوئی سورج نکلنے سے قبل اور اس کے غروب ہونے سے پہلے یعنی فجر اور عصر کی نماز پڑھتا ہے، وہ ہرگز جہنم کی آگ میں داخل نہیں ہوگا۔“
صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب فضل صلاتي الصبح والعصر والمحافظة عليهما، رقم: 634.
عن أبى هريرة رضى الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: أرأيتم لو أن نهرا بباب أحدكم يغتسل منه كل يوم خمس مرات، هل يبقي من درنه شيء؟ قالوا: لا يبقي من درنه شيئا. قال: فذلك مثل الصلوات الخمس، يمحو الله بهن الخطايا.
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بھلا بتلا ؤ، اگر تم میں سے کسی شخص کے دروازے پر نہر ہو جس سے وہ روزانہ پانچ مرتبہ نہاتا ہو، کیا اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہے گی؟“ صحابہ نے عرض کیا: اس کے جسم پر کوئی میل باقی نہیں رہے گی۔ آپ نے فرمایا: ”پس یہی پانچ نمازوں کی مثال ہے، اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
صحیح بخاري، کتاب مواقيت الصلاة، باب الصلوات الخمس كفارة، رقم: 528۔ صحیح مسلم، کتاب المساجد، باب المشى إلى الصلاة تمحى به الخطايا وترفع به الدرجات، رقم: 667.