بارش طلب کرنے، نمازِ استسقاء اور نمازِ کسوف کے احکام

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

باب الاستسقاء

بارش طلب کرنے کے متعلق احکامات

① سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں لوگ قحط سالی کا شکار ہو گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ جمعہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی کھڑا ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مال ہلاک ہو گئے، بال بچے بھوک کا شکار ہو گئے، ہمارے لیے دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک دراز فرمائے، اس وقت مطلع بالکل صاف تھا، آسمان پر بادل کا ٹکڑا تک نہیں تھا۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے! ہم نے ابھی ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ بادل پہاڑ کی طرح پھیل گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے منبر سے نیچے تشریف نہیں لائے تھے کہ میں نے دیکھا کہ بارش کے قطرے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی سے ٹپک رہے تھے۔ پس اس روز بارش ہوئی، اگلے روز بھی بارش ہوئی اور اس سے اگلے روز بارش ہوئی حتیٰ کہ آئندہ جمعے تک بارش ہوتی رہی۔ پس وہی اعرابی کھڑا ہوا یا اس کے علاوہ کسی اور نے عرض کی: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مکان گر گئے، مال غرق ہو گیا، پس ہمارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک دراز فرمائے اور دعا کی:
اللهم حوالينا ولا علينا
”اے اللہ! اس بارش کو کہیں اور لے جا، ہم پر نہ برسا۔“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بادلوں کی طرف اشارہ کیا، بادل چھٹ گئے اور مدینہ ڈھال کی طرح ہو گیا۔ وادیِ قنات ایک ماہ بہتی رہی اور ہر طرف سے شادابی و خوشحالی کی خبریں آنے لگیں۔
بخاری، کتاب الجمعه، حدیث 933۔ مسلم، الاستسقاء، حدیث 897/8۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ عسقلانی نے فرمایا اس حدیث میں اس اعرابی کے نام کا ذکر نہیں۔ پھر بتایا کہ وہ کعب بن مرہ تھے۔
دیکھئے فتح الباری 382/2.
اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ سائل مسلمان تھا۔
قحط سالی کی وجہ سے اناج نہیں ہوا جس پر زندگی کا دارومدار ہے۔
دیکھئے فتح الباری 583/2 ۔
ٹیلوں اور پہاڑوں کے درمیان کھلی جگہ جہاں بارش یا سیلاب کا پانی بہتا ہے۔

نماز استسقاء کے احکامات

① سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش طلب کرنے کے لیے باہر تشریف لے گئے، آپ قبلہ رخ ہوئے، دعا کی اور اپنی چادر کو پلٹا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ان میں اونچی آواز سے قراءت کی۔
بخاری، کتاب الجمعة 1024۔ مسلم، صلوة الاستسقاء 794۔

باب الكسوف

نماز کسوف کے احکامات

① سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله يخوف بهما عباده وإنهما لا ينكسفان لموت أحد من الناس فإذا رأيتم منها شيئا فصلوا وادعوا حتى يكشف ما بكم
”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، وہ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور انہیں کسی شخص کے مرنے سے گرہن نہیں لگتا، پس جب تم ان میں کوئی ایسی چیز دیکھو تو نماز پڑھو اور دعا کرو حتیٰ کہ وہ تاریکی جاتی رہے۔“
بخاری، کتاب الجمعة 1041۔ مسلم، الكسوف 911۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج گرہن ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی کرنے والے کو بھیجا، تو اس نے اعلان کیا: ”نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے صف بندی کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز پڑھی، اس میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔
بخارى، كتاب الجمعة 1066۔ مسلم، كتاب الكسوف 901/4۔