بیابان میں مسافر کو پانی نہ دینے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثلاثة لا يكلمهم الله يوم القيامة ولا ينظر إليهم ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم: رجل على فضل ماء بفلاة يمنعه عن ابن السبيل…
”تین قسم کے لوگوں سے روز قیامت اللہ کلام کرے گا نہ (نظر رحمت سے) ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ہی انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس کے پاس بیابان میں زائد (از ضرورت) پانی ہے لیکن وہ کسی مسافر کو نہیں دیتا۔“
ایک روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں:
يقول الله تعالى له: اليوم أمنعك فضلي كما منعت فضل ما لم تعمل يداك، ورجل بايع رجلا بسلعة بعد العصر، فحلف له بالله لأخذها بكذا وكذا فصدقه فأخذها وهو على غير ذلك، ورجل بايع إماما لا يبايعه إلا لدنيا، فإن أعطاه منها ما يريد وفى له، وإن لم يعطه لم يف له
”اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا: آج میں تمہیں اپنے فضل سے محروم کرتا ہوں، جس طرح تم نے اسے زائد پانی سے محروم کیا تھا حالانکہ تیرے ہاتھوں نے نہیں پیدا کیا تھا؛ اور ایک وہ آدمی جو عصر کے بعد کسی آدمی کو سودا بیچتا ہے اور اس کے سامنے قسم اٹھاتا ہے کہ اس نے اسے اتنی اتنی قیمت پر خریدا ہے، پس وہ شخص اسے سچا سمجھتے ہوئے وہ چیز اس سے خرید لیتا ہے حالانکہ وہ (بائع) ایسا نہیں ہوتا؛ اور ایک وہ آدمی جو صرف دنیا کی خاطر کسی امام کی بیعت کرتا ہے، اگر وہ اس کی چاہت کے مطابق اسے دے دیتا ہے تو وہ اس سے وفا کرتا ہے اور اگر وہ اسے نہیں دیتا تو پھر وہ اس سے وفا نہیں کرتا۔“
بخاری، کتاب الاحکام 7212، مسلم، کتاب الایمان 108/173۔
حد سے زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دوسرے آدمی کی تعریف کرتے ہوئے سنا جو اس کی حد سے زیادہ تعریف کر رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أهلكتم أو قطعتم ظهر الرجل
”تم نے ہلاک کر ڈالا یا تم نے آدمی کی پشت کاٹ ڈالی۔“
بخاری، کتاب الادب 6060، مسلم، كتاب الزهد والرقائق 3001/67۔
② ہمام بن حارث مقداد رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کرنے لگا تو مقداد اپنے گھٹنوں کے بل کھڑے ہوئے، آپ جسمانی طور پر بھاری آدمی تھے، اور اس کے چہرے پر کنکریاں پھینکنے لگے۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا رأيتم المداحين فاحثوا فى وجوههم التراب
”جب تم بہت زیادہ تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں پر مٹی ڈالو۔“
مسلم، كتاب الزهد والرقائق 3002/69، ابوداؤد، كتاب الادب 4804، ابن ماجه، كتاب الادب 3742، مسند احمد 6/6۔
وضاحت: یہ وہ تعریف کرنے والے ہیں جو لوگوں کی تعریف کرنے کو اپنی عادت اور معمول بنا لیتے ہیں، اور اسے سامان تجارت بنا لیتے ہیں اور اس کے ذریعے ممدوح کو کھاتے رہتے ہیں، جہاں تک کسی اچھے اور بہترین فعل پر امر محمود کی ترغیب دینے اور لوگوں کو اس کی اقتدا کرنے پر ابھارنے اور آمادہ کرنے کے لیے تعریف کرنا تو جائز ہے اور یہ نہ قابل مذمت ہے نہ ایسی تعریف کرنے والوں کے زمرے میں آتا ہے۔
③ سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں دوسرے آدمی کی تعریف کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ويلك قطعت عنق صاحبك، قطعت عنق صاحبك – مرارا –
”تیری خرابی ہو! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی، تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار یہی فرمایا)۔“
پھر فرمایا:
من كان منكم مادحا أخاه لا محالة فليقل: أحسب فلانا والله حسيبه، ولا أزكي على الله أحدا، أحسب كذا وكذا إن كان يعلم ذلك منه
”تم میں سے اگر کوئی شخص اپنے بھائی کی ضرور ہی تعریف کرنا چاہے تو وہ یوں کہے: میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں اور اس کا حساب لینے والا تو اللہ ہی ہے اور میں اللہ پر کسی کا تزکیہ نہیں کرتا، میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا ایسا ہے بشرطیکہ وہ اس کے متعلق جانتا ہو۔“
بخاری، کتاب الشهادات 2662، مسلم، كتاب الزهد والرقائق 3000/65۔
وضاحت: ”تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی“ یعنی تم نے حد سے زیادہ مدح سرائی کر کے اسے ہلاک کر ڈالا، تم نے اس کے سامنے اس کی حقیقت کو بڑھا دیا۔ اب وہ اپنے آپ پر فخر و غرور کرے گا اور اس طرح وہ ہلاک ہو جائے گا۔ پس تم نے جو اس کی مدح سرائی کی گویا کہ تم نے اس کی گردن کاٹ ڈالی۔
کسی کے کپڑے سے ہاتھ صاف کرنے کی ممانعت
① سیدنا سعید بن حسن بیان کرتے ہیں، سیدنا ابو بکرہ رضی اللہ عنہ کسی گواہی کے سلسلے میں ہمارے پاس تشریف لائے تو کوئی آدمی ان کے لیے اپنی جگہ سے کھڑا ہوا تو انہوں نے وہاں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے کہ آدمی ایسے کپڑے سے اپنا ہاتھ صاف کرے جو اس نے نہیں پہنایا (یعنی وہ اس کی ملکیت نہیں)۔
ابوداؤد، کتاب الادب 4827۔