اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنا
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں جو وہ اپنے رب تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں فرمایا:
إذا أذنب عبد ذنبا فقال : اللهم اغفر لي ذنبي . فقال تبارك وتعالى : أذنب عبدي ذنبا فعلم أن له ربا يغفر الذنوب ويأخذ بالذنب
”جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو کہتا ہے اے اللہ! میرا گناہ معاف کر دے، تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے: میرے بندے نے گناہ کیا اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ کی وجہ سے گرفت بھی کرتا ہے“۔
اور ایک روایت میں ہے:
اعمل ما شئت فقد غفرت لك
”جو چاہو عمل کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے“۔
بخاری، کتاب التوحيد 7507؛ مسلم، کتاب التوبة 2758۔
نیک لوگوں سے دعا کرانے کے متعلق احکامات
① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عمرہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دے دی اور فرمایا:
لا تنسانا يا أخي من دعائك
”پیارے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں نہ بھولنا“۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کلمہ فرمایا جو مجھے دنیا بھر کی چیزیں مل جانے سے بھی زیادہ محبوب ہے۔ اور ایک روایت میں ہے فرمایا:
أشركنا يا أخي فى دعائك
”پیارے بھائی! ہمیں اپنی دعاؤں میں شریک رکھنا“۔
ابو داؤد، کتاب الصلاة 1498؛ ترمذی، کتاب الدعوات 3562۔
یقین کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة ، واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه
”اللہ سے اس کیفیت سے دعا کرو کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو، جان لو کہ اللہ غافل اور لاپروا دل سے کی جانے والی دعا قبول نہیں فرماتا“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3479۔
② سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ منبر پر کھڑے ہو کر رونے لگے اور کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے سال منبر پر کھڑے ہو کر رونے لگے اور فرمایا:
سلوا الله العفو والعافية ، فإن أحدا لم يعط بعد اليقين خيرا من العافية
”اللہ سے گناہوں کی بخشش اور عافیت طلب کرو اس لیے کہ تم میں سے کسی کو یقین کے بعد عافیت سے بہتر کوئی چیز عطا نہیں کی گئی“۔
ترمذی، کتاب الدعوات 3558۔
پناہ لینے کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تعوذوا بالله من جهد البلاء ، ودرك الشقاء ، وسوء القضاء ، وشماتة الأعداء
”بلا کی مشقت سے، بدبختی کے ملنے سے، برے فیصلے سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے اللہ کی پناہ طلب کرو“۔
بخاری، کتاب القدر، حدیث 6616؛ مسلم، کتاب الذکر والدعاء، حدیث 2707/53۔
اس میں اشارہ ہے کہ علم و قدرت صرف اکیلے اللہ تعالٰی کے لئے ہے۔ بندے کو اس میں کوئی اختیار نہیں ۔ اسے دہی کچھ ملتا ہے جو اللہ تعالٰی اس کے لئے مقدر کر دے۔ گویا کہ وہ یہ کہتا ہے کہ اے میرے رب! تو قادر ہے اس سے پہلے کہ تو قدرت میں تخلیق کرے۔ اور تو اسے مجھے عطا کرنے سے پہلے بھی قادر تھا اور بعد میں بھی قادر ہے۔ (دیکھئے فتح الباری 11/ 190)
اس حدیث میں درج ذیل فوائد ہیں:
① بندہ کوئی کام کرنے کے باوجود قادر نہیں ہو سکتا۔
② بندے کے متعلق کسی چیز کے ہونے، اس کے متعلق اس کے ارادہ کرنے اور اس پر اس کی قدرت ہونے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو سب علم ہے۔ اس لیے بندے پر واجب ہے کہ وہ تمام امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائے اور گناہوں سے بچنے اور نیکی کرنے کی توفیق کو اسی کی طرف منسوب کرے، اور اپنے تمام امور میں اپنے رب تعالیٰ سے سوال کرے۔
ابن بطال نے کہا: بلا کی مشقت سے مراد انسان کو پہنچنے والی ہر قسم کی شدید مشقت ہے جسے نہ وہ اٹھانے کی طاقت رکھتا ہو اور نہ ہٹانے کی قدرت۔
بعض نے کہا: ایسی مشقت جس پر وہ مرنے کو ترجیح دیتا ہو۔
(دیکھئے فتح الباری: 153/11)
ابن بطال نے کہا: بدبختی کے ملنے سے دنیا و آخرت کے امور کی بدبختی مراد ہے۔
(دیکھئے فتح الباری: 153/11)
ابن بطال نے کہا: یہاں قضا سے مراد مقضی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم مکمل طور پر حسن ہے، اس میں کوئی برائی نہیں۔ ان کے علاوہ کسی نے کہا ہے: قضا سے مراد اجمالی طور پر ازل میں کلیات کے بارے میں حکم ہے، اور قدر سے مراد جزئیات کے وقوع کے متعلق حکم ہے جو ان کلیات کے متعلق تفصیلی طور پر ہے۔
(دیکھئے فتح الباری: 153/11)
ابن بطال نے کہا: دشمنوں کے خوش ہونے سے مراد ایسی خوشی ہے جو دل کو شکستہ کر دے اور نفس کو متاثر کرے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دعا سے تعوذ حاصل کر کے امت کو تعلیم دی ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان تمام چیزوں سے محفوظ رکھا تھا۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ نے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔
ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا: اس کا تعین نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اس بات کا احتمال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب سے اپنی امت کے اس میں مبتلا ہو جانے کی وجہ سے پناہ طلب کی ہو، اور راوی مستورد کی صیغہ امر کے ساتھ روایت اس کی تائید کرتی ہے۔
(دیکھئے فتح الباری: 153/11)
② سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من العجز والكسل والجبن والهرم ، وأعوذ بك من عذاب القبر ، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات
”اے اللہ! میں ناتوانی، سستی، بزدلی اور بڑھاپے سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اور میں عذاب قبر اور حیات و ممات کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔
بخاری، کتاب الدعوات، حدیث 6367؛ مسلم، کتاب الذکر والدعاء، حدیث 2706/50۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من الجوع فإنه بئس الضجيع ، وأعوذ بك من الخيانة فإنها بئست البطانة
”اے اللہ! میں بھوک سے تیری پناہ چاہتا ہوں، اس لیے کہ وہ برا ساتھی ہے، اور میں خیانت سے تیری پناہ چاہتا ہوں اس لیے کہ یہ برا ہم نشین ہے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلاة، حدیث 1547؛ النسائي، کتاب الاستعاذة، حدیث 231/8، باب الاستعاذة من الجوع۔
④ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللهم إني أعوذ بك من الفقر والقلة والذلة ، وأعوذ بك من أن أظلم أو أظلم
”اے اللہ! میں فقر، قلت اور ذلت سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں ظلم کروں یا مجھ پر ظلم کیا جائے“۔
ابو داؤد، کتاب الصلاة، حدیث 1544؛ النسائي، کتاب الاستعاذة، باب الاستعاذة من الذلة اس کی سند صحیح ہے۔
⑤ اور انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من عذاب القبر ومن عذاب النار ومن فتنة المحيا والممات ومن فتنة المسيح الدجال
”اے اللہ! میں عذابِ قبر، عذابِ جہنم، حیات و ممات کے فتنے اور مسیح دجال کے فتنے سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔
بخاری، کتاب الجنائز، حدیث 1377، مسلم، کتاب المساجد، حدیث 588/131۔
⑥ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من الجنون والجذام والبرص ومن سيئ الأسقام
”اے اللہ! میں کوڑھ سے، برص کی بیماری سے، جنون سے اور تمام برے امراض سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔
ابوداؤد، کتاب الصلوة، حدیث 1554۔ النسائی، کتاب الاستعاذه، باب الاستعاذة من الجنون 5495۔
⑦ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك وتحول عافيتك وفجأة نقمتك وجميع سخطك
”اے اللہ! میں آپ کی دی ہوئی نعمت کے زائل ہونے، آپ کی دی ہوئی عافیت کے بدل جانے، آپ کے ناگہانی عتاب اور آپ کی ہر طرح کی ناراضگی سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں“۔
مسلم، کتاب الذکر والدعاء، حدیث 2739/96۔
⑧ اور انہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے:
اللهم إني أعوذ بك من قلب لا يخشع ومن دعاء لا يسمع ومن نفس لا تشبع وعلم لا ينفع، أعوذ بك من هؤلاء الأربع
”اے اللہ! میں ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو، ایسی دعا سے جو سنی نہ جاتی ہو، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہوتا ہو اور ایسے علم سے جو نفع نہ دیتا ہو، تیری پناہ چاہتا ہوں؛ میں ان چاروں چیزوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں“۔
الترمذی، کتاب الدعوات، حدیث 3482، اس کی سند حسن ہے، اس کی سند میں زہیر بن اقمر ابو کثیر التربیدی ہے جو کہ مقبول ہے، دیکھئے التقریب 8320، النسائی، باب الاستعاذة من قلب لا یخشع، اس کی سند صحیح ہے۔