کیا امیر المؤمنین معاویہ رضی اللہ عنہ ناحق قتل کرنے اور لوگوں کا مال لوٹنے کا حکم دیتے تھے؟
مرزا صاحب کے اشکالات میں سے ایک بڑا اشکال یہ ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت ظالمانہ اور کاٹ کھانے والی ملوکیت تھی، اس کے لیے آپ جو دلائل پیش کرتے ہیں ان میں سے کچھ تو صحیح سند سے ثابت ہی نہیں، اور کچھ ایسے ہیں کہ جن میں مرزا صاحب کے مدعے کے مطابق کوئی صراحت موجود ہی نہیں ہوتی بلکہ آپ اپنی طرف سے ضربیں تقسیمیں لگا کر ان میں رنگ بھرتے ہیں، اور بعض دلائل ایسے ہیں جو خود دلیل کے محتاج ہیں۔ اور زیرِ بحث روایت بھی اسی تیسری قسم میں سے ایک ہے کہ عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ رحمہ اللہ سیدنا جناب عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں:
هَذَا ابْنُ عَمِّكَ مُعَاوِيَةُ يَأْمُرُنَا أَنْ نَأْكُلَ أَمْوَالَنَا بَيْنَنَا بِالْبَاطِلِ وَنَقْتُلَ أَنْفُسَنَا وَاللهُ يَقُولُ: أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا– قَالَ فَسَكَتَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: أَطِعْهُ فِي طَاعَةِ اللهِ وَاعْصِهِ فِي مَعْصِيَةِ اللهِ-
یہ آپ کے چچا زاد بھائی معاویہ رضی اللہ عنہ ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم ناحق ایک دوسرے کا مال کھائیں اور ایک دوسرے کو قتل کریں، جبکہ اللہ فرماتا ہے: ”اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مت کھاؤ، الا یہ کہ باہمی رضامندی سے تجارت ہو اور نا ہی ایک دوسرے کو قتل کرو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر ہمیشہ سے ہی رحم کرنے والا ہے“۔ پھر وہ (عبداللہ بن عمرو بن عاص) تھوڑی دیر خاموش رہے، اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں ان کی اطاعت کرو اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی (کے معاملے) میں ان کی نافرمانی کرو۔“ (صحیح مسلم:4776)
Masalah 101-[1:06:00]
Research paper 5b ,page :14
ان کی یہ بات بلا دلیل ہے یعنی انہوں نے ایسا کوئی واقعہ بیان ہی نہیں کیا کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ نے کسے ناحق قتل کروایا یا کسی کا ناحق مال چھینا، کہ جس سے فیصلہ کیا جا سکے کہ وہ جسے ناحق کہہ رہے ہیں وہ ناحق ہے بھی یا انہیں فہم میں غلطی لگی ہے، اور یہاں دوسری بات ہی درست ہے کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے ورنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور کا کوئی ایسا واقعہ پیش نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو۔ اور سب سے بڑی اور اہم بات یہ ہے کہ ان کی یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اقوال اور کبار تابعین کی شہادتوں کے بالکل خلاف ہے جو کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے حق میں صحیح اسانید کے ساتھ موجود ہیں۔ لہٰذا صرف ایک شخص کے قول ہی پر اعتماد کر کے باقی سب سے آنکھیں چرا لینا کوئی انصاف نہیں، نا ہی یہ کسی علمی کتابی کا طرزِ عمل ہے، تفصیلات اور دلائل پیش کرنے سے پہلے اس حوالے سے مرزا صاحب کا اندازِ تحقیق اور ان کا منصفانہ طرزِ عمل بھی ملاحظہ فرما لیں تا کہ ہمارا مدعا سمجھنے میں آسانی ہو سکے، تو انجینئر صاحب اپنی ایک ویڈیو میں بیان کرتے ہیں:
”اور ضروری بھی نہیں ہوتا کسی کی جرح آپ مان بھی لیں مثلاً امام مالک نے کہا کہ محمد بن اسحاق جو ہے دجال ہے، ہم محمد بن اسحاق کو اپنا امام مانتے ہیں امام مالک کی بات کو ردی کی ٹوکری میں پھینکتے ہیں، کیوں کہ 50 محدثین نے اس کی توثیق کی ہے، امام مالک جو ہے ان کو غلطی لگ گئی ہے، ٹھیک ہے۔ اب اتنا بڑا امام ہے وہ دجال ایک راوی کو کہہ رہا ہے اور محدث اس سے حدیثیں لے رہے ہیں۔ تو اگر امام مالک کو غلطی لگ سکتی ہے کہ جسے وہ دجال کہہ رہے ہیں ہمارا وہ امام ہے، تو باقی تو شے ای کوئی نئی۔“
Mufti Munir Chishti se ilmi Debaute- 28:50
تو دجال قرار دیا جانا بڑی جرح ہے یا ظلم؟ مرزا صاحب! امام مالک رحمہ اللہ نے تو محمد بن اسحاق رحمہ اللہ کو دجال کے ساتھ ساتھ کذاب (بہت بڑا جھوٹا) بھی کہہ رکھا ہے، اور یہی قول امام ہشام بن عروہ رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے، جن کا شمار بھی تابعین میں ہوتا ہے! لیکن کس بنا پر؟ جب ہم اس تفصیل کو پڑھیں تو ثابت ہوتا ہے کہ ان ائمہ کو اس سلسلے میں غلط فہمی ہوئی ہے۔ لیکن یہاں اس بحث کا محل نہیں، تفصیلات کے لیے دیکھیے استاد محترم مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کی کتاب: (توضیح الکلام: ص223 تا 226)
مرزا صاحب کے اصول صرف اور صرف بیان کرنے کی حد تک ہیں، وہ کہتے ہیں نا ”ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور“۔ اب یہاں اصول پسندی اور انصاف کا ایسا بھوت سوار تھا کہ امام مالک رحمہ اللہ جیسی عظیم ہستی کی بات کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا، حالانکہ یہی بات تمیز کے دائرے میں رہ کر بھی ہو سکتی تھی۔ بہرحال جب ایک راوی کے متعلق آپ اس قدر منصف اور اصول پسند ہیں تو ایک صحابی رسول کے لیے کیوں نہیں؟ کہ صحابہ کرام اور دیگر تابعین کی آراء پر بھی نظر دوڑائی جائے تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ کو غلطی لگی ہے یا کوئی اور معاملہ ہے۔
آپ محمد بن اسحاق کے متعلق محدثین کی توثیق پیش کر رہے ہیں جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور آپ کی حکومت کی توثیق تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما رکھی ہے:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: أَوَّلُ هَذَا الْأَمْرِ نُبُوَّةٌ وَرَحْمَةٌ، ثُمَّ يَكُونُ خِلَافَةً وَرَحْمَةً، ثُمَّ يَكُونُ مُلْكًا وَرَحْمَةً……
”حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس امت کا پہلا حصہ نبوت اور رحمت ہے، پھر خلافت اور رحمت ہوگی اس کے بعد رحمت والی بادشاہت ہوگی…………۔““ (المعجم الکبیر:88/11)
اس کی سند حسن ہے، نیز اسے علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح (الصحیحۃ:3270) اور علامہ غلام مصطفیٰ امن پوری حفظہ اللہ نے حسن قرار دیا ہے۔ (دفاع صحابہ:504)
مرزا صاحب خود ہی خلافت اور ملوکیت کی تقسیم اور ان کی مدت کا درس دیتے رہتے ہیں کہ خلافت راشدہ تیس سال ہے اور وہ حضرت ابوبکر، عمر، عثمان، علی اور جناب حسن رضی اللہ عنہم کا مبارک دور ہے، اس کے بعد بادشاہت ہے، اور یہ سیدنا جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کا دورِ مبارک ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بادشاہت کو کونسی بادشاہت قرار دے رہے ہیں؟ اب جس دورِ حکومت کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ”رحمت“ کا دور کہیں، اس میں لوگوں کے ناحق قتل ہوں گے؟ اور ناحق مال لوٹے جائیں گے؟ اس واضح حدیث کے بعد جناب عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ کے بیان کی تاویل کی جائے گی یا حدیث مبارکہ کی؟ تو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت اس کے خلاف ہے اور پھر بات بھی کسی عام شخص پر نہیں بلکہ ایک صحابی رسول پر کی جا رہی ہے، اور مدعا بھی بغیر کسی دلیل اور ثبوت کے ہے تو اس سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں ہوگا، بلکہ ہم کہیں گے کہ انہیں فہم کی غلطی لگی ہے۔ نا جانے انہوں نے کس قتل کو قتل ناحق سمجھ لیا ہے جبکہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کا کوئی واقعہ بھی پیش نہیں کیا جا سکتا کہ کسی کا قتل ناحق کیا گیا یا اس کا ناحق طریقہ سے مال چھینا گیا ہو۔ صحیح مسلم کی اس (زیرِ بحث) روایت کے متعلق امام ابو العباس القرطبی رحمہ اللہ نے فرمایا:
وما ذكره عبد الرحمن عن معاوية إغياءٌ في الكلام على حسب ظنه وتأويله، وإلا فمعاوية لم يعرف من حاله ولا من سيرته شيء مما قاله له-
”اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق جو جناب عبدالرحمن نے بیان کیا وہ تو صرف ان کے گمان اور تاویل کی حد تک ہے، ورنہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کی سیرت سے ایسا کچھ بھی ثابت نہیں جو انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کہا۔“ (المفہم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم:53/4)
اور ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
……وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ۔
”اور میرے صحابہ میری امت کے لیے باعثِ امن ہیں، پس جب میرے صحابہ رخصت ہو جائیں گے تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔“ (صحیح مسلم:2531)
تو جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی صحابی ہیں، اور حدیث پاک کے مطابق تمام صحابہ امت کے لیے امن کا باعث ہیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی صحابی کو مستثنیٰ نہیں کیا۔ لہٰذا اول الذکر حدیث اور اس حدیث سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ سے بعید ہے کہ وہ ناحق قتل کرنے یا لوگوں کے مال لوٹنے کا حکم دیں، اور یہ کہ عبدالرحمن رحمہ اللہ کا قول مبنی بر خطا ہے، کیونکہ یہ احادیث کے خلاف ہے۔
اس بات کو مزید تقویت صحابہ کرام اور کبار تابعین کے اقوال سے بھی ملتی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
مَا رَأَيْتُ رَجُلًا كَانَ أَخْلَقَ لِلْمُلْكِ مِنْ مُعَاوِيَةَ……
”میں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے زیادہ کسی کو حکومت کا حقدار نہیں پایا۔“ (الامالی فی آثار الصحابۃ لعبد الرزاق:97، السنۃ للخلال:677)
شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا (فضائل صحابہ:129)، اور مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے بھی صحیح کہا ہے۔ (دفاع صحابہ:503)
یہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے شرعی احکامات کے عین مطابق ہونے پر ایک واضح دلیل ہے، کیوں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک تو صرف حکومت کا زیادہ حقدار ایسا شخص ہی ہو سکتا ہے جو نیک، شریعت کا پابند اور نہایت عادل ہو۔ تو جناب عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے اس بیان کے بعد کیسے ممکن ہے کہ ایسی حکومت میں لوگوں کے ناحق قتل کیے جائیں اور مال ہتھیائے جائیں؟ سیدنا ابن عباس کی توثیق تو اس بات کی نفی کرتی ہے!
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
ما رأيت أحدا بعد عثمان أقضى بحق من صاحب هذا الباب يعني معاوية۔
”میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بعد اس دروازے والے یعنی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر حق کے مطابق فیصلہ کرنے والا کسی کو نہیں دیکھا۔“ (تاریخ دمشق لابن عساکر:161/59)
شیخ غلام مصطفیٰ امن پوری حفظہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا (دفاع صحابہ:504)
اس کے ایک راوی بکر بن سہل ہیں جو کہ امام ابو القاسم الطبرانی رحمہ اللہ کے استاد ہیں۔ امام ذہبی رحمہ اللہ نے انہیں متوسط راوی قرار دیا (المغنی: 978)، اور انہیں ”الامام، المحدث“ جیسے القابات سے یاد کیا۔ (سیر اعلام النبلاء:425/13)
امام ابو عبداللہ محمد بن اسحاق (ابن مندہ) بکر بن سہل کے طریق سے مروی ایک روایت کے متعلق فرماتے ہیں: هذا إسناد صحيح عند الجماعة ولم يخرجه مسلم ولا علة له۔
”یہ سند محدثین کی جماعت کے نزدیک صحیح ہے، امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کی تخریج نہیں کی اور اس میں کوئی علت نہیں ہے۔“ (الایمان لابن مندہ:538/1)
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ ایک روایت کے بارے لکھتے ہیں: ”رواته ثقات“ (موافقۃ الخبر: 315/1)، اور ایک سند کے متعلق فرماتے ہیں: ”إسناده صحيح إلى الزهري“ (اتحاف المہرۃ:411/4)۔ اور ان میں بکر بن سہل راوی موجود ہے۔
علامہ ابو الخیر ابن الجزری رحمہ اللہ بکر کے متعلق فرماتے ہیں: ”امام مشہور“۔ (غایۃ النہایۃ:178/1)
امام نور الدین ہیثمی رحمہ اللہ نے طبرانی کی ایک روایت جو کہ بکر بن سہل کے طریق سے مروی ہے کے متعلق فرمایا: ”رجالہ ثقات“ (مجمع الزوائد: 3916، المعجم الکبیر للطبرانی:254/12) طبرانی کی ایک دوسری روایت کے متعلق بھی یہی فرمایا کہ اس کے راوی ثقہ ہیں، اور اس میں بھی امام طبرانی کے استاد بکر بن سہل ہیں (مجمع الزوائد:8616، المعجم الکبیر للطبرانی:438/19)
امام حاکم رحمہ اللہ اور امام ضیاء الدین المقدسی رحمہ اللہ نے ان کی روایت کو صحیح قرار دیا۔ (مستدرک للحاکم:8785،8776،7279،2237،1637،1471، الاحادیث المختارۃ:147/8،304/5)
امام عبدالعظیم المنذری رحمہ اللہ نے بکر بن سہل کی حدیث کے متعلق فرمایا: ”لا بأس به“ (الترغیب والترہیب:1465، المعجم الاوسط للطبرانی:3249)۔
شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ بھی اسے حسن الحدیث اور ثقہ عند الجمہور بتاتے ہیں: (فضائل درود وسلام:22)
بکر بن سہل کے بارے میں مسلمہ بن قاسم کی جرح مردود ہے، وہ خود ایک مجروح شخصیت ہے۔ (میزان الاعتدال:112/1، لسان المیزان:35/6)
اور امام نسائی رحمہ اللہ کی جرح اگر ”بسند صحیح“ ثابت بھی ہو جائے تو جرح غیر مفسر ہونے کی وجہ سے نا قابل قبول ہے، اور پھر دوسری طرف جمہور اس راوی کی توثیق بھی کر رہے ہیں لہٰذا یہ راوی حسن الحدیث ہے!
اب بتلائیے ایک جلیل القدر صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق جو سب سے زیادہ حق کے مطابق فیصلہ کرنے والے ہوں کیا ایسے شخص کے متعلق خیال بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ لوگوں کے ناحق قتل کرنے اور مال لوٹنے کا حکم دیتا ہوگا؟ ہرگز نہیں! پھر ہمارے حق گو صاحب صحابہ کے یہ اقوال کیوں کبھی بیان نہیں کرتے؟
جناب عروہ بن زبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ:
أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدِمَ وَافِدًا عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ دَعَاهُ فَأَخْلَاهُ، فَقَالَ: يَا مِسْوَرُ، مَا فَعَلَ طَعْنُكَ عَلَى الْأَئِمَّةِ؟ فَقَالَ الْمِسْوَرُ: دَعْنَا مِنْ هَذَا وَأَحْسِنْ فِيمَا قَدِمْنَا لَهُ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا، وَاللهِ لَتُكَلِّمَنَّ بِذَاتِ نَفْسِكَ، وَالَّذِي تَعِيبُ عَلَيَّ۔
قَالَ الْمِسْوَرُ: فَلَمْ أَتْرُكْ شَيْئًا أَعِيبُهُ عَلَيْهِ إِلَّا بَيَّنْتُهُ لَهُ. قَالَ مُعَاوِيَةُ: لَا بَرِيءَ مِنَ الذَّنْبِ. فَهَلْ تَعُدُّ يَا مِسْوَرُ مَا لِي مِنَ الْإِصْلَاحِ فِي أَمْرِ الْعَامَّةِ، فَإِنَّ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا؟ أَمْ تَعُدُّ الذُّنُوبَ وَتَتْرُكُ الْحَسَنَاتِ؟ قَالَ الْمِسْوَرُ: لَا، وَاللهِ مَا نَذْكُرُ إِلَّا مَا تَرَى مِنْ هَذِهِ الذُّنُوبِ۔
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَإِنَّا نَعْتَرِفُ لِلهِ بِكُلِّ ذَنْبٍ أَذْنَبْنَاهُ، فَهَلْ لَكَ يَا مِسْوَرُ ذُنُوبٌ فِي خَاصَّتِكَ تَخْشَى أَنْ تُهْلِكَكَ إِنْ لَمْ يَغْفِرْهَا اللهُ؟ قَالَ مِسْوَرٌ: نَعَمْ۔
قَالَ مُعَاوِيَةُ: فَمَا يَجْعَلُكَ أَحَقَّ أَنْ تَرْجُو الْمَغْفِرَةَ مِنِّي؟ فَوَاللهِ لَمَا أَلِي مِنَ الْإِصْلَاحِ أَكْثَرُ مِمَّا تَلِي، وَلَكِنْ وَاللهِ لَا أُخَيَّرُ بَيْنَ أَمْرَيْنِ، بَيْنَ اللهِ وَبَيْنَ غَيْرِهِ إِلَّا اخْتَرْتُ اللهَ تَعَالَى عَلَى مَا سِوَاهُ، وَإِنَّا عَلَى دِينٍ يَقْبَلُ اللهُ فِيهِ الْعَمَلَ، وَيُجْزِي فِيهِ بِالْحَسَنَاتِ، وَيُجْزِي فِيهِ بِالذُّنُوبِ، إِلَّا أَنْ يَعْفُوَ عَمَّنْ يَشَاءُ، فَأَنَا أَحْتَسِبُ كُلَّ حَسَنَةٍ عَمِلْتُهَا بِأَضْعَافِهَا، وَأُوَازِي أُمُورًا عِظَامًا لَا أُحْصِيهَا وَلَا تُحْصِيهَا مِنْ عَمَلٍ لِلهِ فِي إِقَامَةِ صَلَوَاتِ الْمُسْلِمِينَ، وَالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالْحُكْمِ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى، وَالْأُمُورِ الَّتِي لَسْتَ تُحْصِيهَا وَإِنْ عَدَدْتُهَا لَكَ فَتَفَكَّرْ فِي ذَلِكَ۔
قَالَ الْمِسْوَرُ: فَعَرَفْتُ أَنَّ مُعَاوِيَةَ قَدْ خَصَمَنِي حِينَ ذَكَرَ لِي مَا ذَكَرَ. قَالَ عُرْوَةُ: فَلَمْ يَسْمَعِ الْمِسْوَرُ بَعْدَ ذَلِكَ يَذْكُرُ مُعَاوِيَةَ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ۔
”سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ وہ ایک وفد کی صورت میں جناب معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے میری ضرورت پوری کر دی، پھر مجھے علیحدگی میں بلا کر کہنے لگے: مسور! حکمرانوں پر طعن کرنے کے متعلق کیا بنا؟ انہوں نے جواب دیا: اس بات کو چھوڑیں، اور ہمارے موجودہ طرز عمل کی بنا پر ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اللہ کی قسم، آپ کو ان معاملات پر بولنا ہوگا کہ جس کی بنیاد پر آپ مجھ پر عیب لگاتے ہیں، جناب مسور رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ان کے اصرار پر میں نے وہ تمام عیوب ان کے سامنے گنوا دیے جو میں ان پر لگایا کرتا تھا۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گناہ سے تو کوئی بھی بری نہیں ہے مگر کیا آپ میرے وہ اصلاحی اقدامات بھی گنوا سکتے ہیں جو میں نے عوام الناس کے لیے سر انجام دیے ہیں؟ اس لیے کہ نیکی کا اجر دس گنا ملتا ہے، یا پھر آپ میرے گناہ ہی گنتے رہیں گے؟ اور نیکیوں کو چھوڑ دیں گے؟ حضرت مسور رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ہم انہی گناہوں کا ذکر کرتے ہیں جنہیں آپ بھی جانتے ہی ہیں۔ اس پر معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم اللہ کے سامنے اپنے ہر گناہ کا اعتراف کرتے ہیں مگر کیا آپ سے ایسے گناہ سرزد نہیں ہوئے کہ اگر اللہ نے وہ گناہ معاف نہ کیے تو وہ آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے؟ حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں! تو معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو آپ کس بنیاد پر خود کو مجھ سے زیادہ مغفرت کا امیدوار سمجھتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں آپ سے بڑھ کر اصلاح کی کوشش میں رہتا ہوں، اللہ کی قسم! میں اللہ اور غیر اللہ کے درمیان صرف اللہ تعالیٰ کو ہی چنتا ہوں، اور میں اس دین پر ہوں جس میں اللہ تعالیٰ عمل کو قبول کرتا ہے، نیکی کا بدلہ دیتا ہے اور گناہوں کی سزا دیتا ہے مگر جسے چاہے اسے معاف بھی فرما دیتا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ ہر نیکی کا بدلہ کئی گنا دے گا، اور میں ایسے بڑے بڑے امور سر انجام دے رہا ہوں جنہیں نہ تو آپ شمار کر سکتے ہیں اور نہ ہی میں، میں نے اقامت صلاۃ کا نظام، جہاد فی سبیل اللہ، اور اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کا نفاذ کر رکھا ہے، اور علاوہ ازیں متعدد امور ہیں کہ جن کا آپ شمار بھی نہیں کر سکتے، تو آپ اس بارے میں غور و فکر کریں۔
تو جناب مسور رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے معلوم ہو گیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ نے جن باتوں کا ذکر کیا ہے تو اس کے ذریعے وہ مجھ پر غالب ہو گئے ہیں۔ (اس کے راوی) عروہ بن زبیر فرماتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت مسور رضی اللہ عنہ نے جب بھی جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو یاد کیا تو ان کے لیے سلامتی کی دعا ہی فرمائی۔“ (تاریخ بغداد:577،576/1)
محدث العصر شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا (فضائل صحابہ: 128)، مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر حفظہ اللہ نے بھی صحیح کہا (دفاع صحابہ:523)۔
غور کیجیے صحابی رسول سیدنا مسور رضی اللہ عنہ کے اعتراضات کی نوعیت کیا تھی؟ کہ ایسی خامیاں جو بشری تقاضوں کی بنا پر کسی بھی انسان میں پائی جاتی ہیں اور کوئی بھی ان سے پاک نہیں۔ تو اگر کوئی ایسی بات ہوتی جو عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ بیان کر رہے ہیں تو جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس بیان پر حضرت مسور رضی اللہ عنہ کو ضرور بالضرور یہ اعتراض کرنا چاہیے تھا کہ: جناب! لوگوں کا ناحق مال لوٹنا اور ناحق قتل کرنا کونسے بشری تقاضوں پر مبنی ہے، کیا یہ ایسی غلطیاں ہیں جو کسی انسان سے یوں ہی بتقاضائے بشریت صادر ہو جاتی ہیں؟ اور پھر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس بیان، کہ: ”میں اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکامات کو نافذ کرنے میں کوشاں ہوں“ پر جناب مسور رضی اللہ عنہ کے سکوت کا کیا مطلب ہے؟ اگر ان کی سیرت اور حکومت میں ایسی کوئی بھی چیز پائی جاتی جو آپ اچھال رہے ہیں تو اس پر انہیں یہ کہنا چاہیے تھا یا نہیں کہ اللہ تو لوگوں کے ناحق قتل اور مال لوٹنے کو حرام قرار دیتا ہے تو آپ کون سے احکام نافذ فرما رہے ہیں؟ لیکن حضرت مسور رضی اللہ عنہ کا ایسا کوئی بھی اعتراض نا کرنے کی بجائے سکوت اختیار کرنا اور ہمیشہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کو دعاؤں میں یاد رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت میں بھی ایسا کوئی واقعہ رونما ہوا ہی نہیں، بلکہ یہ عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ کو کسی معاملے کے سمجھنے میں ہی غلطی لگی ہے۔
اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا باہمی اصلاح اور شرعی احکامات نافذ کرنے کا دعویٰ بھی اس بات کی نفی کرتا ہے، بھلا جو ممکنہ حد تک اصلاح کی کوشش کرتا ہو اور شریعت کے مطابق حکومت چلانے کی بھرپور کوشش کرتا ہو تو کیا ایسا شخص قتل ناحق اور مال غصب کرنے کا حکم دے گا؟ اور دونوں میں سے کونسی بات معتبر ہوگی جو خبر خود کوئی اپنے متعلق دے یا وہ جو کوئی دوسرا شخص اس کے متعلق دے؟
اس روایت سے مرزا صاحب کے ایک بہت بڑے دھوکے اور جھوٹ کی حقیقت بھی واضح ہوتی ہے کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت جبریہ اور ظالمانہ تھی، اور کلمہ حق کہنے والے یا آپ پر اعتراض کرنے والوں کے ساتھ بہت برا سلوک ہوتا اور تلوار کے زور پر ان کی آواز کو دبا دیا جاتا۔ جبکہ یہاں تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا مزاج اور رویہ آپ کے سامنے ہے کہ وہ تو اپنی اصلاح کے لیے اپنے عیوب جاننے کی کوشش کرتے اور کسی مخالفت کرنے والے کے ساتھ کوئی برا سلوک نا کرتے بلکہ وہ تو ایسے لوگوں کو بھی بھرپور نوازتے تھے اور محروم کرنے کی بجائے انہیں عطا کرتے۔
اب اس بات کا فیصلہ معترضین ہی فرمائیں کہ عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ رحمہ اللہ کو غلطی لگی ہے یا صحابہ کرام کو؟ اور یہاں کس کی گواہی معتبر مانی جائے گی؟
چلیں اس سوال کا جواب بھی انجینئر صاحب سے ہی پوچھ لیتے ہیں۔ آپ یزید کے کردار پر بات کرتے ہوئے اکثر محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ سے منقول یہ قول کہ انہوں نے یزید کو سنت کا بڑا پابند قرار دیا ہے کے بارے میں کہتے ہیں کہ: ”یہ روایت بھی آدھی پیش کرتے ہیں، اس مکمل روایت میں تو یہ ہے کہ عبداللہ بن مطیع صحابی رسول بیان کرتے ہیں کہ یزید کے یہ یہ فالٹ ہیں! شرابی، کبابی اور بے نمازی وغیرہ وغیرہ۔“ پھر مرزا صاحب فرماتے ہیں: ”عبداللہ بن مطیع جو ہیں وہ ہیں صحابی اور محمد بن حنفیہ ہیں تابعی، تو جب صحابی اور تابعی کا ٹکراؤ ہو تو کس کی بات مانی جاتی ہے؟ اہل سنت کا تو یہ متفقہ اصول ہے! (کہ تابعی کے مقابلے صحابی کی بات معتبر ہوگی)۔“
157 b Mas’alah Part 2 – 30:00
مگر ہمیشہ کی طرح یہاں بھی مرزا صاحب اپنی اصول شکنی اور دوغلی پالیسی پر قائم ہیں، کیونکہ جو بات ایک تابعی (اپنی غلط فہمی) کی بنیاد پر کر رہا ہے صحابہ کے اقوال تو اس کی نفی کرتے ہیں، تو اصولاً مرزا صاحب کو صحابہ کی بات نشر کرنی چاہیے اور اسی کو معتبر قرار دینا چاہیے مگر یہاں معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔
تنبیہ: حدیث سفینہ رضی اللہ عنہ میں موجود حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ کے ایک تبصرے کی بنیاد پر انجینئر صاحب کا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو ظالم بادشاہ قرار دینا بھی غلط ہے، کیوں کہ اول تو ان کا تبصرہ جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق ہے ہی نہیں اور پھر وہ روایت بھی ضعیف ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا: (الصحیحۃ: 821/1)۔ اس حوالے سے تفصیلات اپنے مقام پر (جلد دوم میں) آ رہی ہیں۔ ان شاء اللہ دیگر تابعین سے اس کے خلاف جو اقوال منقول ہیں ملاحظہ فرمائیں:
امام ابن شہاب زہری رحمہ اللہ نے فرمایا:
عَمِلَ مُعَاوِيَةُ بِسِيرَةِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ سِنِينَ لَا يَخْرِمُ مِنْهَا شَيْئًا۔
”حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی سیرت پر سالہا سال عمل کیا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نا کی۔“ (السنۃ للخلال:683)
اس کی سند بھی صحیح ہے، علامہ غلام مصطفیٰ ظہیر حفظہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ (دفاع صحابہ:500) تو کیا انجینئر صاحب کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی سیرت میں کہیں قتلِ نا حق اور لوگوں کا ناحق طریقے سے مال لوٹنے کا کوئی سراغ ملا ہے؟ اگر نہیں تو پھر ان کی سیرت پر کاربند صحابی رسول جناب معاویہ رضی اللہ عنہ کے متعلق کیا کہا جائے گا؟
حضرت ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ جنہیں امام ذہبی رحمہ اللہ نے ”سید التابعین بالشام“ کے لقب سے یاد کیا ہے (تاریخ الاسلام:292/5) کی رائے:
……ثُمَّ قَامَ الْمُنَادِي فَنَادَى أَيْنَ أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ فَقَامَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أما بعد فلا والله ما أبغضناك مُنْذُ أَحْبَبْنَاكَ وَلَا عَصَيْنَاكَ مُنْذُ أطعناك وَلَا فارقناك مُنْذُ جامعناك وَلَا نكثنا بيعتنا مُنْذُ بايعناك سُيُوفُنَا على عواتقنا إن أمرتنا أطعناك وَإن دعوتنا أجبناك وَإن سبقتنا أدركناك وَإن سبقناك نظرناك……
”پھر منادی کھڑا ہوا اور اس نے آواز لگائی کہ ابو مسلم خولانی کہاں ہیں؟ تو آپ رحمہ اللہ کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثناء کے بعد (سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر) فرمایا: اللہ کی قسم ہم نے جب سے آپ سے محبت کی ہے تو آپ سے بغض نہیں رکھا، جب سے آپ کی اطاعت میں آئے ہیں کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کی، جب سے آپ کے ساتھ جڑے ہیں جدا نہیں ہوئے، جب سے آپ کی بیعت کی ہے تو بیعت نہیں توڑی، ہماری تلواریں ہمارے کندھوں پر ہیں، اگر آپ ہمیں کوئی حکم کریں گے تو ہم حکم بجا لائیں گے، اور اگر آپ ہمیں بلائیں گے تو ہم لبیک کہیں گے، اگر آپ ہم سے آگے نکل گئے تو ہم آپ کے پیچھے آئیں گے، اور اگر ہم آگے نکل گئے تو آپ کا انتظار کریں گے۔“ (مسائل امام احمد روایۃ ابی الفضل صالح:330/2، تاریخ دمشق:224/12)
مولانا غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری حفظہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا۔ (دفاع صحابہ:501)
اس قدر جامع اور خوبصورت قول کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور آپ کے حکومتی امور کے متعلق جناب ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ کا نکتہ نظر روشن دن کی طرح واضح ہو جاتا ہے، وہ تو کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ سے نا کبھی ناراض ہوئے اور نا ہی آپ کی نافرمانی کی ہے! تو اگر جناب معاویہ رضی اللہ عنہ قتل ناحق اور لوگوں کے ناحق مال لوٹنے کا حکم دیتے تھے تو کیا آپ رحمہ اللہ جیسے تابعی کا یہی طرز عمل ہوتا؟ آپ رحمہ اللہ اس کام میں جناب معاویہ رضی اللہ عنہ سے ناراض ہوتے یا خوش؟ اور ان کی نافرمانی کرتے یا اطاعت؟ بے شک آپ ناراض ہی ہوتے اور نافرمانی ہی کرتے، مگر وہ تو فرما رہے ہیں ہم ہمیشہ آپ سے محبت کرتے رہے ہیں اور کبھی آپ کی نافرمانی نہیں کی، لہٰذا معلوم ہوا کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے کبھی ایسا ویسا حکم دیا ہی نہیں۔ لہٰذا مرزا صاحب کے پیش کردہ قول سے سید التابعین کی شہادت ہر لحاظ سے مقدم بھی ہے، معتبر بھی اور وزنی بھی۔ کیوں کہ سیدنا جناب ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ تو حضرت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک طویل عرصہ رہے ہیں، جبکہ عبدالرحمٰن بن عبد رب کعبہ کوفی ہیں، اور اس بات کا کوئی سراغ نہیں کہ وہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے کب ملے اور آپ رضی اللہ عنہ نے انہیں کون سا قتل ناحق کرنے اور مال لوٹنے کا حکم دیا، لہٰذا غیر شاہد پر شاہد کی بات مقدم ہوتی ہے۔ اور حضرت ابو مسلم رحمہ اللہ کے خلاف عبد الرحمٰن رحمہ اللہ بغیر دلیل کے ایک بات کر رہے ہیں، لہٰذا بے دلیل بات کسی معتبر شہادت پر مقدم بالکل نہیں ہوا کرتی۔ اور علم و مرتبے کے لحاظ سے بھی سیدنا ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ جناب عبدالرحمٰن رحمہ اللہ سے کئی گنا بڑے ہیں، آپ تو تابعین کے سردار ہیں اور بہت سے کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی ملاقات و سماع ثابت ہے، جبکہ عبدالرحمٰن رحمہ اللہ ایسے نہیں۔ اسماء الرجال کی کتابوں میں لکھا ہے کہ آپ نے صرف حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ ہی سے حدیث سنی ہے، یا بعض نے زیادہ سے زیادہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی نام لیا ہے۔
اور اب مرزا صاحب کا اصول کہاں گیا کہ کسی ایک کے قول پر اعتماد کرنا درست نہیں بلکہ دیگر شہادتوں کو بھی پرکھا جاتا ہے، لیکن یہاں تو آپ ایک بے بنیاد اور بلا دلیل قول کی آڑ میں باقی تمام اقوال اور آراء کو سرے سے نظر انداز کر رہے ہیں، آخر کیوں؟ اب سنیے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت کے متعلق اجماع کیا کہتا ہے: امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وَاتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ عَلَى أَنَّ مُعَاوِيَةَ أَفْضَلُ مُلُوكِ هَذِهِ الْأُمَّةِ…………وَكَانَ فِي مُلْكِهِ مِنَ الرَّحْمَةِ وَالْحِلْمِ وَنَفْعِ الْمُسْلِمِينَ مَا يُعْلَمُ أَنَّهُ كَانَ خَيْرًا مِنْ مُلْكِ غَيْرِهِ۔
”اور علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اس امت کے سب سے افضل بادشاہ ہیں…………اور آپ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت جس قدر رحمت اور حلم والی اور مسلمانوں کے لیے فائدہ کا باعث تھی کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بادشاہت باقی تمام سے بہتر تھی۔“
(مجموع الفتاویٰ:478/4)
جبکہ اس امت میں کئی عادل حکمران بھی گزرے ہیں، تو جب بالاجماع سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی بادشاہت سب سے افضل ترین بادشاہت ہے تو کیا اس بادشاہت میں لوگوں کے ناحق قتل کرنے اور مالوں کو لوٹنے کا حکم دیا جاتا ہوگا؟ ایک طرف تمام علماء کا اجماع ہے تو دوسری طرف تنہا عبدالرحمن بن عبد رب کعبہ! مرزا صاحب ہی کے اصول کے مطابق فیصلہ کیجیے کہ کسے ترجیح حاصل ہوگی؟ 50 محدثین سے نہیں تمام ائمہ اہلسنت کی توثیق آ رہی ہے!