پیٹ کے بل لیٹنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اپنے پیٹ کے بل چت لیٹا ہوا دیکھا تو فرمایا:
إن هذه ضجعة لا يحبها الله
”اس طرح لیٹنے کو اللہ پسند نہیں کرتا۔“
ترمذی، کتاب الادب 2768، مسند احمد، باقی مسند المكثرين 380/2، حدیث 7881۔
پردوں کے بغیر چھت پر سونے کی ممانعت
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی چھت پر سونے سے منع فرمایا ہے جس کے پردہ نہ ہوں۔
ترمذی، کتاب الادب 2854۔
② عبدالرحمان بن علی بن شیبان اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من بات على ظهر بيت ليس عليه حجاب – وفي رواية: حجاز – فقد برئت منه الذمة
”جو شخص کسی ایسے گھر کی چھت پر رات کے وقت سوئے جس کے پردے نہ ہوں تو اس سے (حفاظت کا) ذمہ اٹھ جاتا ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 5041۔
مسلمان سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رہنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل للمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث ليال يلتقيان فيعرض هذا ويعرض هذا وخيرهما الذى يبدأ بالسلام
”کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے تین راتوں سے زیادہ قطع تعلقی کرے، وہ آپس میں ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے اعراض کرتے ہیں، اور ان دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرتا ہے۔“
بخاری، کتاب الادب 6077، مسلم، كتاب البر والصلة والآداب 25/ 2560، ابوداؤد، کتاب الادب 4911، ترمذی، کتاب البر والصلة الخ 1932۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يكون لمسلم أن يهجر مسلما فوق ثلاث، فإذا لقيه سلم عليه ثلاث مرات كل ذلكا لا يرد عليه فقد باء بإثمه
”کسی مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی مسلمان سے تین دن سے زائد قطع تعلق رہے، پس جب وہ اس سے ملے تو اسے تین مرتبہ سلام کرے اگر وہ ہر مرتبہ جواب نہ دے تو وہ اس کے گناہ کا مستحق ٹھہرتا ہے۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 4913۔
③ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يحل للمسلم أن يهجر مؤمنا فوق ثلاث، فإن مرت به ثلاث فلقيه فليسلم عليه، فإن رد عليه السلام فقد اشتركا فى الأجر، وإن لم يرد عليه فقد باء بإثمه وخرج المسلم من الهجر
”کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مومن سے تین دن سے زائد قطع تعلق رہے اگر تین دن گزر جائیں اور وہ اس سے ملاقات کرے اور اسے سلام کرے، پس اگر تو وہ دوسرا شخص سلام کا جواب دے دے تو پھر اجر میں یہ دونوں شریک ہوں گے اور اگر وہ سلام کا جواب نہ دے تو وہ گناہ کا مستحق ٹھہرے گا اور مسلمان قطع تعلقی کے زمرے سے نکل جائے گا۔“
مسلم، كتاب البر والصلة والآداب 2562/27، ابو داؤد، کتاب الادب 4912۔ الفاظ ابودود کے ہیں۔
④ ابو خراش رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
من هجر أخاه سنة فهو كسفك دمه
”جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی سے سال بھر قطع تعلقی رکھے تو وہ اس کے خون بہانے (قتل کرنے) کے مترادف ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4910۔
لوگوں کی عزتوں کو نقصان پہنچانے کی ممانعت
① سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لما عرج بي مررت بقوم لهم أظفار من نحاس يخمشون بها وجوههم وصدورهم، فقلت: من هؤلاء يا جبريل؟ قال: هؤلاء الذين يأكلون لحوم الناس ويقعون فى أعراضهم
”جب مجھے معراج کرائی گئی تو میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے تانبے کے ناخن تھے اور وہ ان سے اپنے چہرے اور سینوں کو نوچ رہے تھے، میں نے کہا: اے جبریل! یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا: یہ وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے تھے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4878۔