قربانی کے جانور میں سے قصاب کو اجرت دینا کیسا ہے؟ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس پروفیسر ڈاکٹر فضل الٰہی کی کتاب مسائل قربانی سے ماخوذ ہے۔

قصاب کو قربانی میں سے بطور اجرت کچھ نہ دیا جائے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے جانور کی کوئی چیز بھی بطور اجرت قصاب کو دینے سے منع فرمایا ہے۔ امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا ہے، کہ:
أن النبى صلی اللہ علیہ وسلم أمره أن يقوم على بدنه، وأن يقسم بدنه كلها، لحومها وجلودها وجلالها، ولا يعطي فى جزارتها شيئا.
یقیناً نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ آپ کی قربانی کے اونٹوں( کے ذبح کرنے )اور ان کے گوشت کی تقسیم کرنے کی نگرانی کریں۔ اور ان کے گوشت، کھالیں اور جھولیں سب کچھ تقسیم کر دیں اور ذبح وغیرہ کرنے کے عوض میں( قصاب کو) اس میں سے کچھ نہ دیں۔
متفق عليه : صحيح البخاري، كتاب الحج، باب يتصدق بجلود الهدي، رقم الحديث 556/3،1717 ؛ وصحيح مسلم، كتاب الحج، باب في الصدقة بلحوم الهدي وجلودها وجلالها، رقم الحديث 349 – (1317)، 954/2 ۔ الفاظ حدیث صحیح البخاری کے ہیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا قصاب کو اجرت سے الگ قربانی کے جانور میں سے کچھ دینا جائز ہے؟
امام ابن خزیمہ اس بارے میں فرماتے ہیں:
إذا أعطى أجرته كاملة، ثم تصدق عليه، إذا كان فقيرا، كما يتصدق على الفقراء فلا بأس بذلك.
قصاب کو پوری اجرت دینے کے بعد، اگر اس کی غربت کے پیش نظر، دیگر مسکینوں کی طرح قربانی کے جانور میں سے کچھ دیا جائے، تو کچھ حرج نہیں۔
منقول: از فتح الباري 556/3. امام بغوی نے بھی یہی بات بیان فرمائی ہے۔ (ملاحظہ ہو: شرح السنة 188/7).

تنبیہ:

البتہ اس بات کا اہتمام کیا جائے، کہ اس بنا پر قصاب اپنی اجرت میں کمی یا رعایت نہ کرے، اگر ایسا خدشہ ہو، تو سلامتی اسی بات میں ہے، کہ اس کو قربانی میں سے کچھ بھی نہ دیا جائے۔