عقیدہ ختمِ نبوت : فہمِ امت کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفٰی ظہیر امن پوری کی کتاب ختم نبوت سے ماخوذ ہے۔

عقیدہ ختمِ نبوت : فہمِ امت کی روشنی میں

قرآن وسنت کی نصوص سے علمائے امت نے کیا سمجھا ہے، ملاحظہ کیجئے :

◈ امام آجری رحمہ اللہ (360ھ) :

امام ابوبکر محمد بن حسین آجری رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
باب ذكر ما ختم الله عز وجل بمحمد صلى الله عليه وسلم الأنبياء وجعله خاتم النبيين
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے آخری نبی ہونے کا بیان۔“
(الشريعة : 1471/3)

◈ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) :

علامہ ابن حزم رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
قد صح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم بنقل التواتر التى نقلت نبوته وأعلامه وكتابه أنه أخبر أنه لا نبي بعده إلا ما جاءت الأخبار الصحاح من نزول عيسى عليه السلام الذى بعث إلى بني إسرائيل وادعى اليهود قتله وصلبه فوجب الإقرار بهذه الجملة وصح أن وجود النبوة بعده عليه السلام باطل
”جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کتاب تواتر سے ثابت ہے، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری نبی ہونا بھی تواتر سے ثابت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، البتہ سیدنا عیسی علیہ السلام کے نزول کی احادیث ثابت ہیں، یہ بنی اسرائیل کی طرف مبعوث ہوئے تھے اور یہود کا دعوی ہے کہ انہوں نے عیسی علیہ السلام کو قتل کر دیا تھا۔ ان تمام باتوں کا اقرار واجب ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا وجود باطل ہے۔“
(الفصل في الملل والأهواء والنحل : 68/1)
مزید فرماتے ہیں :
هذا مع سماعهم قول الله تعالى : وَلٰكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وقول رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا نبي بعدي، فكيف يستجيزه مسلم أن يثبت بعده عليه السلام نبيا فى الأرض، حاشا ما استتناه رسول الله صلى الله عليه وسلم فى الآثار المسندة الثابتة فى نزول عيسى بن مريم عليه السلام فى آخر الزمان
”اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : وَلٰكِن رَّسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ لیکن آپ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد کوئی نبی نہیں، بعض لوگ یہ فرامین سننے کے باوجود عقیدہ ختم نبوت کے منافی باتیں کرتے ہیں، کوئی مسلمان بھلا کیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد روئے زمین پر کسی نبی کا اثبات کر سکتا ہے، البتہ سیدنا عیسی علیہ السلام نازل ہوں گے، ان کا استثناء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحیح احادیث میں فرما دیا ہے۔“
(الفصل في الملل والأهواء والنحل : 138/4)
نیز فرماتے ہیں :
قال تعالى : قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ 65 لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فهؤلاء كلهم كفار بالنص ، وصح الإجماع على أن كل من جحد شيئا صح عندنا بالإجماع أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أتى به؛ فقد كفر، وصح بالنص أن كل من استهزا بالله تعالى، أو بملك من الملائكة، أو بنبي من الأنبياء عليهم السلام، أو بآية من القرآن، أو بفريضة من فرائض الدين، فهي كلها آيات الله تعالى، بعد بلوغ الحجة إليه؛ فهو كافر، ومن قال بنبي بعد النبى عليه الصلاة والسلام، أو جحد شيئا صح عنده بأن النبى صلى الله عليه وسلم قاله، فهو كافر ، لأنه لم يحكم النبى صلى الله عليه وسلم فيما شجر بينه وبين خصمه
”اللہ تعالیٰ نے فرمایا : قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰيٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ 65 لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ اے پیغمبر! کہہ دیجیے کہ کیا اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ تم استہزا کرتے ہو؟ عذر پیش نہ کرو، یقینا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔ یہ سب لوگ نص کی بنا پر کافر ہیں۔ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا انکار کیا، جن پر امت کا اجماع ہے، تو وہ شخص بالاتفاق کافر ہے۔ اسی طرح نص سے یہ بات ثابت ہے کہ جس شخص پر حجت قائم ہو چکی ہو، وہ اللہ کا کسی فرشتے کا کسی نبی، آیت یا دین کے کسی فریضہ کا مذاق اڑاتا ہے، تو کافر ہے۔ کیونکہ یہ تمام شعائر اللہ اور دین کی علامات ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی کو نبی ماننا بھی کفر ہے اور کسی حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت مان کر اس کا انکار کرنے والا بھی کافر ہے۔ کیوں کہ اس نے اپنے اور مخالف کے مابین نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فیصل و حاکم تسلیم نہیں کیا۔“
(الفصل في الملل والأهواء والنحل : 142/3)
واضح رہے کہ سیدنا عیسی بن مریم علیہ السلام کی بعثت بحیثیت نبی صرف بنی اسرائیل کی طرف ہوئی ہے، البتہ ہماری امت میں وہ بحیثیت مجدد دین آئیں گے اور شریعت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کریں گے۔

◈ قاضی عیاض رحمہ اللہ (544ھ) :

آپ لکھتے ہیں :
أمكم بكتاب الله وسنة نبيكم وهذا كلام حسن؛ لأن عيسى ليس يأتى لأهل الأرض رسولا ولا نبيا مبعوثا، ولا بشريعة جديدة؛ لأن محمدا صلى الله عليه وسلم خاتم النبيين، وشريعته ناسخة لجميع الشرائع راسحة إلى يوم القيامة، وإنما يحكم عيسى بها
”سیدنا عیسی علیہ السلام کتاب اللہ اور سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق امامت کروائیں گے، یہ ایک خوب صورت کلام ہے، سیدنا عیسی علیہ السلام اہل زمین کے لئے نبی یا رسول کی حیثیت سے نہیں آئیں گے، نہ ہی وہ کوئی نئی شریعت لائیں گے، وہ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہوں گے، کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبین ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت قیامت تک کے لئے تمام شریعتوں کی ناسخ ہے۔“
(إكمال المُعلم بفوائد صحيح مسلم : 473/1)

◈ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671ھ) :

علامہ قرطبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
ذهب قوم إلى أن بنزول عيسى عليه السلام يرتفع التكليف، لئلا يكون رسولا إلى أهل ذلك الزمان، يأمرهم عن الله تعالى وينهاهم، وهذا أمر مردود بالأخبار التى ذكرناه من حديث أبى هريرة، وبقوله تعالى: وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ، وقوله عليه الصلاة والسلام : لا نبي بعدي ، وقوله : وأنا العاقب يريد آخر الأنبياء وخاتمهم، وإذا كان ذلك فلا يجوز أن يتوهم أن عيسى ينزل نبيا بشريعة متجددة، وغير شريعة محمد نبينا صلى الله عليه وسلم، بل إذا نزل، فإنه يكون يومئذ من أتباع محمد صلى الله عليه وسلم
”بعض لوگ کہتے ہیں عیسی علیہ السلام کی آمد کے بعد لوگ شریعت کے مکلف نہیں رہیں گے، اس زمانے کے لوگ شریعت پر عمل کریں گے تو اس سے لازم آئے گا کہ سیدنا عیسی علیہ السلام ان کی طرف مبعوث کئے گئے ہیں اور انہیں اللہ کے اوامر و نواہی سے خبردار کرتے ہیں۔ لیکن یہ ایک مردود اور باطل نظریہ ہے، عیسی علیہ السلام کو ایک نئی شریعت کا پیشرو سمجھنا ہی غلط ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پڑھیں، اللہ کا فرمان ملاحظہ ہو : وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ نیز فرمایا میں سب سے آخر میں آنے والا نبی ہوں۔ ان احادیث کے ہوتے یہ خیال ہی نہیں کیا جاسکتا کہ سیدنا عیسی علیہ السلام کوئی نئی شریعت لے کر نازل ہوں گے، بلکہ وہ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیروکار بن کر نازل ہوں گے۔“
(التذكرة بأحوال الموثى وأمور الآخرة : 792/2)