محبتِ رسول ﷺ کی فضیلت اور اس کے ایمانی و اُخروی ثمرات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔

فضــــل الولاء لرسول اللٰہ صلی اللٰه علیہ وسلم

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کی فضیلت

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا قیامت کے روز جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوگا۔

[عن أنس بن مالك: أن أعرابيا، قال لرسول الله صلى الله عليه وسلم: متى الساعة؟ قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما أعددت لها؟ قال: حب الله ورسوله، قال: أنت مع من أحببت]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا: تو نے قیامت کے لئے کیا تیاری کی ہے؟ آدمی نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول کی محبت! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تو یقینا اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ تو نے محبت کی۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اسلام لانے کے بعد ہمیں جتنی خوشی اس بات سے ہوئی اتنی خوشی کسی بات سے نہیں ہوئی۔ [صحیح المسلم:2639]
[عن عبد الله، قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله، كيف ترى في رجل أحب قوما ولما يلحق بهم؟ قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المرء مع من أحب]
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو ایسے (نیک) لوگوں سے محبت کرتا ہے جن کے نیک اعمال کو وہ نہیں پہنچا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (قیامت کے دن) آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس نے محبت کی۔ [صحیح المسلم:2640]

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والا جنت میں بلند درجات سے نوازا جائے گا۔

[عن عائشة، قالت: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله، والله إنك لأحب إلي من نفسي، وإنك لأحب إلي من أهلي، وأحب إلي من ولدي، وإني لأكون في البيت، فأذكرك فما أصبر حتى آتيك، فأنظر إليك، وإذا ذكرت موتي وموتك عرفت أنك إذا دخلت الجنة رفعت مع النبيين، وإني إذا دخلت الجنة خشيت أن لا أراك. فلم يرد عليه النبي صلى الله عليه وسلم حتى نزل جبريل بهذه الآية: {وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ}]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ سے اپنی جان سے بھی زیادہ محبت کرتا ہوں اپنے بیٹے سے بھی زیادہ محبت کرتا ہوں جب گھر میں ہوتا ہوں اور آپ کی یاد آتی ہے تو اس وقت تک صبر نہیں آتا جب تک حاضر خدمت ہوکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نہ کر لوں، لیکن جب مجھے اپنی اور آپ کی موت یاد آتی ہے تو جانتا ہوں کہ جنت میں داخل ہونے کے بعد آپ انبیاء کے ساتھ بلند مقام پر ہوں گے اور میں اگر جنت میں چلا بھی گیا تو (کم درجہ کی وجہ سے) ڈرتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار حاصل نہیں کر سکوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابی کی اس بات کا اس وقت تک کوئی جواب نہ دیا جب تک سیدنا جبرائیل علیہ السلام درج ذیل آیت لے کر نہ آگئے ﴿وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ…﴾ اور جس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی وہ (جنت میں) ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا ہے انبیاء سے، صدیقین سے، شہداء سے اور صلحاء سے۔ (سورۃ النساء:69) [المعجم الأوسط للطبراني:477]

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت میں ہی مومن کو ایمان کی حقیقی لذت حاصل ہوتی ہے۔

[عن أنس رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: ثلاث من كن فيه وجد حلاوة الإيمان، أن يكون الله ورسوله أحب إليه مما سواهما ، وأن يحب المرء لا يحبه إلا لله، وأن يكره أن يعود في الكفر كما يكره أن يقذف في النار]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین خصلتیں ایسی ہیں کہ جس میں یہ پیدا ہو جائیں اس نے ایمان کی مٹھاس کو پا لیا۔ اول یہ کہ اللہ اور اس کا رسول اس کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب بن جائیں، دوسرے یہ کہ وہ کسی انسان سے محض اللہ کی رضا کے لیے محبت رکھے۔ تیسرے یہ کہ وہ کفر میں واپس لوٹنے کو ایسا برا جانے جیسا کہ آگ میں ڈالے جانے کو برا جانتا ہے۔ [صحیح البخاری:16]