مضمون کے اہم نکات
إقتضاء الولاء لرسول اللٰہ صلی اللٰه علیہ وسلم
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کے تقاضے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس بات کا حکم دیں اس پر عمل کیاجائے اور جس چیز سے منع فرمائیں اس سے رکا جائے۔
❀ [وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ]
اور جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اللہ سے ڈرتے رہو (اور یادر کھو) بے شک اللہ تعالیٰ سخت سزا دینے والے ہیں۔ (سورۃ الحشر:7)
جو کام رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں نہیں کیا وہ کام اپنی مرضی سے کر کے اللہ کے رسول سے آگے نہ بڑھا جائے۔
❀ [یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ]
اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اور اللہ سے ڈرتے رہو بے شک اللہ تعالیٰ خوب سننے والے اور خوب جاننے والے ہیں۔ (سورۃ الحجرات:1)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی متروک سنتوں کو زندہ کرنے کی جدوجہد کی جائے۔
❀ [حدثنا كثير بن عبد الله بن عمرو بن عوف المزني، حدثني أبي، عن جدي، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من أحيا سنة من سنتي فعمل بها الناس، كان له مثل أجر من عمل بها، لا ينقص من أجورهم شيئا]
سیدنا کثیر بن عبداللہ بن عمرو بن عوف مزنی فرماتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے، میرے دادا سے روایت بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری سنتوں میں سے کوئی ایک سنت زندہ کی اور لوگوں نے اس پر عمل کیا تو سنت زندہ کرنے والے کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس سنت پر عمل کرنے و الے تمام لوگوں کو ملے گا جبکہ لوگوں کے اپنے ثواب میں سے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ [سنن ابن ماحۃ:209]
جس بات سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اظہار بیزاری فرمائیں اس سے اظہار بیزاری کیا جائے۔
❀ [حدثني أبو بردة بن أبي موسى، قال: وجع أبو موسى وجعا فغشي عليه، ورأسه في حجر امرأة من أهله، فصاحت امرأة من أهله، فلم يستطع أن يرد عليها شيئا، فلما أفاق، قال: أنا بريء مما برئ منه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم برئ من الصالقة، والحالقة، والشاقة]
سیدنا ابو بردہ بن ابو موسیٰ (اشعری) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کو شدید درد ہوا جس سے وہ بے ہوش ہو گئے ان کا سر ان کے گھر والوں میں سے ایک خاتون کی گود میں تھا ایک خاتون نے چلانا شروع کردیا۔ سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ (غشی کی وجہ سے) اسے روک نہ سکے۔ جب ہوش آیا تو فرمانے لگے: جس بات سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بیزار ہوں میں بھی اس سے بیزار ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلانے والی، بال نوچنے والی اور کپڑے پھاڑنے والی (عورت سے) اظہار بیزاری فرمایا ہے۔ [صحیح المسلم:104]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کی جائے۔
❀ [لِلۡفُقَرَآءِ الۡمُہٰجِرِیۡنَ الَّذِیۡنَ اُخۡرِجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ وَ اَمۡوَالِہِمۡ یَبۡتَغُوۡنَ فَضۡلًا مِّنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانًا وَّ یَنۡصُرُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ]
(مال فے) ان فقراء مہاجرین کے لئے ہے جو اپنے گھروں اور مالوں سے نکالے گئے ہیں(ہر وقت) اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کی نصرت کرتے ہیں یہی لوگ سچے (ایمان والے) ہیں۔ (سورۃ الحشر:8)
وضاحت:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت سے مراد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت کا علم حاصل کرنا، اس پر عمل کرنا، اس کو پھیلانا اور اسے غالب کرنے کی جدوجہد کرنا ہے۔
دل و جان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور احترام کیا جائے۔
❀ [عن أنس بن مالك، أنه قال: لما نزلت هذه الآية: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ (سورة الحجرات آية:2) إلى آخر الآية، جلس ثابت بن قيس في بيته، وقال: أنا من أهل النار، واحتبس عن النبي صلى الله عليه وسلم، فسأل النبي صلى الله عليه وسلم سعد بن معاذ، فقال: يا أبا عمرو، ما شأن ثابت، اشتكى؟ قال سعد: إنه لجاري، وما علمت له بشكوى، قال: فأتاه سعد، فذكر له قول رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال ثابت: أنزلت هذه الآية ولقد علمتم أني من أرفعكم صوتا على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأنا من أهل النار، فذكر ذلك سعد للنبي صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بل هو من أهل الجنة]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی، اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنی آواز نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے اونچی نہ کرو۔ (سورۃ الحجرات:2) تو سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے گھر بیٹھ گئے (سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کی آواز قدرتی طورپر اونچی تھی) اور کہنے لگے، میں تو آگ والوں میں سے ہوں۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنا جلنا ترک کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: اے ابو عمرو رضی اللہ عنہ! (سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی کنیت) ثابت کہاں ہے، کیا بیمار ہے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: وہ میرا ہمسایہ ہے اور میرے علم کی حد تک تو بیمار نہیں۔ چنانچہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ، سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کے گھر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا تذکرہ کیا۔ سیدنا ثابت رضی اللہ عنہ کہنے لگے: فلاں آیت نازل ہوئی ہے اور تم جانتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں میری آواز تم سب لوگوں سے زیادہ اونچی ہے میں تو جہنمی ہوگیا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے (واپس آکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کاذکر کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں وہ تو جنتی ہے۔ [صحیح المسلم:119]
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور فضائل بیان کئے جائیں، نعت کہی جائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہر قسم کے گمراہ کن پروپیگنڈہ کا جواب دیا جائے۔
❀ [ عن عائشۃ رضی اللہ عنہا قالت: فسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول لحسان: إن روح القدس لا يزال يؤيدك ما نافحت عن الله ورسوله، وقالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: هجاهم حسان فشفى واشتفى، قال حسان:
هجوت محمدا فأجبت عنه، وعند الله في ذاك الجزاء،
هجوت محمدا برا تقيا، رسول الله شيمته الوفاء،
فإن أبي ووالده وعرضي، لعرض محمد منكم وقاء،
وقال الله قد أرسلت عبدا، يقول الحق ليس به خفاء،
وقال الله قد يسرت جندا، هم الأنصار عرضتها اللقاء،
فمن يهجو رسول الله منكم، ويمدحه وينصره سواء،
وجبريل رسول الله فينا، وروح القدس ليس له كفاء]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک تو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کافروں کو) جواب دیتا رہے گا اللہ تعالیٰ روح القدس (یعنی) جبرائیل امین علیہ السلام کے ذریعے تیری مدد فرماتے رہیں گے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا کہ حسان نے کفار کی ہجو کی اہل ایمان کے دلوں کو سکون پہنچایا او رکافروں کی عزتوں کو بربادکیا۔سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے چند شعر درج ذیل ہیں:
① کافروں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی تو میں نے اس کا جواب دیا اور اس کا بدلہ اللہ کے پاس ہے۔
② کافروں نے نیک اور متقی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کی جو اللہ کے رسول ہیں، وفاداری ان کی فطرت ہے۔
③ میرے ماں باپ او رمیری عزت و آبرو سب کچھ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور آبرو کو بچانے کے لئے قربان ہیں۔
④ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے ایک بندہ بھیجا ہے جو سچ کہتا ہے اور اس کی بات میں کوئی شک نہیں۔
⑤ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں نے ایک لشکر تیار کیا ہے، انصار کا لشکر، جن کا کام کفار سے مقابلہ کرنا ہے۔
⑥ سوتم میں سے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرے اور آپ کی تعریف کرے اور آپ کی مدد کرے، سب برابر ہیں۔
⑦ ہمارے درمیان اللہ کے رسول اور جبرائیل ہیں اور جبرائیل کا تو کوئی مد مقابل ہی نہیں۔
[صحیح المسلم:2490]
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت اور ناموس کا تحفظ کیا جائے۔
❀ [حدثنا ابن عباس، أن أعمى كانت له أم ولد تشتم النبي صلى الله عليه وسلم وتقع فيه فينهاها فلا تنتهي ويزجرها فلا تنزجر، قال: فلما كانت ذات ليلة جعلت تقع في النبي صلى الله عليه وسلم وتشتمه، فأخذ المغول فوضعه في بطنها واتكأ عليها فقتلها فوقع بين رجليها طفل، فلطخت ما هناك بالدم فلما أصبح ذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم فجمع الناس فقال: أنشد الله رجلا فعل ما فعل لي عليه حق إلا قام فقام الأعمى يتخطى الناس وهو يتزلزل حتى قعد بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله أنا صاحبها كانت تشتمك وتقع فيك فأنهاها فلا تنتهي وأزجرها فلا تنزجر ولي منها ابنان مثل اللؤلؤتين وكانت بي رفيقة فلما كان البارحة جعلت تشتمك وتقع فيك فأخذت المغول فوضعته في بطنها واتكأت عليها حتى قتلتها فقال النبي صلى الله عليه وسلم: ألا اشهدوا أن دمها هدر]
سیدنا عبداللہ بن عباس رَضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک نابینا صحابی کی لونڈی تھی جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتی۔ صحابی اسے منع کرتا لیکن وہ باز نہ آتی، صحابی اسے ڈانٹتا لیکن وہ پھر بھی نہ رکتی۔ ایک رات لونڈی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کی اور گالیاں بکنے لگی تو صحابی نے چھرا اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور زور سے دبایا جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔ جب صبح ہوئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس واقعہ کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: جس شخص نے یہ کام کیا ہے میں اسے اللہ کی قسم دے کر اور اپنے اس حق کے حوالہ سے جو میرا اس پرہے، کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہوجائے۔ چنانچہ وہ نابینا صحابی کھڑا ہوگیا اور لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آکر بیٹھ گیا۔ وہ آدمی کانپ رہا تھا، عرض کرنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں ہوں اس کا قاتل، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکتی تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتی تھی، میں اسے منع کرتا لیکن وہ باز نہ آتی میں اسے ڈانٹتا لیکن وہ پھر بھی منع نہ ہوتی حالانکہ اس سے میرے موتیوں جیسے (خوبصورت) دو بیٹے بھی ہیں وہ میری (اچھی) رفیقہ تھی لیکن کل رات جب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں بکنے لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرنے لگی تو میں نے چھرا پکڑا اور اس کے پیٹ میں گھونپ دیا اور زور سے دبایا، حتی کہ میں نے اسے قتل کردیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو، سنو! گواہ رہنا اس لونڈی کا خون رائیگاں ہے۔ (یعنی اس کا قصاص نہیں لیا جائے گا)
[سنن ابی داؤد:4361]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی شدید تمنا رکھی جائے۔
❀ [عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: من أشد أمتي لي حبا ناس يكونون بعدي يود أحدهم لو رآني بأهله وماله]
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد میری امت میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو مجھ سے اس قدر شدید محبت کرتے ہوں گے کہ ان میں سے کوئی یہ خواہش رکھے گا کہ اپنا اہل و عیال او رمال و منال سب کچھ صدقہ کر کے میری زیارت کرے۔ [صحیح المسلم:2832]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم مبارک سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے۔
❀ [عن علي بن أبي طالب، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: البخيل الذي من ذكرت عنده فلم يصل علي]
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ میرے اوپر درود نہ بھیجے وہ بخیل ہے۔ [سنن الترمذی:3546]