بیع پر قسم، چپ کا روزہ، معصیت کی نذر اور جھوٹی قسم کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

بیع پر قسم اٹھانے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
الحلف منفقة للسلعة ممحقة للبركة
قسم اٹھانے سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن برکت اٹھ جاتی ہے۔
بخاری، کتاب البیوع 2087۔ مسلم ، کتاب المساقات 1606/131۔
② سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إياكم وكثرة الحلف فى البيع فإنه ينفق ثم يمحق
بیع کرتے وقت زیادہ قسمیں اٹھانے سے بچو اس لیے کہ اس سے مال بک تو جاتا ہے لیکن برکت ختم کر دیتا ہے۔
مسلم، کتاب المساقات 1607/132۔ نسائی فی البیوع 216/7۔ ابن ماجه 2209۔
③ سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البيعان بالخيار ما لم يتفرقا فإن صدقا وبينا بورك لهما فى بيعهما، وإن كتما وكذبا فعسى أن يربحا ربحا ما تيسر ويمحقا بركة بيعهما، اليمين الفاجر منفقة للسلعة ممحقة للكسب
خرید و فروخت کرنے والے دونوں افراد کو جب تک جدا نہ ہوں اختیار ہے۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور بیان کریں تو ان کے لیے ان کی بیع میں برکت دی جائے گی اور اگر چھپائیں اور جھوٹ بولیں تو قریب ہے کہ وہ کچھ قدر فائدہ حاصل کر لیں اور برکت ختم کر بیٹھیں۔ اسی طرح جھوٹی قسم سے سودا تو بک جاتا ہے لیکن برکت ختم ہو جاتی ہے۔
بخاری، کتاب البیوع 2110۔ مسلم، کتاب البیوع 1532/47۔ ابوداؤد، کتاب البیوع 3459۔

دن بھر خاموش رہنے (چپ کا روزہ رکھنے) کی ممانعت

① سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد کیا:
لا يتم بعد احتلام، ولا صمات يوم إلى الليل
بلوغت کے بعد یتیمی اور دن بھر خاموش رہنے کا کوئی تصور نہیں۔
ابوداؤد، کتاب الوصایا 2873۔
② قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ احمس قبیلے کی زینب نامی عورت کے پاس تشریف لے گئے، آپ نے اسے دیکھا کہ وہ بولتی نہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا اسے کیا ہے کہ یہ بولتی نہیں؟ لوگوں نے بتایا اس نے خاموش رہنے کا قصد کیا ہوا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات چیت کرو کیونکہ یہ حلال نہیں، اور یہ عمل جاہلیت ہے، پس اس نے بولنا شروع کر دیا۔
بخاری، کتاب المناقب 3834۔

معصیت کی نذر ماننے کی ممانعت

① سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نذر ماننے سے منع فرمایا ہے۔ اور فرمایا:
إنه لا يأتى بخير وإنما يستخرج به من البخيل
یہ کسی خیر و بھلائی پر منتج نہیں ہوتی اس کے ذریعے تو بس بخیل شخص سے مال نکلوایا جاتا ہے۔
بخاری، کتاب القدر 6608۔ مسلم، کتاب النذر 1639/4۔
② سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا نذر فى معصية وكفارته كفارة يمين
معصیت کی کوئی نذر نہیں، اس کا کفارہ قسم والا کفارہ ہے۔
ابوداؤد ، کتاب الایمان والنذور 3290۔ ترمذی، کتاب النذور والایمان 1524۔ النسائی، الایمان والنذور 24/7۔
③ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
لا نذر إلا فيما يبتغى به وجه الله تعالى، ولا يمين فى قطيعة رحم
نذر صرف اسی کام میں ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی طلب کی جائے اور قطع رحمی کے بارے میں قسم کی کوئی حیثیت نہیں۔
ابوداؤد، کتاب الطلاق 2192۔

جھوٹی قسم کی ممانعت

① سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف على مال امرئ مسلم بغير حقه لقي الله وهو عليه غضبان
جس نے کسی مسلمان شخص کے مال کو ناحق ہتھیانے کے لیے قسم اٹھائی تو وہ اللہ سے اس حالت میں ملاقات کرے گا کہ وہ اس پر ناراض ہوگا۔
سیدنا عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تصدیق کے لیے اللہ عزو(3-آل عمران:77)جل کی کتاب سے یہ آیت تلاوت فرمائی:
﴿إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلًا﴾
بے شک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے میں تھوڑی قیمت لیتے ہیں۔
بخاری، کتاب تفسیر القرآن 4549 – 4550۔ مسلم، کتاب الایمان 197/222۔
② سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من اقتطع حق امرئ مسلم بيمينه حرم الله عليه الجنة، وأوجب له النار
جو شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی مسلمان کا حق ہتھیا لے تو اللہ نے اس پر جنت حرام کر دی اور اس کے لیے جہنم واجب کر دی۔
انہوں نے عرض کیا، خواہ کوئی معمولی سی چیز ہو تب بھی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وإن كان قضيبا من أراك
اگر چہ پیلو کی ایک ٹہنی ہو۔
مسلم، کتاب الایمان 137/218۔ مسند احمد، باقی مسند الانصار 307/5، حدیث 22302۔
③ سیدنا عمر و بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک عرابی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ا کر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : اللہ کے ساتھ شرک کرنا۔ اس نے کہا پھر کون سا ؟ فرمایا :
يمين غموس (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں)، میں نے کہا: اور (يمين غموس) کیا ہے؟ تو ارشاد فرمایا:
الذي يقتطع مال امرئ مسلم يعني بيمين هو فيها كاذب
کوئی شخص جھوٹے ہونے کے باوجود جس قسم کے ذریعے مسلمان شخص کا مال ہتھیا لیتا ہے ایسی قسم یمین غموس ہے۔
صحیح البخاری۔ ایضاً۔
④ سیدنا عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبیرہ گناہوں کا ذکر کیا تو فرمایا:
وما حلف الحالف بالله يمين صبر فأدخل فيها مثل جناح بعوضة إلا جعلت نكتة فى قلبه إلى يوم القيامة
جس شخص نے اللہ کی جھوٹی قسم اٹھائی اور اس میں مچھر کے پر کے برابر کوئی چیز داخل کر دی تو روز قیامت تک اس کے دل پر نکتہ لگا دیا جاتا ہے۔
ترمذی، کتاب تفسیر القرآن 3020۔ مسند احمد، مسند المکیین 3/ 600، حدیث 16049۔
⑤ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من حلف على يمين مصبورة كاذبا فليتبوأ مقعده من النار
جو شخص جھوٹی قسم اٹھائے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنائے۔
ابو داؤد، کتاب الایمان والنذور۔ تخریج پہلے بیان ہو چکی ہے۔