وضو اچھی طرح کرنے، انگلیوں کا خلال اور وضو کے بعد دعا کے احکامات

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

باب الوضوء

ناگواری کے باوجود وضو اچھی طرح کرنا اور اس کے متعلق احکامات

ناگواری شدید سردی یا جسمانی تکلیف کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ کہ شدید سردی یا جسمانی تکلیف ہونے کے با وجود ( اچھی طرح وضوء کرنا ) ۔
شرح صحیح مسلم 3/ 131.
اچھی طرح وضو کرنے سے مراد ہے اسے مکمل کرنا اور تمام اعضاء پر مکمل طور پر پانی پہنچانا اور مقدار واجب سے زیادہ طور پر اعضاء دھونا جیسے پاؤں کو ٹخنے تک دھونے کے بجائے پنڈلی تک دھونا۔
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أدلكم على ما يمحو الله به الخطايا ويرفع به الدرجات؟
”کیا میں تمہیں ایسے اعمال نہ بتاؤں جن کے ذریعے سے اللہ خطائیں معاف کر دیتا ہے اور درجات بلند کر دیتا ہے؟“
صحیح مسلم، کتاب الطهارة۔
قاضی عیاض بیان کرتے ہیں: گناہوں کے مٹ جانے سے مراد گناہوں کا معاف ہو جانا ہے۔ اور فرمایا: اس کا بھی احتمال ہے کہ محفوظ کتاب (جس میں اعمال لکھے جاتے ہیں) سے انہیں مٹا دیا جائے گا اور یہ اس کی مغفرت کی دلیل ہوگی. (شرح صحیح مسلم للنووی، 141/3)۔
درجات بلند ہونے سے جنت میں منازل و درجات کا بلند ہونا مراد ہے. (شرح صحیح مسلم للنووی، 141/3)۔
انہوں نے (صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم) نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیوں نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إسباغ الوضوء على المكاره، وكثرة الخطا إلى المساجد، وانتظار الصلاة بعد الصلاة، فذلكم الرباط، فذلكم الرباط، فذلكم الرباط
”ناگواری کے باوجود اچھی طرح وضو کرنا، مسجد کی طرف چل کر جانا اور نماز کے بعد (دوسری) نماز کا انتظار کرنا، یہ رباط ہے، یہ رباط ہے، پس یہ رباط ہے۔“
صحیح مسلم، کتاب الطهارة، حدیث 251/41۔. الترمذى، کتاب الطهارة، حدیث 51۔
یہ گھر کا مسجد سے دور ہونے اور کثرت تکرار کی وجہ سے ہے ۔
الرباط: کسی پسندیدہ چیز کا پابند کر لینا گویا کہ اس نے اپنے آپ کو اس اطاعت پر پابند کر لیا ہے۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ یہ انواعِ رباط میں سے ہے ۔

دوران وضوء انگلیوں کا خلال کرنا

① سیدنا لقيط بن صبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے عرض کی:
”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے وضو کے متعلق بتائیں“۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أسبغ الوضوء، وخلل بين الأصابع، وبالغ فى الاستنشاق إلا أن تكون صائما
”وضو اچھی طرح کرو، انگلیوں کے درمیان خلال کرو اور روزے کی حالت کے علاوہ ناک میں مبالغے کی حد تک پانی چڑھاؤ۔“
ابو داؤد، کتاب الطهارة، 140۔ ترمذى، کتاب الصوم عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، 788۔ النسائي، کتاب الطهارة، 66/1۔ ابن ماجه، کتاب الطهارة وسننها، 448 ، 407۔ یہ روایت صحیح ہے ۔

وضوء کے بعد کلمہ شہادت پڑھنا

① سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اچھی طرح وضو کرے پھر یہ پڑھے:
أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ “
تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں وہ جس میں سے چاہے داخل ہو جائے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ نے یہ الفاظ زائد بیان کیے ہیں:
اللهم اجعلني من التوابين واجعلني من المتطهرين
”اے اللہ! مجھے توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں سے کر دے۔“
مسلم، کتاب الطهارة، 334۔ ابو داؤد، کتاب الطهارة، 169۔ ترمذى، کتاب الطهارة عن رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم ، 55۔ یہ روایت صحیح ہے اور امام ترمذی کے زائد الفاظ سند منقطع ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں ۔

وضوء کی محافظت کے متعلق احکامات

① امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
استقيموا ولن تحصوا، واعملوا إن خير أعمالكم الصلاة، ولا يحافظ على الوضوء إلا مؤمن
”سیدھی روش رکھو، حق پر قائم رہو اور تم ہرگز ایسا نہ کر سکو گے (کہ تم پوری پوری سیدھی روش رکھو)، اور عمل کرو، جان لو کہ تمہارے نیک اعمال میں سے نماز سب سے بہتر ہے اور وضو کی حفاظت صرف مومن ہی کرتا ہے۔“
موطا، کتاب الطهارة، 34/1۔ ابن ماجه، کتاب الطهارة وسننها، 277۔ مسند احمد، باقی مسند الأنصار، 5/276۔ روایت صحیح ہے ۔