عورت کا قربانی ذبح کرنا حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ فاروق رفیع صاحب کی کتاب قُربانی، عقیقہ اور عشرہ زی الحجہ سے ماخوذ ہے۔

کیا عورت قربانی کا جانور ذبح کر سکتی ہے؟

اگر عورت جانور ذبح کرنے میں مہارت رکھتی ہے تو عورت کے لیے قربانی کا جانور ذبح کرنا جائز ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے (باب من ذبح ضحية غيره) کے تحت بیان کیا:
وأمر أبو موسى بناته أن يضحين بأيديهن
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی قربانیاں خود ذبح کریں۔
صحيح بخاري، قبل الحديث : 5559 ، یہ روایت معلق ہے۔
مصنف عبدالرزاق: (8169)اور مستدرک حاکم میں متصل سند سے مروی ہے کہ:
أن أبا موسى كان يأمر بناته أن يذبحن نسائكهن بأيديهن
”ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اپنی بیٹیوں کو حکم کیا کرتے تھے کہ وہ اپنی قربانیاں اپنے ہاتھوں سے ذبح کریں۔ “
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ مستدرک حاکم میں واقع اس اثر کی سند صحیح ہے۔
فتح البارى : 25/10۔

فوائد:

① ابن تین رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث دلیل ہے کہ عورت قربانی ذبح کر سکتی ہے۔
فتح البارى : 25/10۔
② علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ نے اس اثر کی شرح بیان کی:
وفيه أن ذبح النساء نسائكهن يجوز إذا كن يحسن الذبح
اس اثر میں دلیل ہے کہ عورتیں اپنی قربانی کے جانور خود ذبح کر سکتی ہیں بشرطیکہ وہ ذبح کرنے میں مہارت رکھتی ہوں۔
عمدة الباري : 21/ 155۔
درج ذیل حدیث بھی واضح دلیل ہے کہ عورت جانور ذبح کر سکتی ہے اور عورت کے ذبیحے میں کسی قسم کی کوئی کراہت نہیں ۔
سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن امرأة ذبحت شاة بحجر، فسئل النبى صلى الله عليه وسلم عن ذلك فأمر بأكلها
بے شک ایک عورت نے پتھر کے ساتھ بکری ذبح کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی حلت کے بارے میں سوال ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے کھانے کا حکم دیا۔
صحيح بخاری کتاب الذبائح والصيد، باب ذبيحة المرأة والأمة : 5504۔

فوائد:

حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
فيه جواز أكل ما ذبحته المرأة سواء كانت حرة أو أمة، كبيرة أو صغيرة، مسلمة أو كتابية، طاهرا أو غير طاهر، لأنه صلى الله عليه وسلم أمر بأكل ما ذبحته ولم يستفصل، نص على ذلك الشافعي وهو قول الجمهور
اس میں بیان ہے کہ عورت جو جانور ذبح کرے اسے کھانا جائز ہے، خواہ ذبح کرنے والی عورت آزاد ہو یا باندی، بڑی عمر کی ہو یا چھوٹی عمر کی، مسلمان ہو یا اہل کتاب میں سے ہو، طاہر ہو یا غیر طاہر، عورت کا ذبیحہ حلال اور اسے کھانا جائز ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جانور کو کھانے کا حکم دیا جسے عورت نے ذبح کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تفصیل طلب نہیں کی گئی، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عورت کے ذبیحہ کھانے کا حکم مطلق جواز کی دلیل ہے۔ شافعی رحمہ اللہ نے اس پر نص بیان کی اور جمہور علماء کا بھی یہی موقف ہے۔
فتح الباري : 784،78/9۔