رسول اکرم ﷺ کی محبت کا حکم اور صحابۂ کرام کے عملی نمونے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد اقبال کیلانی کی کتاب "الولاء والبراء” سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

حکم الولاء لرسول اللٰہ صلی اللٰه علیہ وسلم

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت کرنے کا حکم

اللہ تعالیٰ کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسی محبت کرنا اہل ایمان پر فرض ہے جو باقی تمام محبتوں پر غالب ہو۔

❀ [قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالُۨ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ]
اے نبی! کہہ دو، اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے عزیز و اقارب، تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں، تمہاری تجارت جس کے مندا پڑنے کا تمہیں ڈر ہے اور تمہارے پسندیدہ گھر، تمہیں اللہ اس کے رسول اور اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آجائے (اور یاد رکھو) اللہ تعالیٰ ایسے فاسقوں کی راہنمائی نہیں فرماتا۔ (سورۃ التوبہ:24)
❀ [اِنَّ اللّٰہَ وَ مَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوۡنَ عَلَی النَّبِیِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا صَلُّوۡا عَلَیۡہِ وَ سَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا]
بے شک اللہ تعالیٰ اور فرشتے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں، اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! تم بھی نبی پر درود اور سلام بھیجو۔ (سورۃ الاحزاب:56)
❀ [عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يؤمن أحدكم، حتى أكون أحب إليه من، ولده، ووالده، والناس أجمعين]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ اپنے باپ (اور ماں)، اپنے بیٹے (اور بیٹیوں) اور سارے لوگوں سے بڑھ کر میرے ساتھ محبت نہ کرے۔ [صحیح المسلم:44]
❀ [عن أنس، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يؤمن عبد، حتى أكون أحب إليه من أهله وماله والناس أجمعين]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک وہ میرے ساتھ اپنے اہل، مال اور سارے لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرے۔ [صحیح المسلم:44]

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک اہل ایمان کے لئے ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ عزیز اور محترم ہے۔

❀ [اَلنَّبِیُّ اَوۡلٰی بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡ اَنۡفُسِہِمۡ وَ اَزۡوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمۡ ؕ]
نبی کی ذات اہل ایمان کے لئے ان کی اپنی جانوں سے بھی مقدم ہے اور نبی کی بیویاں اہل ایمان کی مائیں ہیں۔ (سورۃ الاحزاب6)
❀ [عن عبد الله بن هشام، قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم، وهو آخذ بيد عمر بن الخطاب، فقال له عمر: يا رسول الله، لأنت أحب إلي من كل شيء إلا من نفسي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا والذي نفسي بيده، حتى أكون أحب إليك من نفسك، فقال له عمر: فإنه الآن والله لأنت أحب إلي من نفسي، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: الآن يا عمر]
سیدنا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے میری ذات کے علاوہ باقی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں! قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے (تم اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے) جب تک میرے ساتھ اپنی جان سے بھی زیادہ محبت نہ کرو۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اب تو آپ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عمر! اب تم پورے مومن ہو۔ [صحیح البخاری:6632]

سیدنا ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔

❀ [عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه, أن رسول الله صلى الله عليه وسلم جلس على المنبر، فقال: إن عبدا خيره الله بين أن يؤتيه من زهرة الدنيا ما شاء, وبين ما عنده فاختار ما عنده فبكى أبو بكر، وقال: فديناك بآبائنا وأمهاتنا فعجبنا له، وقال الناس: انظروا إلى هذا الشيخ يخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عبد خيره الله بين أن يؤتيه من زهرة الدنيا وبين ما عنده وهو، يقول: فديناك بآبائنا وأمهاتنا ، فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو المخير وكان أبو بكر هو أعلمنا به]
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے اگر وہ چاہے تو اللہ سے دنیا کی نعمتیں حاصل کرلے، اور اگر وہ چاہے تو (آخرت میں) اللہ کے پاس جو ہے وہ لے لے، اس بندے نے وہ اختیار کیا ہے جو اللہ کے پاس ہے۔ یہ سن کر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہا: ہمارے ماں باپ آپ پر قربان۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی اس بات پر ہمیں تعجب ہوا، لوگوں نے کہا: دیکھو اس بوڑھے شخص کو (بلا وجہ رو رہا ہے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو ایک بندے کا ذکر فرمایا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں میں سے اور آخرت کی نعمتوں میں سے ایک منتخب کرنے کا اختیار دیا ہے اور ابو بکر کہہ رہے ہیں: آپ پر ہمارے ماں باپ قربان! حالانکہ وہ "اختیار دیا گیا بندہ” تو خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ واقعی ہم سے پہلے آپ کی بات کو سمجھے تھے۔ [صحیح البخاری:3904]

انصار کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔

❀ [عن أنس بن مالك، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أفرد يوم أحد في سبعة من الأنصار ورجلين من قريش، فلما رهقوه، قال: من يردهم عنا وله الجنة أو هو رفيقي في الجنة، فتقدم رجل من الأنصار فقاتل حتى قتل ثم رهقوه أيضا، فقال: من يردهم عنا وله الجنة أو هو رفيقي في الجنة، فتقدم رجل من الأنصار فقاتل حتى قتل فلم يزل كذلك حتى قتل السبعة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لصاحبيه: ما أنصفنا أصحابنا]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جنگ احد کے دوران ایک موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف سات انصاری اور دو قریشیوں کے ساتھ سارے لشکر سے الگ ہو گئے تو کافروں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم (کوقتل کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم) پر زبردست ہجوم کردیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کون ان کافروں کو ہم سے دور کرتا ہے اس کے لئے جنت ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جنت میں میرا رفیق ہوگا۔ انصار میں سے ایک آدمی آگے بڑھا، لڑا حتّٰی کہ وہ شہید ہوگیا۔ پھر کفار نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجوم کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی بات دہرائی کون ہے جو انہیں ہم سے دور کرے؟ اس کے لئے جنت ہے یا فرمایا جنت میں وہ میرا رفیق ہوگا۔ ایک اور انصاری آگے بڑھا، مقابلہ کیا اور مارا گیا۔ اسی طرح ہوتا رہا حتی کہ ساتوں انصاری باری باری شہید ہوگئے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنے قریشی) ساتھیوں سے فرمایا: ہم نے اپنے انصاری ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ (یعنی قریشی جوانوں کو بھی آگے بڑھنا چاہئے تھا) [صحیح المسلم:1789]

وضاحت:

ہم نے اپنے ساتھیوں سے انصاف نہیں کیا۔ سے مراد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنی جان بچانے کی فکر میں تتر بتر ہوگئے۔۔۔ انہوں نے میری حفاظت کرنے والے صحابہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ واللہ اعلم بالصواب!

سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔

❀ [عن عبد الرحمن بن عوفٍ قال: إنّي لواقفٌ يوم بدرٍ في الصفّ، فنظرتُ عن يميني وشمالي، فإذا أنا بين غُلامين من الأنصار حديثةٍ أسنانُهما، فتمنّيتُ أن أكُون بين أَظلَعَ منهما، فغمزني أحدُهما فقال: يا عمّ، أتعرفُ أبا جهلٍ؟ فقلتُ: نعم، وما حاجتُك إليه؟ قال: أُخبرتُ أنّه يسُبُّ رسول اللَّه صلى الله عليه وسلم، والذي نفسي بيده لئن رأيتُه، لا يُفارقُ سوادي سوادَه حتى يموت الأعجلُ منا فتعجّبتُ لذلك، فغمزني الآخرُ فقال لي أيضًا مثلها، فلم أنشب أن نظرتُ إلى أبي جهلٍ وهو يجُولُ في الناس، فقلتُ: ألا تريان؟ هذا صاحبُكم الذي تسألان عنه. فابتدراه بسيفيهما، فضرباه حتى قتلاه]
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کہ بدر کے روز میں صف میں کھڑا تھا میں نے دیکھا کہ اچانک میرے دائیں، بائیں انصار کے دو نوجوان کھڑے ہیں۔ میں نے خواہش کی کہ میں (کم عمر جوانوں کے بجائے اس میدان میں) کڑیل، بہادر جوانوں کے درمیان ہوتا۔ ان دونوں میں سے ایک نے مجھے اشارے سے متوجہ کرکے پوچھا: چچا جان! آپ کو معلوم ہے ابو جہل کون ہے؟ میں نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے لیکن تم اسے کیا کہو گے؟ اس نے کہا مجھے معلوم ہوا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتاہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اسے دیکھ لیاتو میرا وجود اس کے وجود سے اس وقت تک الگ نہیں ہوگا جب تک کہ ہم میں سے جس کی موت پہلے لکھی ہے وہ مرنہ جائے۔ مجھے اس نوجوان کی بات پر تعجب ہوا اتنے میں دوسرے نوجوان نے مجھے اشارے سے متوجہ کر کے یہی بات پوچھی چند ہی لمحوں میں میری نظر ابوجہل پر پڑی وہ لوگوں کے درمیان چکر لگا رہا تھا۔ میں نے دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ارے دیکھتے نہیں، وہ رہا ابوجہل جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے۔ یہ سنتے ہی دونوں اپنی تلواروں کے ساتھ یک دم جھپٹ پڑے اور اسے قتل کر ڈالا۔ [البداية والنهاية-ط دار ابن كثير:4/81]

سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔

❀ [عن أنس بن مالك، قال: لما كان يوم أحد انهزم ناس من الناس، عن النبي صلى الله عليه وسلم، وأبو طلحة بين يدي النبي صلى الله عليه وسلم مجوب عليه بحجفة، قال: وكان أبو طلحة رجلا راميا شديد النزع وكسر يومئذ قوسين أو ثلاثا، قال: فكان الرجل يمر معه الجعبة من النبل، فيقول: انثرها لأبي طلحة، قال: ويشرف نبي الله صلى الله عليه وسلم ينظر إلى القوم، فيقول أبو طلحة: يا نبي الله، بأبي أنت وأمي لا تشرف لا يصبك سهم من سهام القوم نحري دون نحرك]
سیدنا انس (بن مالک) رضی اللہ عنہ کہتے ہیں احد کے روز شکست کھانے کی وجہ سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے الگ ہو گئے۔ صرف ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہ گئے۔ وہ اپنی ڈھال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر کئے ہوئے تھے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ زبردست تیر انداز تھے اس روز ان کے ہاتھوں دو یا تین کمانیں ٹوٹیں۔ جب کوئی صحابی تیروں کا ترکش لے کر نکلتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے: یہ تیر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے لئے رکھ دو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنا سر مبارک اونچا کر کے کافروں کی طرف دیکھتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! میرے ماں باپ آپ پر قربان آپ سر مبارک اونچا نہ کریں کہیں کسی کافر کا تیر آپ کو نہ لگے۔ میرا سینہ آپ کے سینہ کے آگے ہے۔ [صحیح المسلم:1811]

سیدنا خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی رسول اللہ سے محبت۔

❀ [عن عروة بن الزبير في حديث طويل۔۔۔۔۔۔۔۔وقتل خبيب بن عدي أبناء المشركين الذين قتلوا يوم بدر، فلما وضعوا فيه السلاح وهو مصلوب نادوه وناشدوه: أتحب محمدا مكانك؟ فقال: لا والله العظيم ما أحب أن يفديني بشوكة يشاكها في قدمه، فضحكوا]
سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جن مشرکین کے آباؤ اجداد بدر میں قتل ہوئے تھے وہ جب سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ کو قتل کرنے لگے تو انہیں قسم دے کر پوچھا: کیا تمہیں یہ پسند ہے کہ تمہاری جگہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے اور تم سولی پانے سے بچ جاتے؟ سیدنا خبیب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں، اللہ بزرگ وبرتر کی قسم! مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میری جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک میں کانٹا بھی چبھے۔ اس پر مشرکین نے قہقہہ لگایا۔
[المعجم الکبیر للطبرانی:5284]

سیدنا ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔

❀ [حدثني ربيعة بن كعب الأسلمي، قال: كنت أبيت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأتيته بوضوئه وحاجته، فقال لي: سل، فقلت: أسألك مرافقتك في الجنة؟ قال: أو غير ذلك، قلت: هو ذاك، قال: فأعني على نفسك، بكثرة السجود]
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں بسر کرتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کا پانی اور دوسری ضرورت کی چیزیں لایاکرتا (ایک روز) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (خوش ہو کر) ارشاد فرمایا: کوئی چیز (مانگنا چاہو) تو مانگو میں نے عرض کیا جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت چاہتاہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھاکچھ اور؟میں نے عرض کیا: بس یہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کثرت سجود کے ساتھ میری مدد کر (تاکہ تمہارے لئے سفارش کرنا میرے لئے آسان ہوجائے)۔ [صحیح المسلم:489]

کھجور کے تنے کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔

❀ [عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما، أن النبي صلى الله عليه وسلم، كان يقوم يوم الجمعة إلى شجرة أو نخلة، فقالت: امرأة من الأنصار أو رجل يا رسول الله ألا نجعل لك منبرا، قال: إن شئتم فجعلوا له منبرا فلما كان يوم الجمعة دفع إلى المنبر فصاحت النخلة صياح الصبي، ثم نزل النبي صلى الله عليه وسلم فضمه إليه تئن أنين الصبي الذي يسكن قال: كانت تبكي على ما كانت تسمع من الذكر عندها]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن ایک درخت یا کھجور (کے تنے) سے ٹیک لگا کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ انصار کی ایک خاتون یا ایک مرد نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ کے لئے ایک منبر نہ بنوادیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو بنوادو، انہوں نے آپ کے لئے ایک منبر بنوا دیا جب جمعہ کا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لے گئے۔ کھجور کا تنا اس طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا جیسے بچہ چلا کر روتاہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر سے اترے درخت کو اپنے سینے سے لگایا تو وہ اس بچے کی طرح باریک آواز نکالنے لگا جس کو تسلی دی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ اس لئے روتا ہے کہ پہلے میرے قریب ہونے کی وجہ سے اللہ کا ذکر سنتا تھا۔ [صحیح البخاری:3584]

وضاحت:

حسن بصری رحمہ اللہ جب یہ حدیث بیان کرتے تو روتے اور کہتے اللہ کے بندو ایک سوکھی لکڑی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جدائی پر روئی تھی ہمیں تو اس سے زیادہ رونا چاہئے۔ (حاشیہ مشکوٰۃ المصابیح،مطبوعہ مکتبہ اثریہ)

احد پہاڑ کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت۔

[عن قتادة، سمعت أنسا رضي الله عنه, أن النبي صلى الله عليه وسلم, قال: هذا جبل يحبنا ونحبه]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (خیبر سے لوٹتے وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو احد پہاڑ نظر آیا تو فرمایا: یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ [صحیح البخاری:4083]