ترکِ دنیا کی خاطر شادی نہ کرنے کی ممانعت
① سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے ترکِ دنیا کی خاطر شادی نہ کرنے (تبتل) کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع کر دیا۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اجازت دے دیتے تو ہم خصی ہو جاتے۔
بخاری، کتاب النكاح 5073۔ مسلم، كتاب النكاح 1402/6۔
② سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترکِ دنیا (کی خاطر شادی نہ کرنے) سے منع کیا ہے۔
ایک روایت میں اضافہ کرتے ہوئے سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی:
﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّن قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً﴾
”اور یقیناً ہم نے آپ سے پہلے بھی کئی رسول مبعوث کیے اور ان کے لیے بیویاں اور اولاد بنائیں“۔
ترمذی، کتاب النکاح 1082، نسائی، کتاب النکاح 4904/6 ، باب النهي عن التبتل۔
پھوپھی بھتیجی اور خالہ بھانجی سے ایک ساتھ نکاح کرنے کی ممانعت
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجمع بين المرأة وعمتها ، ولا بين المرأة وخالتها
”عورت سے اس کی پھوپھی کی موجودگی میں (یعنی پھوپھی اور بھتیجی) اور عورت سے اس کی خالہ کی موجودگی میں (یعنی خالہ اور بھانجی) ایک ساتھ نکاح نہیں ہو سکتا“۔
بخاري، كتاب النكاح 5109۔ مسلم، كتاب النكاح 33 / 1408۔
غلام کا اپنے مالک کی اجازت کے بغیر شادی کرنا منع ہے
① سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما عبد تزوج بغير إذن مواليه فهو عاهر
”جو غلام بھی اپنے مالکوں کی اجازت کے بغیر شادی کرتا ہے، وہ زانی ہے“۔
ابوداؤد، کتاب النکاح 2078۔ ترمذی، کتاب النكاح 1111۔