ذکر کی فضیلت قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو حمزہ عبدالخالق صدیقی کی کتاب صحیح فضائل اعمال سے ماخوذ ہے۔

ذکر کی فضیلت

ذاکرین کے لیے اللہ نے ارشاد فرمایا ہے:
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ ‎
”آگاہ رہیے کہ اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان ملتا ہے۔“
(13-الرعد:28)
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
”اپنے رب کو یاد کرنے والے اور نہ کرنے والے کی مثال زندہ اور مردہ جیسی ہے۔“
صحیح بخاری، کتاب الدعوات، رقم : 6308 .
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا﴾
”اے ایمان والو! اللہ تعالیٰ کو بہت ہی کثرت سے یاد کرو ۔“
(33-الأحزاب:41)
اور مزید فرمایا :
﴿وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا .﴾
”اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور عورتیں اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے مغفرت اور اجر عظیم تیار کر رکھا ہے ۔“
(33-الأحزاب:35)