قیامِ جنازہ اور تعظیمی قیام: ایک شرعی و تحقیقی جائزہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب آمد مصطفےٰﷺ سے ماخوذ ہے۔

جنازہ کے لیے کھڑا ہونا

سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک شخص نے پوچھا کہ کافر کے جنازے کے لیے کھڑے ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
نعم، قوموا لها، فإنكم لستم تقومون لها، إنما تقومون إعظاما للذي يقبض النفوس .
”ہاں! آپ اس کو دیکھ کر کھڑے ہوا کریں، کیوں کہ آپ اس میت کی تعظیم میں کھڑے نہیں ہوتے، بلکہ اس ذات کی تعظیم کے لیے کھڑے ہوتے ہو، جو روحوں کو قبض کرتی ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 168/2 ، مسند عبد بن حميد : 1340 ، المعجم الكبير للطبراني : 13/17 ح : 47 وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (3035) امام حاکم رحمہ اللہ (1/ 357) نے صحیح کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
رجال أحمد ثقات .
”اس روایت میں مسند احمد کے راوی ثقہ ہیں۔“
(مجمع الزوائد : 27/3)
علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”حسن“ کہا ہے۔
(نخب الأفكار في تنقيح مباني الأخبار في شرح معاني الآثا ر : 275/7)
ربیعہ بن سیف معافری جمہور کے نزدیک ”حسن الحدیث“ ہے۔
◈ امام طبرانی رحمہ اللہ کے الفاظ یہ ہیں :
إنما تقومون لمن معها من الملائكة .
”آپ تو ان کے ساتھ موجود فرشتوں کی وجہ سے کھڑے ہوتے ہیں۔“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
مر على النبى صلى الله عليه وسلم بجنازة، فقام وقال: قوموا؛ فإن للموت فزعا .
”ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے جنازہ گزرا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، فرمایا : کھڑے ہو جائیں، کیوں کہ موت کی ایک گھبراہٹ ہوتی ہے۔“
(مسند الإمام أحمد : 287/2 ، سنن ابن ماجه : 1543 وسنده حسن)
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”حسن“ کہا ہے۔
(مجمع الزوائد : 27/3)
◈ حافظ بوصیری رحمہ اللہ کہتے ہیں :
هذا إسناد صحيح، رجاله ثقات .
”یہ سند صحیح اور راوی ثقہ ہیں۔“
(مصباح الزجاجة : 37/2 ح : 556)
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (م : 852ھ) ان احادیث میں تطبیق دیتے ہیں :
لأن القيام للفزع من الموت فيه تعظيم لأمر الله، وتعظيم للقائمين بأمره فى ذلك، وهم الملائكة .
”موت کی سختی کی وجہ سے کھڑا ہونا دراصل اللہ تعالیٰ کے امر اور ان فرشتوں کی تعظیم ہے، جو اللہ تعالیٰ کے مامور کردہ ہیں۔“
(فتح الباري : 180/3)
یاد رہے کہ جنازہ کو دیکھ کر کھڑا ہونا جائز اور مستحب ہے۔ اس کا وجوب منسوخ ہو چکا ہے، جب کہ استحباب باقی ہے۔
قارئین کرام ! اب ہم دوبارہ تعظیمی قیام کی طرف آتے ہیں۔ یہ تو آپ نے جان لیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر یا درود پڑھنے کے لیے یا ذکر میلاد پر کھڑا ہونا کسی وضعی اور من گھڑت روایت سے بھی ثابت نہیں، دوسرے لفظوں میں یہ کہیے کہ قرآن وحدیث میں اس کا قطعاً کوئی ثبوت نہیں، لہذا یہ بدعت ہے۔

سلف صالحین کا قیام

◈ مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب (م : 1391ھ) لکھتے ہیں :
”ان (نبی صلی اللہ علیہ وسلم) کے ذکر پر کھڑا ہونا سنت سلف صالحین ہے۔“
(جاء الحق : 252/1)
یہ سلف کی عجیب سنت ہے کہ کسی صحابی، تابعی یا تبع تابعی، حتی کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ سے بھی قطعاً اس کا ثبوت نہیں ملتا۔ اس پہ ہم کیا تبصرہ کریں؟
◈ مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں :
ولادت پاک کے وقت ملائکہ در دولت پر کھڑے ہوئے تھے۔ اس لیے ولادت کے ذکر پر کھڑا ہونا فعل ملائکہ سے مشابہ ہے۔
(جاء الحق : 253/1)
یہ بے اصل اور بے ثبوت ہے۔ فرشتوں سے ہماری ملاقات ممکن نہیں اور روایت اس پر کوئی ملتی نہیں، مفتی صاحب کو جانے کیسے علم ہو گیا؟
◈ مزید لکھتے ہیں :
”حضور علیہ السلام نے اپنے اوصاف اور اپنا نسب شریف منبر پر کھڑے ہوکر بیان فرمایا تو اس قیام کی اصل مل گئی۔“
(جاء الحق: جلد 1، ص 253)
یہ روایت مسند احمد (210/1) اور سنن ترمذی (3608 وقال : حسن صحیح) میں موجود ہے۔ اس کی سند ”ضعیف“ ہے۔ یزید بن ابی زیاد جمہور کے نزدیک ”ضعیف“ ہے۔
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (م : 852ھ) فرماتے ہیں :
ضعيف، كبر ، فتغير، صار يتلقن ، وكان شيعيا .
”یہ ضعیف راوی تھا۔ بوڑھا ہوکر اس کا حافظہ خراب ہو گیا تھا اور یہ لوگوں کی باتوں میں آنے لگا تھا، نیز شیعہ تھا۔“
(تقریب التهذيب : 7717)
◈ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
وقد ضعفه جمهور الأئمة .
”اسے جمہور ائمہ نے ضعیف کہا ہے۔“
(مجمع الزوائد : 56/5۔57)
◈ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
الجمهور على تضعيف حديثه .
”جمہور اس کی حدیث کو ضعیف کہتے ہیں۔“
(ھدی الساري ص : 459)
◈ علامہ بوصیری رحمہ اللہ کہتے ہیں :
أخرجه مسلم فى المتابعات، ضعفه الجمهور .
”امام مسلم رحمہ اللہ نے اس کی حدیث متابعات میں بیان کی ہے۔ جمہور اسے ضعیف قرار دیتے ہیں۔“
(زوائد ابن ماجہ : 705)
اس میں سفیان ثوری رحمہ اللہ کی ”تدلیس“ بھی ہے۔ لہذا یہ روایت ضعیف ہوئی، تو اس پر قائم استدلال کیا ہوا؟
◈ مفتی صاحب لکھتے ہیں :
”شریعت نے اس کو منع نہ کیا اور ہر ملک کے عام مسلمان اس کو ثواب سمجھ کر کرتے ہیں اور جس کام کو مسلمان اچھا جانیں، وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔“
(جاء الحق : 253/1)
شرعی احکام میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا اذن واجازت ضروری ہوتی ہے۔ کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہ اللہ اور ائمہ عظام رحمہ اللہ کا اس پر عمل ہے؟ کیا وہ بھی اسے اچھا سمجھتے تھے؟ اگر جواب ہاں میں ہے، تو یہ عمل اللہ کے ہاں بھی اچھا ہوگا، لیکن اگر جواب نفی میں ہے، تو اس کے بدعت سیئہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔
◈ اللہ رب العزت اس بات کو یوں بیان کرتے ہیں :
أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا
”کیا جس کے لیے اس کا برا عمل (بدعت) مزین کر دیا جاتا ہے اور وہ اسے اچھا سمجھنے لگتا ہے۔“
(سورۃ فاطر : 8)
قاعدہ یاد رہے کہ اولاً تو بدعات عمومی دلائل کے تحت آتی نہیں۔ دوسرے یہ کہ اس طریقہ سے سلف صالحین رضی اللہ عنہم کے بارے میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے کہ وہ تو ان دلائل سے کچھ نہ سمجھ پائے، جن سے آج کے لوگوں نے دین کشید کر لیا ہے۔

نئی دریافت

ایک صاحب کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام کھڑے ہوکر پڑھنا انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت ہے، جیسا کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سفر معراج بیان کرتے ہوئے فرمایا :
مررت على موسى، وهو يصلي فى قبره .
”میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا، تو وہ قبر میں نماز پڑھ رہے تھے۔“
(صحیح مسلم : 268/2 ح : 2375)
◈ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں بھی فرمایا :
إذا إبراهيم قائم يصلي .
”ابراہیم علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔“
(صحیح مسلم : 172)
◈ سیدنا عیسی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا :
إذا عيسى ابن مريم قائم يصلي .
”عیسی ابن مریم علیہما السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔“
(صحیح مسلم : 172)
ان صاحب کا کہنا ہے کہ لفظ صلوٰۃ کا معنی یہاں نماز نہیں، بلکہ درود وسلام پڑھنا ہے، کیونکہ صلوٰۃ کا لفظ صرف نماز کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتا، بلکہ رحمت بھیجنا، تعریف کرنا اور درود و سلام پڑھنے جیسے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
بے شک لفظ صلوۃ کے کئی معانی ہیں، لیکن مذکورہ بالا احادیث میں درود وسلام کا معنی کرنا عربیت سے عدم واقفیت کا ثبوت، حدیث کی معنوی تحریف اور سلف صالحین رضی اللہ عنہم کی مخالفت ہے۔
یہاں صلوٰۃ کا لفظ درود وسلام کے معنی میں ہو ہی نہیں سکتا، کیوں کہ سلف صالحین رضی اللہ عنہم میں سے کسی نے بھی یہ معنی و مفہوم بیان نہیں کیا۔ صلوٰۃ کا لفظ اسی وقت درود و سلام کے معنی میں ہوگا، جب اس کے بعد علي صله آئے۔
احادیث میں انبیاء علیہم السلام کے بارے میں قائم يصلي فى قبره کے لفظ ہیں : قائم يصلي عليه فى قبره کے نہیں۔ لہذا ہمارے محترم کے استدلال کا سقم اس سے واضح ہو جاتا ہے۔
◈ علامہ عبدالرؤف مناوی رحمہ اللہ (م : 1031ھ) لکھتے ہیں :
أى يدعو ويثني عليه ويذكره، فالمراد الصلاة اللغوية، وهى الدعاء والثناء، وقيل المراد الشرعية، وعليه القرطبي .
”یعنی وہ دعا کر رہے تھے، اللہ کی حمد وثنا اور اس کا ذکر کر رہے تھے۔ لہذا یہاں مراد لغوی صلاۃ ہے، جو دعا اور حمد وثنا کے معنی میں ہے۔ ایک قول کے مطابق شرعی نماز مراد ہے۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے۔“
(فیض القدیر : 519/5 – 520)
انبیا علیہم السلام کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بھی قبر میں نماز پڑھنا ثابت ہے، جیسا کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
مؤمن کو قبر میں بیٹھنے کا کہا جائے گا، وہ بیٹھ جائے گا۔ اسے سورج غروب ہوتا دکھایا جائے گا اور کہا جائے گا : وہ آدمی جو تم میں مبعوث ہوا تھا، اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ کی گواہی اس کے متعلق کیا ہے؟ کہے گا :
دعوني حتى أصلي، فيقولون: إنك ستفعل، فأخبرني عما نسألك عنه .
”مجھے چھوڑو کہ میں (عصر کی) نماز پڑھ لوں۔ فرشتے کہیں گے : پہلے سوال کا جواب دے دو، پھر نماز پڑھ لینا۔“
(صحیح ابن حبان : 3113، المستدرك للحاكم : 379/1- 380 وسنده حسن)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
حافظ ہیثمی رحمہ اللہ نے بھی اس کی سند کو ”حسن“ کہا ہے۔
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد : 51/3- 52)
◈ ثابت بنانی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے :
أللهم إن كنت أعطيت أحدا أن يصلي لك فى قبره؛ فأعطني ذلك .
”اے اللہ! اگر تو کسی کو قبر میں اپنے لیے نماز پڑھنے کی توفیق دے، تو مجھے توفیق دینا۔“
(مسند علي بن الجعد : 1379 ، المعرفة والتاريخ للفسوي : 59/2 ، شعب الإيمان للبيهقي : 155/3 ح : 1391 وسنده صحيح)
عظیم تابعی کے اس قول سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبر میں صلوۃ سے مراد نماز ہی ہے، نہ کہ درود وغیرہ۔
◈ علامہ ابن الحاج رحمہ اللہ (م : 737ھ) ایک بدعت کے رد میں لکھتے ہیں :
ما حدث بعد السلف رضي الله عنهم لا يخلو إما أن يكونوا علموه، وعلموا أنه موافق للشريعة ولم يعملوا به، ومعاذ الله أن يكون ذلك، إذ إنه يلزم منه تنقيصهم وتفضيل من بعدهم عليهم، ومعلوم أنهم أكمل الناس فى كل شيء، وأشدهم اتباعا، وإما أن يكونوا علموه وتركوا العمل به، ولم يتركوه إلا لموجب أوجب تركه، فكيف يمكن فعله؟ هذا مما لا يتحلل، وإما أن يكونوا لم يعلموه، فيكون من ادعى علمه بعدهم أعلم منهم، وأعرف بوجوه البر وأحرص عليها، ولو كان ذلك خيرا؛ لعلموه ولظهر لهم ، ومعلوم أنهم أعقل الناس وأعلمهم
”جو چیزیں سلف صالحین رضی اللہ عنہم کے بعد ظہور پذیر ہوئیں۔ وہ تین حالتوں سے خالی نہیں : یا تو سلف کو ان کا علم تھا اور یہ بھی معلوم تھا کہ وہ چیزیں شریعت کے موافق ہیں، اس کے باوجود انہوں نے ان پر عمل نہیں کیا۔ معاذ اللہ! ایسا تو ممکن نہیں، اس سے سلف صالحین کی تنقیص ہوتی ہے اور بعد والوں کی فضیلت و فوقیت ثابت ہوتی ہے۔ حالاں کہ وہ ہر چیز میں کامل تھے اور سب سے بڑھ کر شریعت کا اتباع کرنے والے تھے۔ دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ سلف صالحین کو ان چیزوں کا علم تو تھا، لیکن انہوں نے ان پر عمل چھوڑ دیا تھا۔ تو یہ عمل انہوں نے کسی ایسی دلیل کی وجہ سے چھوڑا تھا، جس سے ثابت ہوتا تھا کہ اس کو چھوڑنا واجب ہے۔ جب دلیل کی وجہ سے تھا تو اب اس عمل کو کرنا کیوں کر جائز ہوا؟ یہ تو ناجائز کاموں میں سے ہے۔ تیسری صورت یہ فرض کی جاسکتی ہے کہ سلف صالحین رضی اللہ عنہم کو ان چیزوں کا علم ہی نہیں تھا۔ لیکن تب یہ سوال پیدا ہوگا کہ بعد والوں کو اس کا علم کیسے ہوا؟ کیا بعد والے کے پاس سلف سے زیادہ علم ہے؟ وہ امور خیر کو زیادہ جانتا ہے اور نیکی پر زیادہ حریص ہے؟ حالانکہ اگر یہ نیکی کے کام ہوتے، تو سلف صالحین ان کو جانتے ہوتے۔ یہ بات مسلم ہے کہ وہ سب لوگوں سے بڑھ کر عقل مند اور عالم تھے۔“
(المدخل : 278/4)
الحاصل
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سن کر درود پڑھنے کے لیے کھڑا ہونا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے میلاد کے ذکر پر تعظیماً کھڑا ہونا بدعت ہے۔ اگر یہ نیکی کا کام ہوتا، تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، تابعین رحمہ اللہ اور ائمہ دین رحمہ اللہ اس سے قطعاً غافل نہ رہتے۔