قیامت کی نشانی : کفار مسلمانوں پر ٹوٹ پڑیں گے
عن ثوبان رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يوشك أن تداعى عليكم الأمم من كل أفي كما تداعى الأكلة على فضعتها قال : قلنا : يا رسول الله : أمن قلة بما يومئذ ؟ قال : أنتم يومئذ كثير ولكن تكونون غناء كعناء السيل يتزع المهابة من قلوب عدوكم ويجعل فى قلوبكم الوهن قال : قلنا : وما الوهن ؟ قال : حب الحياة وكراهية الموت
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ ، بیان کرتے ہیں کہ : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عنقریب (کافر) قومیں تمہارے خلاف اس طرح جمع ہو جائیں گی جس طرح بھوکے کھانے کے برتن پر جمع ہو جاتے ہیں۔ ہم نے دریافت کیا : کیا اس وقت ہم تعداد میں تھوڑے ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : (نہیں) بلکہ ان دنوں تمہاری تعداد زیادہ ہوگی لیکن تم سیلاب کی جھاگ کی طرح ہو جاؤ گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے دل سے تمہارے رعب ودبدبے کو نکال کر تمہارے دلوں میں (کمزوری) وھن ڈال دے گا۔ ہم نے پوچھا : یا رسول اللہ ! وھن کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دنیا سے محبت اور موت سے نفرت۔
احمد (350/5) ابو داؤد : کتاب الفتن والملاحم (4297) المعجم الكبير (101/2) ابن ابی شيبه (613/8) حلية الأولياء (182/1) السلسلة الصحيحة (647/2)
هو عن أبى هريرة رضى الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لشوبان : كيف أنت يا ثوبان إذا تداعت عليكم الأمم كتداعيكم على قصعة الطعام يصبون منه قال توبات : بابي وأمي يا رسوله الله ! أمن قلة بنا ؟ قال : لا ، أنتم يومئذ كثير ولكن يلقى فى قلوبكم الوهن قالوا : وما الوهن يا رسول الله ؟ قال حبكم الدنيا وكراهيتكم القتال
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ : آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے سنا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ثوبان رضی اللہ عنہ سے فرما رہے تھے ، اے ثوبان! اس وقت تمہارا (مسلمانوں) کیا حال ہو گا جب (کافر) اقوام تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی جس طرح تم کھانے کے برتن پر ٹوٹ پڑتے ہو اور وہ (کفار) تمہیں نقصان پہنچائیں گے۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! میرے والدین آپ پر قربان ، کیا اس وقت ہم قلیل تعداد میں ہوں گے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ تم اس دن کثیر تعداد میں ہو گے لیکن تمہارے دلوں میں وھن پیدا ہو جائے گا۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ! یہ وھن کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری دنیا سے محبت کرنا اور جہاد و قتال سے نفرت کرنا (وھن) ہے۔
(احمد (473/2) مجمع الزوائد (563/7)
فوائد :
➊ کافروں کا مسلمانوں کے خلاف مجتمع ہو جانا قیامت کی ایک نشانی ہے۔
➋ موجودہ حالات میں یہ نشانی بدرجہ اتم سامنے آچکی ہے کہ جب سے ”روس“ کے اشتراکی اور فوجی تسلط (Domination) کا خاتمہ ہوا ہے تب سے امریکہ اور اس کے تمام گماشتے مسلمانان عالم اور بلاد اسلامیہ کی زمینی اور فکری و نظری سرحدوں پر اپنی پوری قوت و استعداد کے ساتھ حملہ آور
ہو چکے ہیں۔
➌ تمام خلیجی عرب (اسلامی) ریاستوں کی سرحدوں پر یہود و نصاریٰ کی کڑی نگرانی ہے بلکہ در حقیقت خلیج عدن، خلیج فارس اور خلیج عمان میں امریکی بحری بیڑے ہر طرح کے جدید ہتھیاروں کے ساتھ چاک و چوبند کسی بھی خوفناک حملے کے لئے منتظر کھڑے ہیں۔ اس طرح پورے جزیرة العرب پر یہود و نصاریٰ کا مکمل کنٹرول ہے۔
➍ افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت کے خلاف امریکہ اور تمام اقوام کفار نے بلا جواز سینکڑوں من بارود برسا کر ہزاروں اور لاکھوں مسلمانوں کو نہایت وحشت و بربریت کے ساتھ تہہ تیغ کیا ہے اور ابھی بچی کچھی کسر نکالنے کے لئے تمام ٹھنڈے دندناتے پھر رہے ہیں۔
➎ امریکہ بدمعاش بھارت کو پاکستان کے خلاف اکسا رہا ہے تا کہ موقع پا کر پاکستان کا بھی افغانستان کا سا حشر کریں۔ یا اللہ پاکستان کے مسلمانوں کی حفاظت فرما۔ آمين