حدیث 29: کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جانے پر اسے ڈبو کر باہر نکالنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم میں سے کسی کے کھانے پینے کی چیز میں مکھی گر جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے غوطہ دے اور پھر اسے نکالے کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہے۔“
صحيح البخاري ، بدء الخلق، باب إذا وقع الذباب حديث : 3320، و مقام حدیث ص: 333
منکرین حدیث کی طرف سے اس حدیث پر یہ اعتراض ہے کہ مکھی اکثر گندی جگہوں پر بیٹھتی ہے اور اس میں جراثیم ہوتے ہیں جس سے بیماریاں پھیلتی ہیں اور حدیث میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر مشروب میں گر جائے تو اسے ڈبو دو اس عمل کو (بزعم خویش) مہذب لوگ بہت کراہت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اگر مکھی، پانی یا چائے میں گر جائے تو وہ اسے ضائع کر دیتے ہیں لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ اگر یہی مکھی دودھ کی بالٹی یا پگھلے ہوئے گھی یا شہد میں گر جائے تو اسے نہ گراتے ہیں، نہ ضائع کرتے ہیں، اس وقت ان نام نہاد مہذبین کو نہ جراثیم نظر آتے ہیں اور نہ ہی گندگی۔ ایمان والوں کا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر سو فیصد ایمان ہوتا ہے، اس کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے سائنسی تحقیقات نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کی سو فیصد تصدیق کر کے حجیت حدیث کی ایک اور واضح دلیل فراہم کر دی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ سائنس دان اپنی لیبارٹریوں میں بڑی جانفشانی سے مکھی کے ایک پر میں بیماری والے جراثیم اور دوسرے پر میں شفا والے جراثیم پر تحقیق کر کے جراثیم کش مواد کا وہ علم حاصل کرتے رہے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرمایا۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صدق رسالت اور اس حدیث کی صداقت پر صریح دلیل ہے لیکن منکرین حدیث نے اپنے متجاہلانہ طریقے پر ڈٹ کر اس حدیث کو محل اعتراض میں بیان کیا ہے، جبکہ ڈاکٹروں اور ماہرین نے مکھی کے متعلق جو لکھا ہے اس کے بعض نمونے درج ذیل ہیں:
مکھی کے جس پر میں زہریلا مادہ پیدا ہوتا ہے اسے بکٹیریا کش کہتے ہیں۔ مکھی کے ایک پر کا خاصہ یہ ہے کہ وہ بکٹیریا کو اس کے پیٹ سے ایک پہلو کی طرف منتقل کرتا رہتا ہے، لہذا مکھی جب کسی کھانے پینے کی چیز پر بیٹھتی ہے تو وہ پہلو سے چھٹے ہوئے جراثیم اس میں ڈال دیتی ہے۔ ان جراثیم سے بچانے والی پہلی چیز وہ بکٹیریا کش ہے جسے مکھی اپنے پیٹ میں ایک پر کے پاس اٹھائے ہوئے ہوتی ہے، لہذا چھٹے ہوئے زہریلے جراثیم اور ان کے عمل کو ہلاک کرنے کے لیے یہ چیز کافی ہے کہ پوری مکھی کو کھانے میں ڈبو کر باہر پھینک دیا جائے۔
تفہیم اسلام، ص: 455 شائع كرده جمعية الهداية الإسلامية بحوالہ آئینہ پرویزیت