خفیہ صدقہ کرنے کا ثواب
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
﴿الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾
”جو لوگ اپنا مال رات اور دن پوشیدہ اور ظاہر ( راہ حق میں ) خرچ کرتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے، اور ان کو (قیامت کے دن ) نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم۔“
(2-البقرة:274)
مزید ارشاد فرمایا:
﴿إِن تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ ۖ وَإِن تُخْفُوهَا وَتُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۚ وَيُكَفِّرُ عَنكُم مِّن سَيِّئَاتِكُمْ ۗ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾
”اگر تم صدقات و خیرات کو ظاہر کرتے ہو تو اچھی ہی بات ہے، اور اگر محتاجوں کو دیتے وقت اُسے چھپاتے ہو، تو تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ تمہارے گناہوں کو مٹادے گا، اور اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔“
(2-البقرة:271)
( مذکورہ آیت کے اندر ) اس بات کی دلیل ہے کہ صدقہ کو چھپانا افضل ہے تا کہ ریا کاری کا شبہ نہ رہے۔ لیکن اگر ظاہر کرنے میں کوئی دینی مصلحت ہو ، جیسے نیت یہ ہو کہ کارِ خیر میں دوسرے لوگ اس کی اقتداء کریں تو ظاہر کرنا ہی افضل ہوگا۔ اسی لیے جمہور مفسرین کی رائے ہے کہ چھپانے کی افضلیت نفلی صدقہ کے ساتھ خاص ہے۔ فرض صدقات و زکوٰۃ میں ظاہر کرنا ہی افضل ہے۔ (تيسر الرحمن، 1/ 100-156)
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ سات قسم کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنا سایہ نصیب کرے گا جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ ایک وہ آدمی جس نے (اس قدر خفیہ طور پر ) صدقہ کیا کہ بائیں ہاتھ کو کچھ پتہ نہیں کہ دائیں نے کیا خرچ کیا۔“
صحیح بخاری، کتاب الایمان، رقم: 660 – صحیح مسلم، كتاب الزكاة، رقم: 1031