اللہ تعالی کی حرام کردہ چیزوں پر غیرت کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يغار وإن المؤمن يغار وغيرة الله أن يأتى المؤمن ما حرم عليه
”بے شک اللہ غیرت کرتا ہے اور مومن بھی غیرت کرتا ہے اور اللہ کو اس پر غیرت آتی ہے کہ مومن کسی حرام چیز کا ارتکاب کرے۔“
بخاری، کتاب النکاح 5223، مسلم، کتاب التوبة 2761، ترمذی، کتاب الرضاع 1168۔
نفس کی تو نگری کے متعلق احکامات
① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليس الغنى عن كثرة العرض ولكن الغنى غنى النفس
”تونگری کثرتِ ساز و سامان کا نام نہیں، بلکہ تو نگری تو نفس کی تو نگری کا نام ہے۔“
بخاری، کتاب الرقاق 6446، مسلم، کتاب الزکاة 1051، ترمذی، کتاب الزہد 2373۔
لوگوں کے درمیان گمنام شخص
① سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أغبط أوليائي عندي لمؤمن خفيف الحاذ ذو حظ من الصلاة أحسن عبادة ربه وأطاعه فى السر وكان غامضا فى الناس لا يشار إليه بالأصابع وكان رزقه كفافا فصبر على ذلك ثم نقر بإصبعيه فقال عجلت منيته قلت بواكيه قل تراثه
”میرے اولیاء میں سے میرے نزدیک سب سے قابل رشک وہ مومن ہے جس کے بال بچے اور مال و دولت بہت کم ہو، نماز کی پابندی کرنے والا، اپنے رب کی اچھی طرح خوب عبادت کرنے والا اور مخفی طور پر بھی اللہ کی اطاعت کرنے والا، وہ لوگوں میں گمنام معمولی حیثیت رکھتا ہے، اس کی طرف انگلیاں نہیں اٹھتیں، اس کی روزی برابر برابری ہے، وہ اس پر صبر کرتا ہے۔ پھر اپنے ہاتھ سے خرچ اور ختم کرتا ہے، اس کی موت آتی ہے تو اس کے اختلافات بھی کم ہوتے ہیں، اس کی میراث انتہائی معمولی ہوتی ہے۔“
ترمذی، کتاب الزہد 2347، مسند احمد، باقی مسند الانصار 5 / 252۔ روایت انتہائی ضعیف ہے۔ اس کی سند میں عبید اللہ بن زمر ضعیف اور علی بن یزید انتہائی ضعیف ہے۔