لوگوں پر جھوٹ باندھنے، کثرت سوال اور لعنت بھیجنے کی ممانعت

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ حسین بن مبارک الموصلی کی عربی کتاب الاوامر والنواهي سے ماخوذ ہے جس کا اُردو ترجمہ محمد سرور گوہر صاحب نے احکامات و ممنوعات کے نام سے کیا ہے۔

لوگوں پر جھوٹ باندھنے کی ممانعت

① سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
كفى بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع
”آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات آگے بیان کر دے۔“
مسلم، المقدمه 5/5، ابوداؤد، کتاب الادب 4992۔
② سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا كذب العبد تباعد عنه الملك ميلا من نتن ما جاء به
”جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس سے اٹھنے والے تعفن کی وجہ سے فرشتہ ایک میل دور چلا جاتا ہے۔“
ترمذی، کتاب البر والصلة 1972، أبو نعيم في الحليه 197/8۔
③ صفوان بن سلیم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کیا مومن کذاب ہو سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“۔
موطا، كتاب الجامع 2/ 990، حدیث 19۔
④ سیدنا سفیان بن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
كبرت خيانة أن تحدث أخاك حديثا هو لك به مصدق، وأنت له به كاذب
”سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ تم اپنے بھائی سے کوئی بات کرو جبکہ وہ تمہیں سچا سمجھتا ہو اور تم اس سے کذب بیانی کر رہے ہو۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4971۔

کثرت سوال کی ممانعت

① سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات، ومنعا وهات، ووأد البنات، وكره لكم قيل وقال، وكثرة السؤال، وإضاعة المال
”اللہ نے تم پر ماؤں کی نافرمانی کرنا، خود نہ دینا اور دوسروں سے مانگتے رہنا اور لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا حرام قرار دیا ہے؛ جبکہ سنی سنائی بات کو آگے پہنچانا، کثرت سوال اور بربادی مال کو تمہارے لیے ناپسند فرمایا ہے۔“
بخارى، كتاب فى الاستقراض واداء الديون والحجر والتغليس 2408، مسلم، کتاب الاقضية 593/12۔

لعنت بھیجنے کی ممانعت

① سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن اللعانين لا يكونون شهداء ولا شفعاء يوم القيامة
”لعنت کرنے والے قیامت کے دن گواہ بن سکیں گے نہ سفارشی۔“
مسلم، كتاب البر والصلة والآداب 2598/85۔ مسند احمد، من مسند القبائل 4716، حدیث 27597۔
② سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا ينبغي لصديق أن يكون لعانا
”صدیق (راست باز شخص) کی یہ شان نہیں کہ وہ لعن طعن کرنے والا ہو۔“
مسلم، البر والصلة والآداب 2597/84۔مسند احمد، باقی مسند المكثرين 2 / 450، حديث 8468۔
③ سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تلاعنوا بلعنة الله ولا بغضبه ولا بالنار
”تم ایک دوسرے کو اللہ کی لعنت، اس کے غضب اور جہنم کی لعنت نہ دیا کرو۔“
ابو داؤد، کتاب الادب 4906، ترمذی، کتاب البر والصلة 1976۔
④ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إذا لعن العبد شيئا صعدت اللعنة إلى السماء، فتغلق أبواب السماء دونها، ثم تهبط إلى الأرض، فتغلق أبوابها دونها، ثم تأخذ يمينا وشمالا، فإذا لم تجد مساغا رجعت إلى الذى لعن، فإن كان أهلا لذلك وإلا رجعت على قائلها
”جب بندہ کسی چیز پر لعنت کرتا ہے تو لعنت آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے، لیکن اس سے پہلے ہی آسمان کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ زمین کی طرف نازل ہوتی ہے لیکن اس کے دروازے بھی بند کر دیے جاتے ہیں، پھر وہ دائیں بائیں جاتی ہے، لیکن جب وہ کہیں راہ نہیں پاتی تو پھر جس شخص پر لعنت کی جاتی ہے اس کی طرف جاتی ہے اگر وہ اس کے اہل ہو تو ٹھیک ورنہ پھر وہ اس کے کہنے والے کی طرف لوٹ جاتی ہے۔“
ابوداؤد، کتاب الادب 4905۔
⑤ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے کسی سفر پر تھے اور ایک انصاری عورت اونٹنی پر سوار تھی اس نے اسے ڈانٹا اور اس پر لعنت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سن لیا تو فرمایا:
خذوا ما عليها ودعوها فإنها ملعونة
”اس (اونٹنی) پر جو کچھ ہے اسے لے لو اور اس کو چھوڑ دو کیونکہ وہ ملعونہ ہے۔“
سیدنا عمران رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ گویا کہ میں اب اسے لوگوں کے مابین چلتا ہوا دیکھ رہا ہوں اور اسے کوئی پیش کش نہیں کر رہا۔
مسلم، كتاب البر والصلة والآداب 2595/80، ابو داؤد، كتاب الجهاد 2561، مسند احمد، اول مسند البصريين 4 / 525۔
⑥ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ایک مرتبہ ایک لڑکی اونٹنی پر تھی اور اس پر لوگوں کا کچھ سامان بھی تھا۔ جب اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور درہ بھی تنگ ہو گیا تو اس نے اونٹنی کو ہانکتے اور ڈانٹتے ہوئے کہا: ”اے اللہ! اس پر لعنت فرما۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تصاحبنا ناقة عليها لعنة
”جس اونٹنی پر لعنت ہو وہ ہمارے ساتھ نہ چلے۔“
مسلم، كتاب البر والصلة والآداب 2596/82۔